ٹریفک وبالِ جان

ٹریفک وبالِ جان

  

 کسی بھی محفل میں بیٹھ کر ہم کڑھتے رہتے ہیں کہ وزیراعظم کو ایسا کرنا چاہئے، فلاں منسٹر کو یہ کرنا چاہئے، لیکن یہ نہیں کہتے کہ ہمیں بھی ایسا کرنا چاہئے۔ہر وقت تمام برائیوں کی جڑ دوسروں کو قرار دیتے رہتے ہیں، لیکن اپنے حصے کا کام کرنے کو ہم کبھی بھی تیار نہیں ہوتے۔آج میںصرف ٹریفک کے معاملات پر ہی بات کرنا چاہتا ہوں، جس پر کسی قانون سازی کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ پوری دنیا میں ٹریفک قوانین ایک جیسے ہی ہیں۔ جن ممالک میں ٹریفک قوانین پر عمل درآمد ہوتا ہے، وہاں عام آدمی کو زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، جس طرح ہمیں دوچار ہونا پڑ رہاہے۔کسی طرف بھی چلے جائیں، بے ہنگم ٹریفک نظر آتی ہے، ہر آدی کو جلدی ہے، پیدل چلنے والے ہوں یا سائیکل پر سوار، موٹر سائیکل رکشا پر ہوں یا کار میں، ویگن پر ہوں یا بس اور ٹرک میں، سب کے سب دوسرے سے پہلے گزرنا چاہتے ہیں، کوئی بھی ایک دوسرے کو راستہ دینے کو تیار نہیں،اسی وجہ سے ٹریفک کی روانی میں خلل اور حادثات میں قیمتی جانوں کا نقصان ہورہا ہے ۔آئے روز حادثات کی خبریں سننے اور دیکھنے کو ملتی ہیں،جن میں جانی و مالی نقصان کے علاوہ لڑائی جھگڑے الگ، عدالتوں اور پولیس پربھی زائد بوجھ پڑ رہا ہے۔

مجھے اتفاق سے برطانیہ میں کچھ عرصہ گزارنے کا موقع ملا، عام طور پر ہم اسے کفر کا معاشرہ کہتے ہیں، لیکن آپ یقین کریں کہ ہر شخص دوسرے کو راستہ دینے میں خوشی محسوس کرتے ہوئے پہل کرتا نظر آتا ہے۔ شاید وہ کسی کی محبت میں ایسا نہ کرتے ہوں، بلکہ اس لئے کہ دوسرے کی وجہ سے ٹریفک میں تعطل نہ آئے، وہ راستہ دیتے ہیں، جس کی وجہ سے بہت کم ایسے ہوتا ہے کہ ٹریفک جام ہوجائے۔ دوسری بات یہ کہ وہ اپنی لین بہت کم تبدیل کرتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ ڈر نہیں ہوتا کہ ابھی کوئی دوسری لین سے آپ کی لین میں داخل ہوجائے گا ، موٹر بائیک سوار ہیلمٹ کے بغیر سڑک پر نہیں آسکتا اور دن کے وقت بھی بائیک کی ہیڈ لائٹ آن رکھنا ضروری ہے، جس کی وجہ سے دور سے بائیک نظر آجاتا ہے۔لنک روڈ سے مین روڈ پر آنے والے کو وہاں رک کر انتظار کرنا پڑتا ہے۔ جب تک اسے راستہ نہ دیا جائے، وہ مین روڈ پر نہیں آسکتا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان معاملات کو مانیٹر کرنے کے لئے ٹریفک پولیس کا کہیں وجود نظر نہیں آتا،لیکن ہمارے ہاں تو لنک روڈ سے مین روڈ پر آنے والا دونوں طرف یا اگر ون وے ہے تو دائیں طرف دیکھنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتا، بلکہ آہستہ بھی نہیں ہوتا۔ برطانیہ میں بغیر ڈرائیونگ لائسنس اور انشورنس کے آپ بائیک ،کاروغیرہ سمیت کوئی بھی وہیکل سڑک پر لا ہی نہیں سکتے، انشورنس کی وجہ سے وہاں لڑائی جھگڑے نہیں ہوتے، حادثے کی صورت میں جس کی غلطی ہے، اس کی انشورنس کمپنی نقصان کا ازالہ کرتی ہے، بلکہ جسمانی چوٹ کا بھی ہرجانہ ادا کرتی ہے۔

 ہمارے ہاں اس کا کوئی تصور ہی نہیں ہے، جس کی وجہ سے حادثہ ہونے کی صورت میں وہاں لڑائی جھگڑے شروع ہوجاتے ہیں، بلکہ کئی مقامات پر تو ڈرائیور کو تشدد کرکے جان سے ہی مار دیا جاتا ہے۔ اللہ بھلا کرے موٹر وے پولیس، ریسکیو1122 اور بڑے شہروں میں ٹریفک وارڈنز کا، جن کی وجہ سے روزانہ سینکڑوں جانیں بچ رہی ہیں، اگر یہ تینوں ادارے خدانخواستہ نہ ہوتے تو پتہ نہیں ہمارا کیا حشر ہوتا؟ایک ہماری ٹریفک پولیس بھی ہے، جس کا کام صرف منتھلی وصول کرنا ہی رہ گیا ہے، حالانکہ ان کی ذمہ داری ہے کہ کم از کم ٹرانسپورٹ کی صورت حال پر چیک رکھے۔ ڈرائیونگ لائسنس، رجسٹریشن،روٹ پرمٹ کی جانچ پڑتال، مسافر بس کہاں سواری اتار رہی ہے، کہاں سے چڑھا رہی ہے وغیرہ وغیرہ۔

اس سلسلے میں کچھ گزارشات کرنا چاہتا ہوں کہ پہلی جماعت سے ٹریفک قوانین کے بارے میں آگہی کے لئے سلیبس میں ٹریفک قوانین کا باب رکھا جائے،تمام ڈرائیونگ لائسنس چیک کئے جائیں، اس میں سب سے پہلے پبلک ٹرانسپورٹ موٹر سائیکل، رکشا، ویگنوں، مسافر بسوں، ٹرکوں ٹرالروں کے ڈرائیوروں کو چیک کیا جائے۔ ٹریفک پولیس کو از سرنو موجودہ حالات کے مطابق تشکیل دیا جائے، رجسٹریشن کے بغیر کوئی بھی وہیکل سڑک پر نہ آئے، انشورنس کو لازمی قرار دیا جائے، وہیکل کی فروخت کرنے پر نئے خریدار کو مفت تبدیلی ملکیت کی سہولت دی جائے، جس کے فارم تمام ڈاکخانوں سے مفت دستیاب ہوں اور بذریعہ ڈاک نئے مالک کے رہائشی ایڈریس پر بلا معاوضہ پہنچانے کا بندوبست کیا جائے، اس سے ہر وہیکل کے مالک کا نام اور اس کا پتہ محکمے کے پاس ہو گا۔ اس وقت موجودہ صورت حال میں تو آدھی سے زیادہ سڑکوں پر چلنے والی وہیکل پرانے مالکوں کے ناموں پر ہی ہوں گی، جس سے بعض اوقات کئی مسائل سامنے آتے ہیں،جبکہ شہروں سمیت تمام قومی اور لنک شاہراہوں سے تجاوزات کا فوری خاتمہ کیا جائے۔

مندرجہ بالا گزارشات پر عمل کر کے ٹریفک حادثات میںکمی اور جانی و مالی نقصانات سے بچا جاسکتا ہے۔ موجودہ صاحبان اقتدار میں کوئی ہے، جو مندرجہ بالا گزارشات کو پڑھ کر ان پر عمل درآمد کے لئے احکامات جاری کرسکے ؟    ٭

مزید :

کالم -