پاک بھارت تعلقات

پاک بھارت تعلقات
پاک بھارت تعلقات

  

پاک بھارت تعلقات

پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات کی ایک کامیابی تو یہ تھی کہ ملاقات ہو گئی، کیونکہ اس ملاقات سے کچھ ہی عرصہ پہلے سرحدوں، خصوصاً لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کا تبادلہ معمول بن گیا تھا۔ ان میں دونوں اطراف سے لاشیں بھی اٹھائی گئیں۔ ایک دوسرے پر بلا اشتعال فائرنگ کرنے کے الزامات تو لگتے ہی رہتے ہیں، ایسے ماحول میں پیشرفت یا Compositeمذاکرات شروع کرنے کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی، ملاقات ہو گئی یہ بڑی کامیابی ہے۔

بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کی پاکستان سے تعلقات معمول پر لانے کی خواہش ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ 2007ءمیں جنرل پرویز مشرف ”بیک چینل ڈپلومیسی“ کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے حل کے قریب تھے، جو دونوں ملکوں کے عوام کے لئے قابل ِ قبول ہوتا، لیکن ”خفیہ ہاتھ“ حرکت میں آئے اور جنرل پرویز مشرف کے لئے بے شمار مسائل پیدا کر دیئے.... (جن میں اُن کی اپنی حماقتوں کا دخل بھی ہے).... جو بالآخر اُن کی اقتدار سے علیحدگی کی وجہ بن گئے۔ پھر2008ءمیں ممبئی پر حملوں.... (آج مختلف حقائق اور اندازے سامنے آ رہے ہیں) .... نے تو ”بول چال“ بھی بند کر دی اور ایسا ماحول بن گیا کہ ”امن کی آشا“ کو غداری سمجھا اور قرار دیا جاتا ہے۔

اس ملاقات کے بعد بھی تعلقات معمول پر آنے کی طرف پیش قدمی نہ ہو سکنے کی وجہ ”علاقائی صورت حال“ بھی ہے۔ دونوں ملک Stated Positionپر ہیں۔ سرحدوں پر کشیدگی، اسلحہ کے حصول کی دوڑ جاری ہے، ایٹمی ہتھیاروں کو تیز سے تیز کرنے کی کوششیں بھی ہیں۔ میزائل کے مار کرنے کی رینج میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس ماحول میں تجارتی تعلقات جاری رکھنے کی کوشش بھی ہے، لیکن گرم جوشی سے نہیں، نیم دلی سے.... لیکن ایک امید کی کرن آج یہ ہے کہ دہلی اور اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے صاحبان اقتدار دونوں ملکوں کی بقا اور خوشحالی معمول کے مطابق، بلکہ خوشگوار تعلقات میں ہی سمجھتے ہیں، جس میں قریب یا بعید مستقبل میں حالات بہتر ہونے کی توقع ہے۔ دونوں ممالک کے مسائل خصوصاً آبادی کا پھیلاﺅ اور ان کے لئے روزگار کے مواقع پیدا اور مہیا کرنا ایک جیسے ہیں۔ غربت ہے، بنیادی ضروریات کی کمی، بلکہ نہ ہونے کے برابر ہونا ہے، معیشت کو سنبھالا دینا وغیرہ شامل ہیں، لیکن مشکلات بھی ایک جیسی ہیں۔ منموہن سنگھ جن کی عمر 81سال ہو گئی ہے، زیادہ عرصہ سیاست میں نہیں رہ پائیں گے، انتخابات کے نتائج کچھ بھی ہوں، کرپشن کی کہانیاں عام ہیں۔ ادھر بھی ہیں، معاشی بحران وہاں بھی ہے، یہاں بھی ہے، ان کی جماعت میں تنظیم اور ڈسپلن کا فقدان ہے جو اعلیٰ ترین سطح پر بھی ہے۔

اسلام آباد میں وزیراعظم نواز شریف امن کی پُرخلوس تمنا کے ساتھ پھونک پھونک کر قدم اُٹھا رہے ہیں۔ اگرچہ کہا جا سکتا ہے کہ حالات ماضی سے بہت مختلف ہیں، ان کے اقتدار کو خطرہ نہیں، لیکن اُن کی کوششیں ناکام بنانے کے لئے زیادہ محنت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ 1999ءمیں لاہور ڈیکلریشن پر دستخط ہو جانے کے بعد انہیں جلاوطنی اختیار کرنا پڑی اور ہم آج وہیں کھڑے ہیں، جہاں تھے، حالانکہ دونوں اطراف سے ایٹمی دھماکوں نے بھی تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں پر منفی اثرات مرتب نہیں کئے تھے۔

موجودہ حالات میں بھارت کے لئے اطمینان کی کافی وجوہات موجود ہیں، کیونکہ تلخ تجربات نے وزیراعظم نواز شریف کو بہت محتاط کر دیا ہے، خصوصاً بھارت کے ساتھ تعلقات کے علاوہ علاقائی صورت حال (افغانستان) کے تناظر میں طاقتور اداروں، یعنی فوج کو ہمنوا بنانا ضروری ہے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی جگہ جنرل راحیل شریف آ گئے ہیں، لیکن سوچ اور ایکشن بحیثیت ادارہ ہوتے ہیں۔ انفرادی طور پر نہیں، اس لئے میاں نواز شریف کے لئے احتیاط علاج سے بہتر ہے۔ دوسری طرف اگر منموہن سنگھ نہیں رہتے تو پاک بھارت تعلقات میں تلخی کا ایک نیا دور شروع ہونے کا امکان ہے ایک تو اُن کے لئے یہ بات تشویش کا باعث ہے کہ نیا آنے والا بین الاقوامی تعلقات کے بارے میں نہ کچھ جانتا ہے، نہ سمجھتا ہے۔ کانگریس کے ممکنہ جانشین راہول گاندھی سفارتی تجربے سے عاری ہیں۔ نریندر مودی جنہوں نے بھارت اور بھارت سے باہر شہرت حاصل کی تھی، 2002ءکے خون ریز فسادات جو مسلمانوں اور ہندوﺅں کے درمیان ہوئے فسادات کے وقت مودی گجرات کے وزیراعلیٰ تھے، پھر پچھلے دنوں پاکستان کے بارے میں جو زہر آلود زبان انہوں نے استعمال کی، فسادات میں مسلمانوں کا خون اُن کی قیادت میں بہایا گیا، لہٰذا اُن کا آنا امن کے لئے نیک شگون نہیں ہو گا۔

پاکستان میں فوجی کمان میں تبدیلی کے باوجود غالب خیال ہے کہ بھارت کے ساتھ تناﺅ میں ایک بار پھر اضافہ ہو گا۔ اگرچہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور جنرل پرویزمشرف بھی حالات معمول پر لانے کے قائل ہو گئے تھے، لیکن جنرل اشفاق پرویز کیانی نے آتے ہی جنرل پرویز مشرف کی شروع کی گئی ”بیک چینل ڈپلومیسی“ کو روک دیا تھا، اِسی طرح ممکن ہے جنرل راحیل شریف بھی ایک قوم پرست مضبوط جنرل ہونے کا ثبوت دینے کے لئے یہ سمجھتے ہوئے کہ ابھی بھارت سے نرم رویہ رکھنا مناسب نہیں ہو گا، تھوڑا سخت موقف اختیار کریں۔پاک بھارت سرحد پر حالیہ کشیدگی ایک اور ممکنہ خطرے کو جنم دیتی ہے کہ پاک بھارت تعلقات کچھ عسکری تنظیموں نے یرغمال بنائے ہوئے ہیں، جب چاہتے ہیں، ایسے حالات پیدا کر دیتے ہیں کہ تعلقات کا معمول کا عمل نہ صرف رُک جاتا ہے، بلکہ کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو جاتا ہے۔

بھارت میں یہ خوف موجود ہے کہ2014ءکے بعد1999ءکی دہائی کی طرح افغانستان ایک بار بھر بھارت مخالف سرگرمیوں کا مرکز بن جائے گا، جہاں بھارت میں حملے کرنے کے لئے ایک مرکز بن جائے گا۔ دوسری طرف پاکستان میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ 2014ءکے بعد بھارت افغانستان میں امریکہ کی جگہ لینے کی کوشش کر رہا ہے،جس سے پاکستان کی مشرقی اور مغربی سرحدیں غیر محفوظ ہو سکتی ہیں، لہٰذا2014ءاس لحاظ سے ایک اہم اور حساس سال ہے کہ افغانستان میں کون کس حیثیت میں ہو گا اور Post-Nato افغانستان کیسا ہو گا؟.... پاکستان کا کہنا ہے کہ تقسیم ہند کے وقت جو حد بندی ہوئی تھی، وہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتی، یعنی کشمیر دوسری طرف بھارت اس معاملے میں کوئی رعایت دینے یا نرم موقف اختیار کرنے کو تیار نہیں ہے۔ پاکستانی فوج بھارت کی اجارہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہے، جبکہ بھارت اپنی طاقت کے زعم میں سلامتی کونسل میں مستقل نشست کا مطالبہ کرتا ہے۔ دونوں اطراف کے عسکری ادارے اپنی اپنی عسکری صلاحیت بشمول ایٹمی ہتھیار بڑھانے میں مصروف ہیں۔

ان تمام حقائق کی موجودگی میں چین اور امریکہ ہمارے لئے ایک راستہ دکھاتے ہیں، امید کی کرن بن جاتے ہیں اور اس کشیدگی کو کم کر کے تعلقات معمول پر لانے کے لئے زور بھی دیتے ہیں اور اپنی مثال بھی پیش کرتے ہیں۔ امریکہ کھل کر، لیکن چین اپنی پالیسی کے عین مطابق درپردہ پاکستان پر اپنا اثر استعمال کرتا ہے کہ بالآخر امن ہی ایک راستہ ہے، جنگوں سے مسائل حل نہیں ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں چین کے حوالے سے ہی ایک مثال ہمارے سامنے آئی ہے کہ حال ہی میںمنموہن سنگھ کے دورہ¿ چین میںBorder denfence cooparation پر دستخط ہوئے، جس کے تحت ایک دوسرے کے فوجی دستوں پر فائرنگ نہیں ہو گی، چاہے جو بھی حالات ہو جائیں، تاوقتیکہ سفارتی کوشش نہ کی جائے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب لداخ کے متنازعہ علاقے میں لائن آف کنٹرول پر خلاف ورزیاں معمول بن گئی تھیں۔اس معاہدے کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان پہلی بار DGMO کی سطح پر ہاٹ لائن قائم کر دی گئی ہے، جیسی پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود تو ہے لیکن موثر نہیں ہے۔

چین میں اس و قت یہ عہدہ موجود نہیں ہے، لیکن Create کیا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک میں اتنی لمبی کشیدگی کی فضا کے بعد امن، بھائی چارے کی خواہش پیدا ہوئی ہے۔ تین مراحل میں تمام تنازعات حل کئے جائیں گے اور اعتماد سازی بحال کرنے کے لئے بھی ساتھ ساتھ قدم اٹھائے جائیں گے۔ چین اور بھارت کے درمیان دریائے برھم پترا پر تنازع ہے، وہ بھی حل کیا جائے گا۔ ویسے تو اس معاہدے پر عرصے سے خاموشی سے کام ہو رہا تھا، لیکن لداخ میں چینی فوج کے لائن آف کنٹرول سے اندر گھس آنے پر مذاکرات میں تعطل پیدا ہو گیا تھا۔ بھارتی وزیر دفاع اے کے انتھونی کے دورہ چین کے دوران اس معاہدے پر دستخط ہونے تھے۔ حال ہی میں دونوں فوجوں کے درمیان مشترکہ مشقیں بھی ہوئیں اور افواج کے سینئر افسران کے ایک دوسرے ممالک میں دورے اور گفتگو بھی اس معاہدے کا حصہ ہے۔ اس معاہدے کے بعد ایشیا میں کشی جگہ تو امن ہوا۔

امریکہ اور چین کی ہمارے درمیان کشیدگی کم کرنے، اعتماد سازی کی فضا بحال کرنے اور تعلقات کو معمول کے مطابق، بلکہ خوشگوار بنانے کی کوشش کی بھی توقع کی جا سکتی ہے کہ بالآخر کامیاب ہو جائیں گی۔ دونوں ممالک کے تجارتی حلقے بھی باہمی اعتماد کی فضا چاہتے ہیں، کیونکہ اس وقت کچھ مصنوعات بلاواسطہ آ جا رہی ہیں، لیکن زیادہ تر دبئی کے راستے تجارت ہو رہی ہے۔ بلاواسطہ تجارت سے دونوں ممالک کے تجارتی حلقے اور صنعت سے وابستہ مزدور اور کاریگر بھی فائدہ اٹھا سکیں گے۔

کچھ سنجیدہ حلقوں کا خیال ہے کہ بھارت کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے کی صورت میں پاکستان میں تشدد، بھتہ خوری، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ فسادات کے ذمہ داروں کے خلاف پوری شدت سے کارروائی کی جا سکے گی اور ایک دوسرے پر الزامات بھی ختم ہو جائیں گے کہ بیرونی مداخلت ہو رہی ہے، اس لئے بھی ضروری ہے کہ تنازعات کو امریکہ اور چین کی طرح اور آج بھارت اور چین کی طرح وقتی طور پر ہی سہی ایک طرف رکھ کر عوام کی مشکلات میں کمی کی جائے۔ یہی سب سے بڑی قومی خدمت ہے۔ پاکستان کے ساتھ ساتھ یہ فضا بھارت کے مفاد میں بھی ہے، لیکن ایک چنگاری ایٹمی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس سے آنے والی کئی نسلیں متاثر ہوں گی۔ پاکستان اور بھارت نہ جرمنی ہیں اور نہ جاپان کہ پھر جلد ہی اپنے پاﺅں پر کھڑے ہو سکیں گے۔ اعتماد کی فضا میں یقین رکھا جا سکتا ہے کہ ہم اچھے ہمسایوں کی طرح زندہ رہنا سیکھ جائیں، دونوں ملکوں اور عوام کافائدہ امن میں ہی ہے، جنگ میں نہیں، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے آپ بند مٹھی سے ہاتھ نہیں ملا سکتے۔     ٭

مزید :

کالم -