مشرقی پاکستان جو کبھی تھا

مشرقی پاکستان جو کبھی تھا
مشرقی پاکستان جو کبھی تھا

  

بیالیس سال قبل کی بات ہے کہ پاکستان اپنوں کی کوتاہ نظری اور بے وقوفی ، ہوس اقتدار، بھارت کی دیرینہ خواہش کی تکمیل، امریکہ کی پاکستان کی بروقت مدد نہ کرنے کی دانستہ حکمت، اور روس کی حالات کو قابو میں لانے کی تجویز کو تسلیم نہ کرنے کہ وجہ سے اس طرح دولخت ہوا تھا کہ اس کی آبادی کی اکثریت کا علاقہ ملک سے علیحدہ ہو گیا تھا۔ کوئی اسے بھارت کی تھوپی ہوئی جنگ کا نتیجہ قرار دیتا ہے، کوئی اسے اس وقت کے پاکستانی حکمرانوں کی اپنے آپ کو اقتدار میں رہنے کی ہٹ دھرمی کا نام دیتا ہے، کوئی اسے مغربی پاکستان کی ان سیاسی قوتوں کی اقتدار حاصل کرنے کی جلد باز کوشش دیکھتا ہے۔وہ علاقہ مشرقی پاکستان تھا جہاں 16دسمبر1971ءکو پاکستان کا پرچم سرنگوں ہوا تھا۔ 1947ءمیں انگریز نے دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال کی روشنی میں منصوبہ بندی کی اور جلد بازی میں کئے گئے فیصلے کے تحت ہندوستان کو تقسیم کر کے کوچ کرنے کا فیصلہ کیا تو جو نیا ملک بنایا گیا وہ پاکستان کے نام سے وجود میں آیا تھا۔ پاکستان میں منقسم پنجاب، سندھ، سرحد (اب پختونخوا) اور بلوچستان اور منقسم بنگال شامل کر دیئے گئے تھے۔ بہرحال ایک ملک وجود میں آ گیا تھا ، جو ہمارے جاہ پسند حکمرانوں اور حکمران طبقے کی ہوسوں کا شکار ہو گیا ۔ آج بھی صورت حال بچے کھچے پاکستان کے حق میں نظر نہیں آتی ہے۔

 افغانستان سے امریکہ کی واپسی کے بظاہر چرچے ہمارے حکمرانوں، منصوبہ سازوں، سیاست دانوں اور دیگر تعلیم یافتہ لوگوں کو صورت حال سمجھنے کی انتہائی ضرورت کا تقاضا کرتی ہے۔ امریکہ کے عزائم ہمارے لئے اتنے اچھے نہیں ہیں جتنے ہمیں سمجھائے جا رہے ہیں۔ امریکی پالیسی ساز اس خطے میں وہ کچھ کرنا چاہتے ہیں، جو وہ 1971ءمیں ہمارے ساتھ کر چکے ہیں۔ امریکی سٹور میں جو کچھ موجود ہے اسے ہمیں اور ہمارے حکمرانوں کو سمجھنے کہ ضرورت ہے اور اپنی خارجہ پالیسیوں کو ان خطوط پر ڈھالنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کا صوبہ پختونخوا اور بلوچستان کسی بھی قسم کی تقسیم سے محفوظ رہ سکیں۔ تین ماہ قبل امریکہ اور ایران کے تعلقات کی کشیدگی کھنچاﺅ اور جنگ جیسی کیفیت بلا مقصد راتوں رات حل نہیں ہو گئی ہے۔ اس پورے خطے کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ کے خطے میں امریکہ ایک سے زائد نئے ممالک قائم کر کے اپنے ان مقاصد کی تکمیل چاہتا ہے، جس کا مقصد اپنے حامی حکمرانوں کے ساتھ ساتھ ان ممالک کے وسائل پر اپنی گرفت رکھنا بنیادی مقصد ہے۔ پاکستان کو کوئی مدبر ہی اس صورت حال سے بچا سکے گا۔ 1971ءمیں بھی کسی مدبر کی ضرورت تھی، لیکن کوئی مدبر نہ تھا۔ ہر ایک کے اپنے اپنے عزائم تھے، لیکن ایک بات اپنی جگہ حقیقت تھی کہ پاکستان کے اس وقت کے حکمرانوں نے پاکستان پر اپنے مقاصد اور عزائم کو فوقیت بخشی تھی اور ترجیحات میں خود کو ہر قیمت پر اقتدار میں رکھنا تھا۔ مغربی پاکستان میں موجود حکمران طبقہ خاموش تماشائی تھا۔

پاکستان کیوں دو لخت ہوا، مشرقی پاکستان کیوں اور کس طرح علیحدہ ہوا یا کیا گیا، امریکہ، روس، بھارت اور چین نے کیا کردار ادا کیا، خود مغربی پاکستان والوں، ذرائع ابلاغ، سیاست دانوں کا کیا کردار رہا، افواج پاکستان کے جنرلوں نے مشرقی پاکستان میں کیا کرو اور کیا نہ کرو پر کتنا اور کس طرح عمل کیا۔ غرض ہر ہر پہلو پر اب تک سینکڑوں کتابیں تحریر کی جا چکی ہیں۔ ہر ہر زاویہ سے تجزئے کئے گئے ہیں۔ اگر کسی نے کچھ با مقصد کام نہیں کیا تو وہ حکومت پاکستان ہے۔ مشرقی پاکستان کے پورے کھیل پر کمبل ڈالنے کے لئے حمود الرحمان کمیشن قائم کیا گیا، جس کی رپورٹ باضابطہ طور پر آج تک شائع نہیں کی گئی، حالانکہ اس رپورٹ کی باضابطہ اشاعت سے پاکستان کے منصوبہ سازوں، فیصلے کرنے کے اختیارات رکھنے والے اعلیٰ افسران اور سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ فوجی حکمت عملی تیار کرنے والوں کو ہی مدد ملتی کہ مشرقی پاکستان میں کہاں، کیوں، کیسے غلطیاں کی گئیں، کیا کوتاہیاں تھیں، جو پاکستان کے دو لخت ہونے کا سبب بنیں۔ قومیں اپنی غلطیوں سے ہی سبق سیکھتی ہیں اور ان کی روشنی میں ہی اپنی مستقبل سازی کرتی ہیں۔ پاکستان میں فوجی حکمران ہوں یا جمہوری طریقے سے منتخب ہو کر ایوان اقتدار میں پہنچنے والے سیاست دان ہوں ، نامعلوم کیوں اپنا آج بچانے کے لئے قوم کا کل قربان کرنے کی مصلحت کا شکار ہو تے ہیں۔

مشرقی پاکستان میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت عوامی لیگ کو اقتدار حوالے نہ کرنے کی تاریخی غلطی کرنے کے بعد وہاں فوج کشی جیسا انتہائی حربہ استعمال کرنے اور نسل کشی میں کامیابی کی منظق تلاش کرنے پر ہمیں آج بھی مشرقی پاکستان کی تاریخ کو دوبارہ پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ موجودہ پاکستان میں ہم ملک کے نظام کو ان غلطیوں سے محفوظ رہ کر چلا سکیں۔ مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والی دانشور خاتون نے جو امریکہ میں شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں، عرق ریزی کے ساتھ قیام بنگلہ دیش پر ایک کتاب تحریر کی ہے۔ سرمیلا (شرمیلا نہیں) بوس خانوادہ سبھاش چندر بوس سے تعلق رکھتی ہیں، سبھاش چندر بوس کو نیتا (عزت مآب رہنما) کا خطاب حاصل ہے۔ سرمیلا متحدہ بنگال کے دارالحکومت کول کتہ کی رہائشی ہیں۔ وہی کول کتہ جہاں سے بوس نے انگریزوں کی ہندوستان سے واپسی کی جدوجہدکا آغاز کیا تھا۔ وہی کول کتہ جو مشرقی پاکستان کی پاکستان سے علیحدگی کی حکمت عملی پر عمل در آمد کا ہیڈ کوارٹر تھا۔ مشرقی پاکستان جو بنگلہ دیش بنا، کے بارے میں سینکڑوں کتابیں موجود ہیں، لیکن ہر کتاب کسی نہ کسی طرح ایک یا دوسرے نقطہ نظر کی حمایت کرتی ہے، کسی ایک طرف اس کا جھکاﺅ ہے۔ سرمیلا بوس نے جو کچھ تحریر کیا ہے وہ کئی پہلوﺅں سے آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ حکومت پاکستان کو مشرقی پاکستان پر ابھی بھی ایک مکمل جامع غیر جانبدار رپورٹ آزادانہ ذرائع سے تیار کرانا چاہئے تاکہ قوم اور آنے والی نسلوں کو معلوم ہو سکے کہ پاکستان کیوں دو لخت ہوا تھا۔

سرمیلا نے تو اپنی تحقیقات میں ثابت کیا ہے کہ یہ صرف ایک مفروضہ ہے کہ پاکستان کے نوے ہزار فوجی بھارت کی قید میں تھے۔ فوجیوں سمیت جنگی قیدیوں کی کل تعداد کتنی ہے۔ بھارت کاکردارکیاتھا۔ عوامی لیگ کے کون سے عناصر بھارت کے ہاتھوں میں کھیل رہے تھے۔ مجیب الرحمن شیخ علیحدگی کی بجائے پاکستان کی وزارت عظمی کے حصول میں دلچسپی رکھتے تھے، لیکن اپنی تقاریر میں عوام کو آگ بگولہ کرنے والی زبان استعمال کرتے تھے۔ فوج کو جس مرحلے پر شر پسندی کا مقابلہ کرنا چاہئے تھا، اس وقت فوج کا کردار خاموش تماشائی سے زیادہ نہیں تھا، جس وقت حکمرانوں کو سیاسی بلوغت کا ثبوت دیتے ہوئے فیصلے کرنا چاہئے تھے اور اقتدار عام انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ کے سپرد کرنا چاہئے تھا اس وقت منتخب رہنماﺅں کی گرفتاریاں کی گئیں اور فوج کو آپریشن کے لئے استعمال کیا گیا۔

جنرل یعقوب جیسے دانشمند جرنیل کی جگہ جنرل ٹکا خان جیسے سفاک اور امیر عبداللہ نیازی جیسے عیاش جرنیل کو فوج کا کمانڈر بنا دیا گیا۔ مشرقی پاکستان کے صلح کن فوجی گورنر وائس ایڈمرل ایس ایم احسن جیسے لوگوں کے تجزیوں پر ہمدردانہ غور نہیں کیا گیا۔ سرمیلا نے اس موضوع پر بھی خوب لکھا ہے کہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کس طرح مبالغہ آرائی کرتے رہے۔ کتاب میں جو نہایت غور طلب بات ہے کہ مشرقی پاکستان کے کل ووٹر کا 42 فیصد نے عوامی لیگ کو ووٹ دیا تھا وہ ووٹ علیحدگی کے لئے نہیں تھا، بلکہ وہ (پاکستان میں ر ہتے ہوئے) اپنے قانونی جائز حقوق کے حصول کے لئے عوامی لیگ کو دئے گئے تھے، لیکن حالات کی ستم ظریفی تھی کہ وہ علیحدگی پر منتج ہوئے وہ علیحدگی جو شیخ مجیب الرحمن نہیں چاہتے تھے، اندار گاندھی چاہتی تھیں ۔ اس تماش گاہ میں پاکستان آج جن حالات سے دوچار ہے اس کا تقاضہ ہے کہ ہم مشرقی پاکستان والے حالات کا دوبارہ بغور جائزہ لیں، اپنی غلطیوں کو تلاش کریں اور بلوچستان، پختونخوا اور سندھ میں ان کا کسی قیمت پر اعادہ نہ ہونے دیں۔ یہی پاکستان کی سب سے بڑی خدمت ہو گی۔  ٭

مزید :

کالم -