خدا خیر کرے

خدا خیر کرے
خدا خیر کرے

  


سیالکوٹ میں ایم کیو ایم کے ایک غیر معروف عہدیدار کے قتل پر الطاف حسین کی آہ و بکا دیکھ کر ایک ٹاک شو میں حیدر عباس رضوی کی شرارت آمیز اور بھرپور مسکراہٹ یاد آگئی۔یہ 2011ء کی بات ہے اس وقت پیپلز پارٹی ،ق لیگ اور شریف برادران کے دیگر سیاسی مخالفین کے چہرے تحریک انصاف کا ذکر آتے ہی دمک اٹھتے تھے۔اور ایسا ہوتا بھی کیوں نا؟یہ تمام جماعتیں اور ان کے رہنما 2013ء کے عام انتخابات میں ہر قیمت پر مسلم لیگ (ن) کو دھول چٹانا چاہتے تھے۔ اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل شجاع پاشا نے تحریک انصاف کے غبارے میں ہوابھرنا شروع کی تو ان کا واضح ہدف بھی صرف مسلم لیگ( ن) ہی تھی، جس طرح انسان کا بنایا ہوا ہر منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا، اسی طرح بسا اوقات طاقتور اداروں کے بنائے ہوئے پلان بھی خود ان کے لئے غیر متوقع صورت حال پیدا کر دیتے ہیں۔

تحریک انصاف کے خاکے میں ’’خاکی رنگ‘‘ بھرنے کا عمل شروع ہوا تو سب سے پہلے ق لیگ لپیٹ میں آگئی اور اس بری طرح سے آئی کہ ایک موقع پر نظر آنے لگا کہ اب شاید گھر کے چند افراد ہی اس جماعت کا کل اثاثہ رہ جائیں گے۔چودھری برادران سے رہا نہ گیا تو اپنی فریاد لے کے سیدھے آرمی چیف جنرل کیانی کے دربار میں حاضر ہو گئے۔دونوں نے جنرل پاشا کی شکایت لگائی اور بعض ثبوت بھی پیش کئے۔ جنرل کیانی نے چودھریوں کو داد رسی کا دلاسہ دیکر روانہ کر دیا،مگر کوئی افاقہ نہیں ہو سکا۔ مسلم لیگ(ق)کا قلع قمع ہو گیا۔ پیپلزپارٹی والے سیاست میں تحریک انصاف کے عوامی ظہور کے لئے ،خفیہ اداروں کی چالوں کو کامیاب بنانے کے لئے بھرپور تعاون، بلکہ کندھے فراہم کرتے رہے۔ انہیں یقین تھا کہ خصوصاً پنجاب میں تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) کے ووٹ بنک کو کاٹ کر رکھ دے گی اوراس سیاسی دھینگا مشتی کا سب سے زیادہ فائدہ پیپلز پارٹی کو ہو گا۔ 2013ء کے عام انتخابات سے قبل پیپلزپارٹی کی صفوں میں یہ واضح تصور موجود تھا کہ آصف علی زرداری اگلی مدت کے لئے صدر مملکت منتخب ہو جائیں گے۔ادھر ایم کیو ایم والے جن کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ شریف برادران سے ازلی بیر رکھتے ہیں ،بھی بڑی حد تک خوش فہمی کا شکار تھے۔مسلم لیگ (ن) کی مخالف بعض دیگر جماعتیں بھی اسی قسم کے سیاسی نتائج کی توقع کر رہی تھیں ہوا، مگر ہوا اس کے الٹ ،آج 2014ء ختم ہونے والا ہے تو میدان میں مسلم لیگ (ن) موجود ہے، جبکہ پیپلزپارٹی دیہی سندھ تک محدود ہو چکی ہے۔کراچی اور حیدر آباد میں ایم کیو ایم کو لالے پڑے ہوئے ہیں، تحریک انصاف کی صورت میں بنایا جانے والا اسٹیبلشمنٹ کا ہتھیار مسلم لیگ(ن) کا تو ابھی تک کچھ نہیں بگاڑ سکا، لیکن پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو اتنا زخمی ضرور کر چکا ہے کہ دونوں جماعتیں چلاّنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

الطاف حسین کے فوج اور آئی ایس آئی سے متعلق تازہ ترین فرمودات اگر پیشگی اجازت کے بغیر سامنے آئے ہیں تو جان لیں کہ ان کی طبیعت زیادہ ہی خراب ہو چکی ہے۔ اس تقریر میں جب ایک موقع پر وہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ اور پنجاب کے وزراء کے سندھ داخلے پر پابندی کی بات کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ تقریر تو گائیڈ لائن کے مطابق ہی تھی، لیکن جوش جذبات میں وہ کچھ زیادہ ہی بول گئے ۔الطاف حسین کا مسئلہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کو کراچی میں ہر گزبرداشت کرنے کے لئے تیا ر نہیں، لیکن مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق وہ اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر چلنے کے لئے مجبور ہیں۔ عمران فاروق کے قتل میں ملوث ملزموں کی پاکستانی خفیہ ایجنسی کے ہاتھوں گرفتاری نے قائد تحریک کو ’’ آزادانہ فیصلے‘‘کرنے کے قابل نہیں چھوڑا۔

اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں تحریک انصاف کے بھرپور استعمال نے بعض دیگر اہم جماعتوں کو ایک لائحہ عمل بنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ لانگ مارچ اور دھرنے کے ذریعے حکومت گرانے کی کوشش کو ناکام بنانے کے لئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران کپتان اور قادری کی بجائے ان کے سرپرستوں کو لتاڑ کر اس حوالے سے عملی مظاہرہ کیا گیا۔ سازش ناکام تو ہو گئی، لیکن کھیل اب بھی جاری ہے اور جاری ہی رہے گا۔ اس تمام بحران کے دوپہلو ہیں: مقامی اور بین الاقوامی‘ امریکہ یہ طے کر چکا ہے کہ پاکستان میں چینی سرمایہ کاری نہیں ہونے دے گا خواہ اسے بعض پاکستانی شخصیات کو بھٹو کی طرح ’’نشان عبرت‘‘ ہی کیوں نہ بنانا پڑے۔ دوسری جانب ملکی اسٹیبلشمنٹ ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ اقتدار پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرنا چاہتی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف یوں تو جمہوری حکومت کے اختیارات کے حوالے سے بعض حوالوں سے پیچھے ہٹ چکے ہیں، لیکن ان سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ آصف علی زرداری کی طرح ایوان صدرتک محدود ہو کر رہ جائیں گے۔ سو یہ لڑائی رکنے کی نہیں۔ اسٹیبلشمنٹ نے ایک معمولی سے وقفے کے بعد دوبارہ مہرے سیٹ کر دیئے ہیں۔ شہر اور پھر ملک بند کرانے کا ماحول بنایا جا رہا ہے۔ ایک ہی ’’پروڈیوسر‘‘ کے اشاروں پر ٹیپ کی طرح بجنے والے مختلف چینلز کے اینکرز آخر کس مرض کی دوا ہیں؟ انہیں نوکریوں پر کون رکھوا رہا ہے اور ان سے کام کون لے رہا ہے، کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ماتحت عدالتوں سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ ایسے میں تاجروں کو کیونکر بخشا جائے گا؟ نہیں معلوم ہے کہ حکومت کو مارچ میں ہونے والے سینیٹ انتخابات سے پہلے گرائے جانے کی کوششیں کی جائیں گی یا پھر سسکا سسکا کر مارا جائے گا اور مزید کچھ عرصہ دیا جائیگا۔ اس وقت حالت تو یہ ہے کہ بے ڈھنگے اور جھوٹے الزامات کی برسات ہو رہی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کنٹرولڈ میڈیا کے اینکروں کو بھی وہی پرچیاں مل رہی ہیں جو عمران خان گاہے گاہے جیب سے نکال کر عینک لگا کر قوم کو یوں پڑھ کر سناتے ہیں کہ جیسے یہ سب سچ ہو۔ ملک کی تیزی سے بہتر ہوتی اقتصادی صورت حال نے بعض حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے کہ کہیں سول حکومت اپنے قدم جما نہ لے۔ خود خیبرپختونخوا میں کرپشن اور بیڈگورننس کی جو حالت ہے اسے دیکھ کر تو نہیں لگتا ہے اگر کبھی عمران خان وزیراعظم بن گئے تو ملک میں واقعی کوئی تبدیلی لے آئیں گے۔۔۔

لاہور ہائی کورٹ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ اگر حکومت عوام کو تحفظ فراہم نہیں کرسکتی تو گھر چلی جائے۔ یہ بات 100فیصد درست ہے، لیکن بہرحال سارا ملک اسٹیبلشمنٹ کے رحم و کرم پر چھوڑا نہیں جا سکتا۔ ایساجب بھی ہوا ملک کو بدترین نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔ 1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی اس حوالے سے سب سے بڑی اور عبرتناک مثال ہے۔ صورت حال کا مقابلہ تو کرنا ہو گا۔ حالات بتاتے ہیں کہ بالآخر اس حوالے سے اہم کردار نوازشریف کو ہی ادا کرنا ہو گا۔ بشرطیکہ وہ محترمہ بینظیربھٹو جیسے انجام سے دوچار نہ کر دیئے گئے۔ اللہ نہ کرے کہ ایسا ہو، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ حالات شدیدترین تصادم کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اس بار ہونے والا تصادم سیاسی ہی نہیں‘ مذہبی‘ لسانی اور علاقائی بنیادوں پر بھی ہو سکتا ہے۔ 14اگست کو پارلیمنٹ اور وزیراعظم ہاؤس کے اندر، باہر لاشیں گرا کر حکومت الٹانا مقصود تھا تو اب ایسا کیوں ممکن نہیں۔ اگر کوئی غریبوں کے بچوں کو مروانے پر تل جائے تو لاشیں گرانے کا عمل روکا نہیں جا سکتا۔ یہ پاکستان ہے، یہ پنجاب ہے، یہ لاہور ہے۔ ذرا تصور کریں کہ اگر عمران خان کے ذریعے حکومتی شخصیات کے گھروں پر دھاوے کا اعلان کرا دیا گیا تو ردعمل کیا ہو گا؟ ایسا ہوا تو پھر کہاں کی سیاست، کیسی شرافت، کون سی برداشت؟ جنگ مسلط کر دی گئی تو جواب ہر صورت آئے گا۔ اسٹیبلشمنٹ کے حامی چند ایک سیاسی ٹولوں کے سوا ہر سنجیدہ جماعت اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ اس بار ہونے والا ٹکراؤ وفاق پاکستان کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہو گا۔ خدا خیر کرے۔۔۔ *

مزید : کالم


loading...