پیپلزپارٹی اور آصف علی زرداری؟ فرحت اللہ بابر کا شکریہ!

پیپلزپارٹی اور آصف علی زرداری؟ فرحت اللہ بابر کا شکریہ!
پیپلزپارٹی اور آصف علی زرداری؟ فرحت اللہ بابر کا شکریہ!

  


ماضی بھی حال پراثرا نداز ہوتا اور اکثر امور میں مطابقت بھی پیدا ہو جاتی ہے،ایسا سیاسی جماعتوں میں لازمی ہوتا ہے،پاکستان پیپلزپارٹی ایک قومی جماعت ہے جسے پارٹی والے وفاق کی علامت کہتے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو(شہید) اپنے والد کے بعد نامساعد حالات کے باوجود بہت سی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے پارٹی کو سنبھالنے اور اہمیت بحال کرنے میں کامیاب رہیں اور دو مرتبہ اقتدار حاصل کر کے وزیراعظم بھی بنیں، ہر بڑے رہنما یا بڑے آدمی کی طرح محترمہ بے نظیر بھٹو کی پولیٹیکل سیکرٹری بھی تھیں،وہ ناہید خان ہیں، جو اب مسز ناہید عباسی ہیں کہ محترم ڈاکٹر صفدر عباسی سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہو چکیں۔اس دور میں پارٹی کارکنوں کو بیگم ناہید عباسی سے شکایت رہتی اور جب بھی ان کو موقع ملتا وہ براہ راست محترمہ سے شکایت کرتے کہ وہ بیگم ناہید کارکنوں میں پسند اور ناپسند کا رجحان رکھتی ہیں اور اِسی کے مطابق چیئرپرسن سے ملاقات کراتی یا ملنے نہیں دیتیں، محترمہ ان شکایات کو سُن کر کارکنوں کو تسلی دے دیتی تھیں، ایک بار گلزار خان کی رہائش گاہ پر اس حوالے سے معمولی سا ہنگامہ بھی ہوا اور ہم نے بھی کارکنوں کی تائید کر دی۔ مجلس برخاست ہونے کے بعد محترمہ نے ہمیں اعتماد میں لیا، ان کے مطابق ان کے لئے کسی ایسی شخصیت کی ضرورت ہے جو اُن کے بیڈ روم تک بھی آ سکے اور یہ کوئی خاتون ہی ہوسکتی ہے۔ ناہید خان پارٹی ورکر اور خاتون بھی ہیں، ان پر اعتماد بھی ہے، ہم نے گزارش کی کہ وہ اگر آپ کی جماعتی سیاست میں ذاتی دلچسپی کو بڑھائیں گی تو اس سے آپ کی جماعت کو نقصان ہو گا،محترمہ دلائل کی قائل تھیں۔ یہ بات ان کو بھلی لگی تو قریباً ایک سال تک ان کو پارٹی امور میں مداخلت سے روکے رکھا گیا، تاہم پھر وہی صورت حال تھی وہ محترمہ کی وفادار تاہم اپنی پسند ناپسند کے مطابق سیاست بھی کرتی تھیں ان کی ایک شہادت تو عبدالقادر شاہین ہیں ،جو بعد از خرابی بسیار پھر سے واپس پارٹی میں جبکہ ناہیدخان اور ڈاکٹر صفدر عباسی اپنی پسند والے کارکنوں کو لے کر ورکرز پیپلزپارٹی بنائے بیٹھے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وہ پارٹی کی اساسی سیاست کو بحال کرانا چاہتے ہیں۔

ان میاں بیوی کا ذکر یوں آ گیا کہ پیپلزپارٹی لاہور کے ایک اجلاس کی کارروائی نظر سے گزری، جو ہمارے ہی ادارے کے رپورٹر شہزاد ملک کی خبر ہے کہ اجلاس میں سابق صدر اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے حالیہ دورہ لاہور پر بات ہوئی تو شکایات کے دفتر کھل گئے یہ جماعتی معمولی بھی ہے۔ بہرحال جہانگیر بدر پر تنقید ہوئی وہ اپنی جگہ، ایک جیالے نے محترم آصف علی زرداری کی پولیٹیکل سیکرٹری رخسانہ بنگش کی شکایت شروع کر دی کہ وہ کارکنوں کو شریک چیئرمین سے ملنے نہیں دیتیں۔ رخسانہ بنگش بھی پیپلزپارٹی کے پرانے لاٹ میں سے ہیں، وہ بیگم نصرت بھٹو کی بھی سیکرٹری رہ چکی ہوئی ہیں ان کے خلاف بھی شکایات کی نوعیت وہی تھی،جو بی بی کے دور میں بیگم ناہید عباسی کے بارے میں ہوتی تھی۔

اس اجلاس میں واجد علی شاہ جسے پیار سے ’’واجے شاہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، حالات حاضرہ پر بات کی، آصف علی زردای کی ان معنوں میں تعریف کی کہ ملکی اور بین الاقوامی حالات پر ان کی گہری نظر ہے، پھر شکایت کی کہ پارٹی ان کی نگاہ التفات کی منتظر ہے اوران کی بے اعتنائی کی وجہ سے پارٹی منظم اور فعال نہیں ہو پا رہی۔ یہ بتانا تو فضول ہے کہ پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو بھی اعتراضات کی زد میں رہے،جہاں تک پارٹی اور ملکی امور کے حوالے سے واجد علی شاہ کا تبصرہ ہے وہ الکل درست اور انہوں نے صحیح نشاندہی بھی کی ہے، لیکن شریک چیئرمین کے پاس ہر سوال کی طرح اس سوال کا جواب بھی موجود ہے۔ہماری اطلاع کے مطابق آصف علی زرداری بلاول ہاؤس میں ہونے والے خصوصی اجلاسوں میں تنقید کا سامنا کرتے رہے اور پھر انہوں نے جماعت کے رہنماؤں کو اعتماد میں بھی لیا۔اس امر سے تو انہوں نے اتفاق کیا کہ پارٹی کو منظم اور فعال ہونا چاہئے اور یقین دہانی کرائی کہ وہ اب پوری توجہ دیں گے اور جلد ہی پھر لاہور آئیں گے اور مشاورت بھی کرتے رہے۔ تاہم وہ بلاول بھٹو کی غیر حاضری کے حوالے سے اپنے ساتھیوں کی تسلی نہ کرا سکے، ان کی طرف سے یہ جواز کہ بلاول نوجوان اور پُرجوش ہے اور ہوش پر قابو نہ پانے کی وجہ سے جو تنقید کی گئی، اس سے سیاسی ماحول متاثر ہوا اور کچھ دوست ناراض ہوئے، حالانکہ ملک کو اتفاق رائے کی ضرورت ہے اس لئے وہ (زرداری) مفاہمت کی سیاست کرتے چلے آ رہے ہیں۔

بہت ہی باوثوق اطلاع ہے کہ آصف علی زرداری نے موجودہ حالات کا خالص ماہرانہ تجزیہ بھی کیا اور بتایا کہ ان کے خیال میں اس وقت حالات ترقی پسند قوتوں کے حق میں نہیں ہیں اور ایرینا سے مسلم لیگ(ن) کی قیادت اور پوری پیپلزپارٹی کو نکالنے کی تحریک جاری ہے۔ ایک محفل میں انہوں نے بتایا کہ پارٹی کے ترقی پسندانہ کردار کی مخالف قوتیں اس وقت شریف خاندان کے ساتھ ساتھ پیپلزپارٹی کو بھی دفن کرنا چاہتی ہیں، اس لئے موجودہ معروضی حالات میں پارٹی کو بچا کر رکھنا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایسی سرگرمیوں سے اجتناب کر رہے ہیں،جو محاذ آرائی کی طرف لے جائیں۔ انہوں نے بہت واضح طور پر کہا یہ لازمی نہیں کہ پیپلزپارٹی ہی قربانیاں دیتی اور شہادتیں حاصل کرتی رہے، اس لئے بہتر وقت کا انتظار ضروری ہے۔ ساز گار فضا میں پارٹی کو باہر لائیں گے، تاحال خطرات اور خدشات موجود ہیں۔ آصف علی زرداری کی اس منطق سے اتفاق اور اختلاف ہر ایک کا حق ہے، تاہم ملک میں ہونے والے واقعات کے تسلسل سے ان کی تھیوری کو تقویت ضرور ملتی ہے۔

چلتے چلتے طبیعت پر ناگوار بوجھ کے باوجود ایک دوست محترم ضیاء کھوکھر کا قرض اتار دیں ان کے مطابق سینیٹر فرحت اللہ بابر صحافیوں کے حوالے سے بہت درد مندی سے غورو فکر کرتے ہیں کہ ان کا تمام تر کیریئر ان صحافیوں ہی میں گزرا ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ اپنے فرائض منصبی ادا کرتے ہوئے جو کارکن صحافی زخمی یا شہید ہوئے ان کو یاد رکھنا چاہئے اور یہ ایک یاد داشت کی صورت میں ہو اور باقاعدہ کتابچہ شائع کیا جائے،جس میں ان سانحات کے حوالے سے سرکاری رویے کا بھی ذکر ہو کہ سانحہ کی تفتیش کے کیا نتائج نکلے اور ٹارگٹ ہو کر قتل ہونے والوں کا الگ رجسٹر یا باب ہو، اس کے ساتھ ہی انہوں نے صحافیوں کے تحفظ، ان کی انشورنش اور ان کے اہل خانہ کے لئے مستقبل کی ضمانت کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی قوانین کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ متاثرہ صحافیوں کے ساتھ مالی تعاون کے لئے ایک خصوصی فنڈ کے قیام کی بھی ضرورت ہے۔اس سلسلے میں ان کی معلومات تھیں کہ حکومت نے سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے اطلاعات کو مطلع کیا ہے کہ20کروڑ روپے کی اعانت سے خصوصی فنڈ قائم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے صحافیوں کی تربیت اور خود حفاظتی کے لئے بھی متعدد تجاویز پیش کی ہیں۔ *

مزید : کالم


loading...