ڈرون سازی اور ڈرون بازی (1)

ڈرون سازی اور ڈرون بازی (1)
ڈرون سازی اور ڈرون بازی (1)

  


آٹھ دس سال سے ڈرونوں نے تیسری دنیا میں تباہی مچا رکھی تھی، مگر مستقبل قریب میں پہلی اور دوسری دنیاؤں میں بھی یہ ٹیکنالوجی ایسی بربادی مچانے والی ہے کہ ان کو لگ پتہ جائے گا۔۔۔۔ہزاروں بے گناہ (اور چند گنہگار) انسان صرف ہمارے فاٹا ہی میں ڈرونوں کی نذر ہو گئے۔ یمن، عراق، شام اور صومالیہ وغیرہ میں ڈرونوں کا استعمال اگرچہ کم کم رہا لیکن ’’حسب ضرورت‘‘ یہاں بھی ایسے بہت سے حادثات پڑھنے کو ملے جن کے جواز اور عدم جواز کے سلسلے میں ایک طویل مباحثہ کیا جا سکتا ہے۔

ڈرون کا اصل اور کتابی نام’’ڈرائیور کے بغیر گاڑی‘‘ ہے۔انگریزی میں اسےVAV کہا جاتا ہے جو Vnmanned Aerial Vehicle کا مخفف ہے، ڈرون کا پائلٹ اس کے اندر نہیں ہوتا، بلکہ زمین پر ہوتا ہے اور بعض اوقات زاروں میل دور بیٹھا ہوتا ہے۔ Predators اورReipers نامی امریکی ڈرون دنیا کے جدید ترین ’’بغیر پائلٹ طیارے‘‘ کہے جا سکتے ہیں، جو اپنے پیٹ کے نیچے مختلف قسم کا اسلحہ لے جا کر جہاں چاہے پھینک سکتے ہیں۔ ڈرون کے چار بڑے بڑے حصے ہوتے ہیں، یعنی(1) انجن(2)کیمرہ (3) اسلحہ خانہ اور(4) جہاز رانی کے آلات۔

امریکہ (اور دنیا کے دوسرے ممالک بھی) اپنے ہاں ڈرونوں کی ڈویلپمنٹ میں خاصی دلچسپی لیتے رہے ہیں۔ ڈرون ایک ایسا جدید ہتھیار ہے کہ اس کی آزمائش (Trial) میں جانوں کا نقصان کم سے کم ہوتا ہے۔سٹیٹ آف آرٹ ٹیکنالوجی کیIn put نے اس ’’گاؤں‘‘ کو عالمی اسلحہ خانے کا ایک معجزہ بنا دیا ہے۔

مقام اطمینان ہے کہ پاکستان بھی اس شعبے میں اپنی سی کوششیں کر رہا ہے۔ یہ کاوشیں سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں ہو رہی ہیں۔ حال ہی میں کراچی میں ’’آئیڈیاز2014ء‘‘ کے نام سے جو نمائش یکم دسمبر 2014ء سے 4دسمبر 2014ء تک لگی رہی، اس میں پاکستانی ڈرون بھی رکھے گئے تھے، لیکن یہ ڈرون زیادہ تر غیر ملکی اور تجارتی مقاصد کے لئے تھے۔قارئین ایک اہم بات نوٹ کریں گے کہ جب دنیا میں کوئی اسلحہ ڈویلپ ہو رہا ہوتا ہے تو اس کی تمام ڈویلپمنٹ صیغ�ۂ راز میں رکھی جاتی ہے۔امریکہ ڈرونوں پر نجانے کب سے تجربات کر رہا تھا، پھر جب افغانستان اور یمن وغیرہ میں اُن کی ضرورت پیش آئی تو اس ڈویلپمنٹ پراسس نے ڈویلپروں کا بڑا ساتھ دیا۔ مثلاً ٹارگٹ کی تلاش، اس کی نشاندہی اور اس کو ہٹ(Hit) کرنے کے آلات کو اس قدر فائن ٹیون کر دیا گیا کہ اگر کسی گھر میں دس افراد موجود ہوں تو ان میں مطلوبہ ایک فرد کو تلاش کر کے اس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ فاٹا میں جب کئی ڈرون حملوں میں بے گناہ لوگ بھی ساتھ ہی مارے جاتے تھے تو یہ ایک قسم کی ڈرون ٹیکنالوجی کو فائن ٹیون کرنے کی ایک ایکسر سائز تھی۔ امریکن اسلحہ ساز فاٹا کے ان حادثات و سانحات سے ’’سبق‘‘ سیکھ رہے تھے۔ جب بین الاقوامی اداروں نے ڈرونوں کے استعمال کو بے گناہ لوگوں کے خلاف استعمال کرنے کے کے خلاف قوانین منظور کئے تو تب تک امریکیوں کو مزید تجربات کی ضرورت نہیں رہی تھی۔ جب تجربات شروع کرنے والے اور ان کے خلاف قانون مرتب اور نافذ کرنے والے لوگ ایک ہی ’’فرقے‘‘ سے تعلق رکھتے ہوں تو کیسا قانون اور کیسا انصاف؟

ڈرونوں کی دو اقسام ہیں۔۔۔ ایک مسلح اور دوسری غیر مسلح ڈرون۔ پاکستان ابھی تک اول الذکر قسم کے تجربات میں مصروف ہیں، یعنی اس کی زیادہ پیشرفت غیر مسلح ڈرونوں کے شعبے میں ہو رہی ہے۔غیر مسلح ڈرونوں سے کئی کام لئے جا سکتے ہیں۔ مثلاً:

*۔۔۔ دشمن کے مطلوبہ ٹارگٹ کی ریکی اور اس کی سروے لینس۔

*۔۔۔ جدید ترین کیمروں کی مدد سے کسی منظر/ٹارگٹ کی تصویر کشی/عکس بندی۔

*۔۔۔ کسی خاص محدود علاقے کی جاسوسی۔

*۔۔۔ کسی تھوڑے وزن کی چیز کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچانا، یعنی ڈاک کی ترسیل کی طرح۔

*۔۔۔ بچوں اور بڑوں کے لئے ایک ہابی (مشغلہ)

بہت سے یورپی ممالک اور خاص طور پرا مریکہ میں مندرجہ بالا پانچوں شعبوں میں بڑی تیزی سے پیشرفت ہو رہی ہے اور یہی وہ موضوع ہے جس پر ہم آج کچھ تفصیل سے روشنی ڈالنا چاہتے ہیں۔ مسلح ڈرون ٹیکنالوجی اور اس کا استعمال نسبتاً ایک وسیع تر موضوع ہے اور ایک عام پاکستانی قاری کو اس وقت اس کی سمجھ نہیں آ سکتی، جب تک اسے ہوا بازی اور طیارہ سازی کی تدریجی پیشرفت اور گزشتہ صدی میں اس کے ارتقائی مراحل کی خبر نہ ہو۔

کیمرہ ڈرون تو حالیہ ایام میں پاکستان میں بہت سے ناظرین نے ’’دھرنا مہم‘‘ کے دوران دیکھے ہوں گے۔ جوں جوں دن گززتے جا رہے ہیں، کیمرہ ڈرونوں کی اہمیت اور افادیت واضح تر ہوتی جا رہی ہے۔ پاکستان ان ڈرونوں کو ابھی نہایت ابتدائی کاموں(Tasks) کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ بہت جلد اس ٹیکنالوجی کی ’’پاکستانی برانڈ‘‘ بھی مارکیٹ میں آ جائے گی اور ممکن ہے پبلک کا ناک میں دم کر دے۔۔۔۔ مغربی ممالک میں ’’ناک میں دم‘‘ کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ یہ شروعات بھی اسی امریکہ میں ہو رہی ہیں، جس نے ڈرون ٹیکنالوجی کی ابتدا کی تھی۔ غیر مسلح ڈرونوں کی مدد سے دشمن کے علاقے کی ریکی کئی سال سے انجام دی جا رہی ہے، ان علاقوں میں پاکستان اور بھارت بھی شامل ہیں ابھی یہ کام محدود ہے۔ سائنس دان کوشش کر رہے ہیں کہ اپنی فضائی حدود میں پرواز کرتے ہوئے دشمن کے ’’اندر‘‘زیادہ سے زیادہ دور دیکھا جا سکے۔ یہ کاوش چونکہ اپنی فضائی حدود کے اندر ہو رہی ہوتی ہے اس لئے دشمن یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کی فضائی اور زمینی ریکی کی جا رہی ہے، اس عمل کو روک نہیں سکتا۔ یہ عمل آواکس(AWACS) طیاروں کی نہایت چھوٹے پیمانے پر تقلید کہلا سکتا ہے۔ آواکس طیارے میں پاور فل ریڈار نصب ہوتے ہیں جو دشمن کے اندر بہت دور تک جھانک سکتے ہیں، جبکہ ڈرون میں فی الحال یہ پراسس محدود پیمانے پر ہی عمل میں لایا جا سکتا ہے۔ چھوٹے اور غیر مسلح ڈرونوں میں ریڈار کی جگہ کیمرہ نصب ہوتا ہے، لیکن کیمرہ، ریڈار کا بدل نہیں بن سکتا۔ طاقتور سے طاقتور کیمرہ آخر کتنی دور تک دیکھ سکے گا؟ ہاں جب دو ممالک جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہوں اور اپنی افواج کو سرحدوں کی جانب Move کروانا شروع کر دیں تو ڈرون کو زیادہ بہتر نتائج کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اب ہم غیر مسلح ڈرونوں کے ان استعمالات کی بات کرتے ہیں جو امریکی حکام اور عوام کے گلے کا ہار بن رہے ہیں۔ آپ نے ڈرون کھلونے تو دیکھے ہوں گے۔ایک عرصے سے بچوں کے لئے یہ کھلونے تفریح کا کام دیتے ہیں کسی کھلے میدان میں ڈرون کھلونے کو اڑا دیا جاتا تھا اور اس کی اڑان کو زین پر کھڑا کوئی شخص مانیٹر کر سکتا ہے۔بچوں کا یہی کھیل بعد میں رفتہ رفتہ بڑوں کی ہابی بن گیا اور پھر اسی ہابی نے دنیائے جنگ و جدل میں ایک بڑی خرابی پیدا کر دی ہے۔

ہم فی الحال جنگ و جدل کی بات نہیں کرتے، امن و امان کی بات کرتے ہیں۔ جب غیر مسلح ڈرون سازی کا ارتقا شروع ہوا تو دیکھتے ہی دیکھتے اس کے نئے نئے استعمالات بھی شروع ہو گئے جن کا ذکر ہم پہلے کر آئے ہیں، اس میں ایک استعمال دوسروں کی خلوت میں دخل اندازی بھی تھا۔ یورپ اور امریکہ میں ہزاروں مقامات ایسے ہیں جہاں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ڈیٹنگ (Dating) کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ یہاں آبادیاں کم ہوتی ہیں۔ ایسا ساحل سمندر ہوتا ہے جو بیچ (Beach) نہیں کہلا سکتا، ایسی مستور گاہیں (Hide- owts) ہوتی ہیں جہاں پبلک کا آنا جانا نہیں ہوتا، ایسے شراب خانے(Pubs) اور ریستوران ہوتے ہیں جو ویک اینڈ گزارنے والے جوڑوں کے لئے باعثِ کشش ہوتے ہیں۔ یہی وہ مقامات ہیں جن کی فضائی ریکی کے لئے کیمرہ ڈرون استعمال کئے جاتے ہیں اور جو تصاویر ان سے حاصل کی جاتی ہیں وہ ایسے اخباروں اور رسالوں میں شائع کرنے کی غرض سے فروخت کر دی جاتی ہیں جو ایسے کاموں کے لئے مخصوص اور معروف ہوتے ہیں۔قارئین کو یاد ہو گا لیڈی ڈیانا اور مارگریٹ(ملکہ الزبتھ کی چھوٹی بہن) کے بہت سے ایسے شوٹ مخصوص میگزینوں، اخباروں کی زینت بنا کرتے تھے۔ فرانس کے ایک سابق صدر اور اٹلی کے وزیراعظم کی گرل فرینڈز کی کہانیاں بمعہ تصاویر کئی بار منظر عام پر آئیں اور کی بار فرانس اور اٹلی کی حکومتیں انہی تصاویر کی بدولت زمین بوس ہو گئیں۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ان مناظر کی تصویر کشی میں جس کیمرہ ٹیکنالوجی کو استعمال کیا گیا تھا وہ یہی ڈرون کیمرہ ٹیکنالوجی تھا جو پہلے خواص کی جاگیر تھیں مگر جیسا کہ ہمیشہ ہوتا رہا ہے،رفتہ رفتہ عوام کی تشہیر بن گئی!۔۔۔اب تو نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ امریکی عدالتوں میں ایسے مقدمات دائر کئے جا رہے ہیں جو ڈرون سازوں اور ڈرون استعمال کرنے والوں کے خلاف ایک نیا قانونی محاذ کھول رہے ہیں۔ امریکی پبلک اب تہذیب و اخلاق کی دہائی دے رہی ہے اور حکومت پر زور ڈال رہی ہے کہ ڈرون سازی کے لائسنس جاری کرنے کا ایک ضابط�ۂ اخلاق اور ضابطہ قانون کانگریس سے منظور کروا کر باقاعدہ اس کا نفاذ کیا جائے۔

یورپی اور امریکی مارکیٹوں میں ایک اور مسئلہ پیدا ہو گیا ہے جو اس قسم کے ضابط�ۂ اخلاق و قانون کو وضع کرنے کی راہ میں حائل ہو رہا ہے۔۔۔ اور وہ یہ ہے کہ چین ایک عرصہ یہ غیر مسلح ڈرونوں کی درجنوں اقسام بنا کر غیر ملکی مارکیٹوں میں بھیج رہا ہے۔یہ ڈرون سائز میں چھوٹے ہوتے ہیں لیکن ان کے اندر جو کیمرے لگے ہوتے ہیں وہ وزن اور سائز میں حیران کن حد تک ہلکے، لیکن پاور فل ہوتے ہیں۔ یہ ڈرون کھلونے مغربی ممالک کے شوقین لوگوں کی ہابی کے ذوق کی تکمیل کے لئے لاکھوں کی تعاد میں چین سے درآمد کئے جاتے ہیں۔ ڈرون سازی کے بہت سی فرمیں اور فیکٹریاں چین میں رجسٹرڈ ہیں۔ امریکہ یا یورپ کی عدالتیں ان چینی فرموں اور فیکٹریوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی نہیں کر سکتیں۔ ہاں ان کی درآمد پر پابندی لگا سکتی ہیں اور یہ کام حکومت کر سکتی ہے،عدالتیں نہیں۔اگر حکومت اس قسم کی پابندیاں چین پر لگاتی ہے تو اس کے بغلی اثرات (Side Effects) ایسے ہیں جو مغربی ممالک برداشت نہیں کر سکتے۔ اس لئے وہ فی الحال مجبور ہیں اور اگر مستقبل میں اس سلسلے میں کوئی قانون بنایا بھی گیا تو اس کے نفاذ کی راہ میں بہت سی رکاوٹیں حائل ہو جائیں گے۔امریکہ اور یورپ کے معاشرے جمہوری اور آزاد ہیں۔ ان میں اس نوع کی پابندیوں کا رواج نہیں اور ایک موضوع ہے جس پرکوئی مختصر مختصر تبصرہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔

لیکن آج کل امریکہ میں ڈرون کے استعمال کے موضوع پر ایک اور جانب سے ایسا دباؤ آ رہا ہے کہ جس کی اگر فوری روک تھام نہ کی گئی تو نتائج ہولناک نکل سکتے ہیں۔۔۔۔ اس کی کچھ تفصیل اگلی قسط میں! جاری ہے *

(جاری ہے)

مزید : کالم


loading...