ای او بی آئی کے پنشنرز کا مظاہرہ!

ای او بی آئی کے پنشنرز کا مظاہرہ!

پاکستان کے سینئر شہریوں کی انجمن کی صوبائی شاخ کے ارکان نے اپنی پنشن میں اضافے اور جمع شدہ رقوم کو خورد برد کرنے کے خلاف لاہور پریس کلب کے باہر مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ حکومت بڑھاپے کی پنشن یکم جولائی سے کم از کم پنشن کی حد کے مطابق6ہزار روپے ماہوار کرنے کا حکم جاری کرے اور جن حضرات نے ای او بی آئی فنڈز خورد برد کئے ہیں ان کے خلاف مقدمات بنا کر ان کو جیلوں میں ڈالا جائے۔ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹ انسٹیٹیوشن ایک ادارہ ہے، اس سے صنعتیں منسلک ہیں، جو ماہوار رقوم ادا کرتی ہیں کہ معمر افراد کو پنشن دی جائے۔ اس ادارے کے پاس کھربوں روپے ہیں اور حکومت کی طرف سے مقرر کئے جانے والے ڈائریکٹر حضرات اس رقم سے عیش کرتے ہیں، تنخواہیں اور مراعات حاصل کرتے ہیں۔ ایک مثال یہ ہے کہ حال ہی میں انسٹیٹیوشن نے80ارب کا منافع ظاہر کیا اور افسروں سمیت تمام ملازمین کو ڈھائی بونس دیئے ہیں۔ اس ادارے میں خورد برد کے حوالے سے عدالت عظمیٰ میں کیس زیر سماعت ہے، جس کے مطابق سابق چیئرمین اور ڈائریکٹر صاحبان نے کم قیمت کی زمینیں بہت زیادہ ریٹ پر خریدیں اور اربوں روپے خورد برد کئے۔

ایک طرف یہ صورت حال ہے تو دوسری طرف معمر اور بزرگ پنشنروں کو جن کی تعداد قریباً ساڑھے تین لاکھ ہے، صرف3600روپے ماہوار پنشن دی جاتی ہے پہلے یہ بھی ایک ہزار روپے ماہوار تھی۔ پیپلزپارٹی کے دور میں اضافہ دے کر3600 کی گئی، موجودہ حکومت نے ر واں سال کے بجٹ کے موقع پر کم از کم پنشن6ہزار ماہوار متعین کی، لیکن ای او بی آئی کے پنشنروں کو یہ حق نہ دیا گیا۔ دو ماہ قبل وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے مریدکے میں مزدوروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ وزارت خزانہ نے ہدایت جاری کر دی ہے اور پنشن6ہزار روپے کر دی گئی ہے۔ دو ماہ گزر گئے یہ اعلان بھی ہوا ہی میں رہ گیا ہے اور اب بوڑھے پنشنر اپنے حق کے لئے سڑکوں پر آئے ہیں۔

وزیر خزانہ نے اس کا نوٹس نہیں لیا، سارا بوجھ وزیراعظم پر ہے تو ان کو اس معاملے میں بھی مداخلت کرنا ہو گی کہ اس مہنگائی کے دور میں معمر پنشنر کس طرح گزارہ کر سکتے ہیں، جبکہ ان میں اکثر بیمار بھی ہیں۔ وزیراعظم فوری حکم جاری کریں کہ ان حضرات کی ماہوار پنشن6ہزار کر دی جائے اور یکم جولائی سے اب تک کے بقایا جات بھی یکمشت ادا کئے جائیں کہ یہ رقم حکومت کے خزانے سے ادا نہیں ہونی، یہ تو انہی محنت کشوں کی جمع کی گئی پونجی ہے۔ *

مزید : اداریہ


loading...