انتخابی اصلاحات کی ضرورت اور ان پر عمل درآمد کا مسئلہ

انتخابی اصلاحات کی ضرورت اور ان پر عمل درآمد کا مسئلہ

چیف الیکشن کمشنر جسٹس(ر) سردار رضا خان نے کہا ہے انتخابی اصلاحات پر عمل درآمد کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کا تعاون درکار ہے، پیپلزپارٹی کے ایک وفد نے اسلام آباد میں چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کی اور اُنہیں پیپلزپارٹی کی جانب سے انتخابی اصلاحات اور بائیو میٹرک سسٹم کے لئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ملاقات میں انتخابی اصلاحات کے متعلق غور کیا گیا، بعد میں لطیف کھوسہ نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن کے باقی ارکان کے اختیارات برابر نہیں ہونے چاہئیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں بھی الیکشن کمیشن کے ارکان پر تحفظات ہیں، اس لئے وہ رضا کارانہ طور پر مستعفی ہو جائیں۔

مجوزہ انتخابی اصلاحات پر غور کے لئے ایک33رکنی پارلیمانی کمیٹی کام کر رہی ہے، جو انتخابات کو منصفانہ اور غیر جانبدارانہ بنانے کے لئے ضروری ہیں۔ کمیٹی میں تمام پارلیمانی جماعتوں کی نمائندگی ہے تاہم تحریک انصاف کے ارکان اجلاسوں میں شریک نہیں ہو رہے۔اس کمیٹی کے متعدد اجلاس ہو چکے ہیں اور مختلف نوعیت کی تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے تاہم ابھی تک کمیٹی نے اپنی تجاویز کو حتمی شکل نہیں دی۔ یہ بھی طے نہیں کہ اس کام میں کتنا وقت لگے گا،البتہ یہ بات محلِ نظر ہے کہ جس جماعت کو انتخابی دھاندلیوں کے بارے میں سب سے زیادہ شکایات ہیں اور جس نے ان کے خلاف تحریک بھی چلا رکھی ہے اس کے ارکان ہی اجلاس میں شریک نہیں ہو رہے۔ ایسی صورت میں اگر کمیٹی اپنی تجاویز کو حتمی شکل دے دیتی ہے تو معلوم نہیں تحریک انصاف کا ردعمل کیا ہو؟ احتجاج اپنی جگہ، تاہم اگر الیکشن میں دھاندلیوں کی شکایات کو کم سے کم کرنا ہے اور انتخابات کا اعتبار قائم کرنے کے لئے کوئی میکنزم طے کرنا ہے، تو اس کے لئے بہرحال کسی نہ کسی انداز کی قانون سازی تو کرنا پڑے گی۔ یہ بھی ممکن ہے جو تجاویز طے ہوں انہیں عملی جامہ پہنانے کے لئے آئینی ترمیم بھی کرنا پڑے، یہ سارے کام پارلیمنٹ کے اندر ہوں گے، جہاں سے تحریک انصاف کے ارکان نے استعفے دے رکھے ہیں اور اس کے چند باغی ارکان کے سوا تحریک انصاف کے سربراہ سمیت اس کے باقی ارکان قومی اسمبلی کے اجلاسوں اور متعلقہ کمیٹیوں سے غیر حاضر ہیں۔ البتہ یہ اطلاعات بڑی دلچسپ ہیں کہ وہ تنخواہیں اور دوسری مراعات باقاعدگی سے وصول کر رہے ہیں۔

یہ کہنا تو قبل از وقت ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کن تجاویز کو حتمی شکل دیتی ہے اوراس کام میں کتنا وقت لگتا ہے تاہم جس بات سے کسی کو انکار نہیں وہ یہ ہے کہ انتخابات منصفانہ،آزادانہ اور شفاف ہونے چاہئیں۔ اب اس مقصد کے لئے جو بھی قانون بنتا ہے سیاسی جماعتوں کو اس کی کھل کر حمایت کرنی چاہئے۔ عمومی طور پر دیکھا گیا ہے کہ ہارنے والے ارکان کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ الیکشن ٹریبونلوں میں اُن کی عذر داریوں کے فیصلے تاخیر سے ہوتے ہیں اور بعض اوقات تو اتنی تاخیر ہو جاتی ہے کہ اسمبلی اپنی مدت پوری کر کے چلی جاتی ہے اور عذر داریاں ابھی تک زیر سماعت ہوتی ہیں اس لئے اگر عذر داریوں کے فیصلے جلد کرنے کے متعلق کوئی تجویز سامنے آتی ہے، تو سیاسی جماعتوں کو اس کی حمایت سے کیا انکار ہو سکتا ہے، اس مقصد کے لئے تمام ضروری سہولتیں حکومت کی طرف سے فراہم ہو جائیں تو ایسا ہو سکتا ہے۔ انتخابی عذر داریوں کے جلد فیصلوں کی مدت بھی مقرر کی جا سکتی ہے۔ تحریک انصاف نے اپنی احتجاجی مہم کے دوران جو مطالبات کئے ہیں، پارلیمانی کمیٹی اس کا جائزہ لے کر بھی شکایات دور کر سکتی ہے، بائیو میٹرک سسٹم کو متعارف کرانے کے لئے بھی قانون سازی ضروری ہے، اس لئے اگر اگلے الیکشن میں مشینوں کے استعمال کا فیصلہ ہوتا ہے، تو اس کے لئے بھی قانون سازی درکار ہو گی۔

جہاں تک لطیف کھوسہ کے اس مطالبے کا تعلق ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن کے دوسرے ارکان کے اختیارات برابر نہیں ہونے چاہئیں اس پر بھی سوچ بچار کر کے کوئی لائحہ عمل طے کیا جا سکتا ہے اور اگر متفقہ طو پر طے ہو تو چیف الیکشن کمشنر کے اختیارات بڑھائے بھی جا سکتے ہیں لیکن ارکان کی نسبت چیف الیکشن کمشنر کے اختیارات میں محض اضافہ کر دینے سے معاملہ حل نہیں ہو گا، ضرورت اس امر کی ہے کہ اختیارات میں اس طرح اتنا اضافہ کیا جائے کہ چیف الیکشن کمشنر بھارت کی طرح اتنا بااختیار ہو جائے کہ آزادانہ اور منصفانہ الیکشن کی راہ میں جو بھی رکاوٹ آئے وہ اسے دور کر سکے۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ حکومتیں اور حکام اپنے پسند کے امیدواروں کو منتخب کرانے کے لئے سرکاری وسائل کا استعمال کرتے ہیں، مثلاً انتخابات سے پہلے ترقیاتی کاموں کا لالچ دے کر ووٹ پکے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ عین اس وقت جب انتخابی مہم جاری ہوتی ہے حکومتی ارکان ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کرنے اور تختیاں لگانے پہنچ جاتے ہیں، جبکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ کسی حکومت کے پانچ سال میں یہی منصوبے سرکاری سرپرستی سے محروم رہتے ہیں اور انتخابات کی آمد کے ساتھ ہی ووٹروں کو لبھانے کے لئے ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار تیز تر کرنے کا تاثر دیا جاتا ہے، کسی جگہ سڑک کی ضرورت ہے تو تعمیراتی سامان وہاں جمع کر دیا جاتا ہے، بجلی کی ضرورت ہے تو کھمبے ڈھیر کر دیئے جاتے ہیں، اسی طرح کسی جگہ سکول کی عمارت تعمیر ہونی ہے تو وہاں تعمیراتی سامان جمع کر دیا جاتا ہے۔ ووٹروں پر اثر انداز ہونے کی ایسی کوششوں کا سدِ باب ہونا چاہئے اور اس مقصد کے لئے قانون سازی ہونی چاہئے اور الیکشن کمیشن کے اختیارات اس حد تک ہونے چاہئیں کہ وہ ایسے کاموں میں مداخلت کر کے انہیں رکوا سکے اور اس کی کوئی مزاحمت نہ ہو، بھارت میں ایسا ہی ہوتا ہے۔

سردار لطیف کھوسہ نے2013ء کے الیکشن پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور الیکشن کمیشن کے ارکان سے رضا کارانہ طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ سردار لطیف کھوسہ خود وکیل ہیں انہیں معلوم ہے کہ انتخابی دھاندلیوں کے ازالے کے لئے قانون نے کون سے راستے متعین کر رکھے ہیں اور الیکشن کمیشن کے کسی رکن کے متعلق اگر کسی کو کوئی شکایت ہے تو اس کے ازالے کی کیا صورت ہے۔ انہیں جس رکن سے شکایت ہے وہ اپنی شکایت لے کر سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس جائیں اگر اُن کی شکایت درست ہو گی تو انہیں کونسل سے ریلیف مل جائے گا۔ الیکشن کمیشن کے ارکان کے متعلق جو ’’تحفظات‘‘ ظاہر کئے جا رہے ہیں اُن کی شکل وصورت کیا ہے یہ کسی کو اب تک نہیں معلوم اور ان تحفظات کا کتنا تعلق کس رکن الیکشن کمیشن سے ہے، اس بارے میں بھی کچھ معلوم نہیں۔ مجموعی طور پر سب کو ہی قصور وار کیوں گردانا جا رہا ہے؟سردار لطیف کھوسہ(یا ان کی جماعت) کو اگر تحفظات ہیں تو بہتر ہے وہ کھل کر سامنے آئیں اور قوم کو بتائیں کہ انہیں کیا شکایات ہیں، مبہم الزامات پر تو کسی رکن سے استعفا طلب کرنا مناسب بات نہیں اور اگر ارکان اُن کی یہ ڈیمانڈ نہ مانیں تو پھر ان کے پاس جو قانونی راستہ رہ جاتا ہے اسے اختیار کرنے کے سوا چارہ نہیں۔ احتجاج اپنی جگہ،جب تک اس سلسلے میں قانون سازی نہ ہو گی مسئلہ حل نہیں ہو گا، اس لئے بہتر یہ ہے کہ تمام شکایات پارلیمنٹ میں لائی جائیں اور وہیں ان کا علاج ڈھونڈا جائے۔

مزید : اداریہ


loading...