حکومتی سر پرستی اور سپانسر کے بغیر کھیل میں بہتری آنا مشکل ہے، دانیال جہانگر

حکومتی سر پرستی اور سپانسر کے بغیر کھیل میں بہتری آنا مشکل ہے، دانیال جہانگر

 لاہور (سپورٹس رپورٹر) انٹرنیشنل گالفر دانیال جہانگیر نے کہا کہ حکومتی سر پرستی اور سپانسر کے بغیر کھیل میں بہتری آنا مشکل ہے، ایک عام کھلاڑی کو پریکٹس کے لئے روز آنہ ایک سے دو ہزار روپے چاہے ۔ جبکہ غریب آدمی گالف کلب کا ممبر بھی نہیں بن سکتا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور جمخانہ گالف کلب میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھاکہ وہ اٹھارہ سال سے گالف کھیل رہے ہیں اور چالیس سے زیادہ انٹرنیشنل ایونٹ میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ جبکہ ملائیشیا میں ہونے والے ایونٹ میں انفرادی طور پر دوسری پوزیشن حاصل کر چکے ہیں۔ اس ایونٹ میں پاکستان سے پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ جبکہ پنجاب کپ جو کہ پاکستان میں کھیلا گیا اور جیتنے والی ٹیم کا حصہ تھے۔ ایک سوال کے جواب میں دانیال جہانگیر نے بتایا کہ کرکٹ میں گراس روٹس سے اکیڈمی تک پیسہ ہی پیسہ ہے جبکہ اس کے لئے پوری ٹیم کو ایک گیند اور بلے کی ضرورت ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ اعصام الحق، ٹینس سٹار کے والد کی سرپرستی نہ ہوتی تو وہ بھی ٹینس سٹار نہ ہوتے کیونکہ انہو ں نے جتنے بھی ایونٹ میں حصہ لیا تمام اخراجات خود برداشت کئے۔ انڈیا میں گالف کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ وہاں پر گالفر کو حکومتی اور کمپنی کی سطح پر سپانسر شپ حاصل ہوتی ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 3


loading...