کوڑا اٹھانے کی ڈور ٹو ڈور مہم دیہاڑی بازی میں تبدیل شہری خاکروبوں کے رحم وکرم پر

کوڑا اٹھانے کی ڈور ٹو ڈور مہم دیہاڑی بازی میں تبدیل شہری خاکروبوں کے رحم وکرم ...

 ۔لاہور(جاوید اقبال)صوبائی دارالحکومت میں لاور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی طرف سے گھروں سے ڈو ر ٹو ڈور کوڑاکرکٹ اٹھانے کی مہم دم توڑ گئی ، جس سے ہر گھر سے کوڑا اٹھانے کا خاکروب نے طے شدہ ریٹ میں اضافہ کردیا ہے پسماندہ علاقوں میں تعینات خاکروب ہر گھر سے کوڑا اٹھانے کا 100روپے ماہوار وصول کرتا تھا جو 150روپے سے 175روپے ماہوار کردیا گیا ہے اور متوسط طبقے کی آبادیوں میں کوڑا اٹھانے کا ریٹ 200روپے کرلیا گیا ہے جبکہ جدید اور ماڈرن آبادیوں میں کوڑا اٹھانے کا ریٹ ماہوار 300روپے سے 350کردیا گیا ہے د وسری طرف یونین کونسل کی سطح پر صفائی کے لئے تعینات کئے گئے عملے میں سے 30فیصد تک خاکروب خاضریاں لگا کر غائب کردیئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے لاہور کے 40سے 50فیصد علاقوں میں صفائی کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے بتایا گیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت میں لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی نے صفائی کا ٹھیکہ لیتے ہی ڈور ٹو ڈور ہر گھر سے کوڑا کرکٹ اٹھانے کی مہم شروع کی جس کے لئے ہر گھر میں ہفتہ وار کوڑا ڈالنے کے لئے پیلے رنگ کے بیگ دیئے جاتے ،ہر شہری کوڑا بیگ میں ڈل کر اسے گھر کے باہررکھتا جو خاکروب اٹھا کر لے جاتے اس طریقے کار کے تحت خاکروب جو ’’جگا ‘‘ پر گھر سے کوڑا اٹھانے کے نام پر وصول کرتے وہ بند ہوکررہ گیا اس اقدام سے کمپنی کے صفائی مافیا کی دیہاڑیاں بند ہوگئیں بعدازاں یہ سلسلہ’’ مافیا‘‘ کے دباؤ میں آکر بندد کردیا گیا جس کے بعد ہر گلی میں منی فلتھ ڈپو رکھنے کا پروگرام دیا گیا جو چند علاقوں تک محدود ہوگیا جہاں منی فلیتھ ڈپو رکھے گئے وہ بھی چوری ہوگئے اب دوبارہ پرانا سسٹم بحال کردیا گیا ہے جس کے تحت خاکروبوں نے گھر گھر سے کوڑا کرکٹ اٹھانے کے ریٹ شروع میں 50روپے فی گھر انے طے کئے جو بڑھتے بڑھتے 350روپے ماہوار تک پہنچ گئے ہیں۔اندرون لاہور شمالی لاہور کی تنگ تاریک گلیوں کے دور فلتھڈپورکھے گئے ہیں جہاں سے شہریوں کا کوڑا کرکٹ لے کر پہنچنا مشکل ہے جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خاکروب کوڑا اٹھانے کے ماہانہ چارجز وصول کررہے ہیں جو گھرانے پیسے نہ دیں ان کا کوڑا کرکٹ اٹھانے کی بجائے ان کے گھروں کے سامنے ڈھیر لگادیا جاتا ہے اس اضافی کمائی سے کوڑا اٹھانے کے نام پر خاکروب ماہوار ساڑھے 3کروڑ روپے سے 5کروڑ روپے اضافی کمارہے ہیں جواوپر تک تقسیم ہوتے ہیں اور اس طرح یومیہ بنیادوں پر 2ہزار سے 25سو ٹن کوڑا شہر میں جگہ جگہ پڑا نظر آتا ہے اس حوالے سے کمپنی کے آپریشن منیجر سہیل ملک سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ شہری کسی خاکروب کو پیسے نہ دیں انہوں نے کہا کہ ڈور ٹو ڈور کوڑا کرکٹ اٹھانے کے لئے منی فلیتھ ڈپو گلیوں میں رکھنے کا کام شروع کردیا گیا ہے جلد اس برائی سے نجات مل جائے گی انہوں نے کہا کہ خاکروب کی کام چوری بند کردی گئی ہے اس نظام کے مخالفین اور حاسدالزامات لگاتے ہیں ہمار اسسٹم اوپن ہے کو ئی بھی آکر دیکھ سکتا ہے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...