صوبائی دارالحکومت میں 67سالوں کے دوران دیرینہ دشمنیوں نے ہزاروں جانیں لے لیں

صوبائی دارالحکومت میں 67سالوں کے دوران دیرینہ دشمنیوں نے ہزاروں جانیں لے لیں

 لاہور (بلال چودھری) صوبائی دارالحکومت میں دیرینہ دشمنیوں نے ہزاروں ماؤں کے لخت جگر لقمہ اجل بنا دیئے۔، 67سالہ تاریخ کے دوران کم و بیش 150متحارب دشمن دار گروپ منظر عام پر آئے جن میں سے اکثریت ایسے مخالفین کی ہے جن کی دشمنی نسل در نسل چلتی رہی ،چودھراہٹ، انتقامی جذبے ، جگا ٹیکس ،قبضہ گروپ ،اور خون کا بدلہ خون کے نام پر ہونے والی قتل وغارت گری اپنی جگہ، لیکن کئی دشمنیاں محض تو تکرارکے چکر میں شروع ہوئیں جو آج تک ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں ،بڑی بڑی اہم سیاسی شخصیات نے بھی گاہے بگاہے ان دشمنیوں کو دوستی میں بدلنے کی کوشش کی لیکن بیشتر میں کامیابی ممکن نہ ہوئی ان میں سے کئی ایک دشمنیاں ایسی بھی ہیں جن کی ابتداء پولیس سے ہوئی اور اسے پروان چڑھانے میں بھی پولیس مرکزی کردار ادا کرتی رہی ،کئی ایک پولیس کے اعلی افسران بھی دشمن داریوں کو اپنی مفاد کی خاطر ہوا دیتے رہے اور کئی ایک پولیس والے دشمنیوں کی بھینٹ چڑھ گئے۔تفصیلات کے مطابق لاہور میں سب سے پہلی دشمنی نادر اور عابد کی پارٹیوں کے درمیان شروع ہوئی جس میں دونوں اطراف سے 8افراد قتل ہوچکے ہیں۔اسکے بعد1965میں ہنجروال شاہپور میں ملک اشرف اور پیر منا کے درمیان \"چودھراہٹ \"پر جھگڑا شروع ہوا ۔ جس میں ملک اشرف پیر منا سمیت 50سے 60افراد قتل ہوچکے ہیں ۔80کی دہائی میں شیخ اصغر اور معراجدین عرف ماجھا سکھ کے درمیان دشمنی میں 25کے قریب افراد قتل ہوئے ۔ شیرانوالہ گیٹ کے قوما قصائی کی جگا گجر گروپ سے دشمنی رہی جس پر قوما قصائی نے لاہور کی پہلی دشمنی میں نادر پارٹی کا ساتھ دیا تھا اس دوران گاما پہلوان جو نادر کی اولاد میں سے تھا اس نے 18سال بعد اپنے باپ کے قتل کا بدلہ گڈو نامی شخص کو قتل کر کے لیا بعدازاں عبدالمجید بلا عرف کاکا نے گاما پہلوان کو مارا اور اسکے بعد شاہیا پہلوان کی اپنے رشتے دار شیخ امیر الدین تاراں والا کے ساتھ دشمنی شروع ہوئی اس دشمنی کا آغاز شاہیا پہلوان کے بیٹے ججی کی طرف سے شیخ امیر الدین کی بیٹی کو مبینہ طور پر چھیڑنے سے ہوا جس کی وجہ سے شاہیا کے بیٹے ججی،سہیل اور بھولی سمیت دیگر متعدد افراد قتل ہوئے جبکہ شاہیا گروپ نے تاراں والا کے بیٹوں کو قتل کیا اس دشمنی کے دوران تقریبا 7کے قریب افراد قتل ہوئے۔باغبانپورہ میں اچھو شیدی نے درجنوں افراد کو قتل کیا بعدازاں پولیس مقابلے میں مارا گیا۔اسلام پورہ کے باؤ وارث کی متعدد افراد سے دشمنی تھی اس دشمنی کی بنا پر بھی متعدد افراد قتل ہوئے ،گوالمنڈی کے جنرل کونسلر چودھری مقصود کی دشمنی مقامی گجرپارٹی سے تھی جس کی بنا پردونوں خاندانوں کے 10 قتل ہوئے۔ہنجروال میں افتخار عرف استوکی دشمنی ریت اٹھانے کے تنازعہ پر مقامی رہائشی سابق ایم پی اے اشرف بھارا سے شروع ہوئی دونوں پارٹیوں کے درمیان 50سے زائد افراد قتل ہوئے جن میں بچے و خواتین بھی شامل تھے ،اشرف بھارا کے لاڈلے دوست کالو شاہ پوریا نے اپنے مخالفین کو قتل کرنے کے لیے \"باراتی \"کا روپ دھار کر 9کے قریب افراد کو موت کی نیند سلا دیاتھا۔۔ بلال گنج کے میاں گڈومجاورکی طاہر پرنس سے دشمنی چل رہی تھی جس میں 8افراد قتل ہوئے بعدازاں طاہر پرنس بھی اس کے بعد پولیس کے ہاتھوں مارا گیا ۔اندرون لوہاری کی بانو نامی خاتون کے بیٹوں کمال،پیچی،نادراور پطوکی متعدد افراد سے دشمنی ہے جس میں کئی افراد قتل ہو چکے ہیں۔رحمان پورہ اچھرہ کے سید فرقان شاہ کی دشمنی شیخ نعیم سے معمولی بات پر شروع ہوئی دونوں پارٹیوں کے درمیان قتل و غارت کا بازار تاحال گرم ہے ،علاوہ ازیں ساندہ کے منا قریشی اور کالا دائی والا کی بھی متعدد افراد سے دشمنی چل رہی ہے منا قریشی نے اپنے دوست سے دشمنی شروع ہونے پر اس کے ماں باپ اور اسے عیدالاضحی کی رات سمن آباد میں قتل کیا بعدازاں اشتہاری ہوگیا ۔ عارف بھنڈر اور ملک زاہد عرف زاہدو کی دشمنی میں ملک زاہد نے مخالفین کے 7 افراد کو ایک ہی وار میں فائرنگ کر کے قتل کردیا ، اس موقع پر ایک زخمی پولیس کانسٹیبل کی فائرنگ سے ملک زاہد عرف زاہدو بھی موقع پر مارا گیاتھا۔ اب تک ندیم بٹ اور مبین بٹ گروپ میں تقریبا9افراد قتل ہو چکے ہیں۔ جبکہ شہر میں باغنابپورہ،باٹا پور،کاہنہ،کوٹ لکھپت،بھاٹی گیٹ،شاہدرہ،ہنجروال،شادباغ،اور دیگر نواحی علاقوں میں دیرینہ دشمنیوں میں آئے روز لوگ قتل ہو رہے ہیں جن کی تعداد کئی ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ قتل و غارت گری کے باوجو د پولیس کی دانستہ یا نا دانستہ چشم پوشی اس دشمن داری پر جلتی پر تیل کا کام کرتی ہے ،ایک دور میں نقص امن عامہ کے تحت دشمن داروں کو غیر مسلحہ کرنے اور گرفتار کر کے جیلوں میں ڈالنے کی مہم شروع ہوئی تھی لیکن اچانک بند کر دیے جانے کی وجہ سے یہ دشمنیاں روز بروز بڑھ رہی ہیں۔

مزید : علاقائی


loading...