بولڈ اینڈ بیوٹی فل مشاعرہ

بولڈ اینڈ بیوٹی فل مشاعرہ
بولڈ اینڈ بیوٹی فل مشاعرہ

  


9 دسمبر کی شام مَیں نے الحمرا ادبی بیٹھک میں گزاری جہاں ہر عمر کی خواتین اپنی بیاضوں سمیت آئی ہوئی تھیں۔ آرٹس کونسل کے چیئرمین اور ممتاز کالم نگار عطا الحق قاسمی نے فون پر بتایا تھا کہ خواتین کا مشاعرہ ہے، پھر یہ حکم بھی صادر کیا تھا کہ سننے آ جاؤ۔ میں نے کہا: ’’مَیں مشاعرہ سنوں گا بھی اور دیکھوں گا بھی‘‘۔ ادبی بیٹھک میں پہنچا تو امانت لکھنوی یاد آ گئے جنہوں نے ’’اندر سبھا‘‘ لکھ کر سارے حسن پرستوں کو امر کر دیا ہے۔ صدارت محترمہ عشرت آفریں کر رہی تھیں ،جنہیں مَیں ایک عرصے تک جناب احمد ندیم قاسمی کے رسالے ’’فنون‘‘ میں پڑھتا رہا ہوں۔ مہمانِ خصوصی کی نشستوں پر نوشی گیلانی اور فاطمہ حسن بیٹھی تھیں۔ نوشی گیلانی کو دیکھ کر مجھے ہمیشہ یہ شعر یاد آتا ہے:

ہم روحِ سفر ہیں، ہمیں ناموں سے نہ پہچان

کل اور کسی نام سے آ جائیں گے ہم لوگ

پھرمَیں دل ہی دل میں اس شعر میں تھوڑی سی تحریف کرتا ہوں تو یہ کچھ اور بھی حسبِ حال ہو جاتاہے:

ہم روحِ سفر ہیں، ہمیں شہروں سے نہ پہچان

کل اور کسی شہر سے آ جائیں گے ہم لوگ

پہلے پہل وہ بہاول پور سے لاہور آیا کرتی تھیں، پھر کچھ عرصے تک ان کا نام امریکہ سے لاہور والوں تک پہنچتا رہا۔ خود بھی ایک آدھ بار آئیں۔ ایک بار آئیں تو بتایا گیا کہ آسٹریلیا سے آئی ہیں۔ اب کے آئیں تو بتایا گیا کہ سنگا پور سے سیدھی لاہور آ رہی ہیں۔ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ ڈاکٹر سلیم اختر کی طرح نوشی گیلانی بھی بگولوں کی ہم سفر ہیں۔ سفر کرتی ہیں، لیکن ناک کی سیدھ میں نہیں چلتیں۔ اوپر کی طرف جاتی ہیں ۔اب تو وہ واقعی اتنا اوپر جا چکی ہیں کہ کسی کو پکڑائی ہی نہیں دیتیں ،لیکن قاسمی صاحب کو وہ خود ڈھونڈتی ہیں اور قاسمی صاحب کی مہربانی کہ وہ نوشی گیلانی کو ہمارے رو برو بٹھا دیتے ہیں۔

ڈاکٹر فاطمہ حسن کو خاص طور پر کراچی سے بلایا گیا تھا۔ قاسمی صاحب نے انکشاف کیا کہ وہ فاطمہ حسن کو بچپن سے پڑھ رہے ہیں، وہ یہ بتانا بھول گئے کہ کس کے بچپن سے؟ میرے دائیں طرف امریکہ سے آئی ہوئی شاعرہ ریحانہ قمر بیٹھی تھیں۔ وہ مشاعرے میں کچھ دیر سے پہنچی تھیں، ان کے بارے میں مَیں نے احمد عقیل روبی کا خاکہ ’’بولڈ اینڈ بیوٹی فل‘‘ پڑھ رکھا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ روبی صاحب نے یہ خاکہ ریحانہ قمر کی موجودگی میں ریگل کے قریب واقع شیزان ریسٹورنٹ میں سنایا تھا۔ اب دونوں ہی مرحوم ہو چکے ہیں۔ روبی صاحب بھی اور شیزان ریسٹورنٹ بھی ۔ریحانہ قمر خود بڑھاپے کی طرف رواں دواں ہیں ،لیکن ان کی شاعری جوان ہو رہی ہے،وہ آج بھی پہلے کی طرح بولڈ اور بیوٹی فلم دکھائی دیتی ہیں۔ جب وہ اپنا کلام سنا چکیں تو مجھے کہنے لگیں: ’’اگر مَیں نکل جاؤں تو بُرا تو نہیں لگے گا‘‘؟ مَیں نے کہا: ’’نہیں آپ کسی کو بتائے بغیر چپکے سے نکل جائیں‘‘۔ بولیں: ’’کس کے ساتھ نکل جاؤں؟‘‘ مَیں نے کہا: ’’میرے ساتھ‘‘ ۔بولیں: ’’پھر آجاؤ‘‘۔ ادبی بیٹھک سے نکل کر کہنے لگیں: ’’اب مَیں اپنا سارا زیور اور جمع پونجی لے آؤں؟‘‘ مَیں نے کہا: ’’اس کی ضرورت نہیں۔ میرے پاس زادِ راہ موجود ہے۔‘‘ اس پر انہوں نے زبردست قہقہہ لگایا اور تیزی سے کسی کے ساتھ نکل گئیں۔ مَیں سوچ رہا تھا کہ اتنی زندہ دلی کسی شاعرہ ہی میں ہو سکتی ہے۔ وہ ایک لمحہ اور رکتیں تو مَیں انہیں یہ شعر ضرور سناتا:

زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے

تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے

میرا دل چاہ رہا ہے کہ اس بولڈ اور بیوٹی فلم شاعرہ کے چند شعر قارئین کے سامنے رکھوں تاکہ ان کی تخلیقی شخصیت کا اندازہ لگایا جا سکے۔ تو لیجئے ان کے اشعار پڑھیئے اور سر دُھنئے:

مرے چہرے پہ کوئی خاص تبدیلی نہیں آتی!!

وہ پھر بھی جان لیتا ہے کوئی جب دل میں آتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بچپن کی وہ محرومی چلی آئی کہاں سے

روتے ہوئے نکلی مَیں کھلونوں کی دکاں سے

تم دونوں محاذوں پہ مرا ساتھ نبھانا

اک جنگ مری خود سے ہے، اک جنگ جہاں سے

خود تو مجھے حق مانگنا آیا نہیں اب تک

ہر بات کہلواتی ہوں بچوں کی زباں سے

اس بار بھی آنکھوں سے چھلک پائی نہیں میں

اس بار بھی لوٹ آئی ہوں خطرے کے نشاں سے

اب اتنا تعلق ہے کہ توڑا نہیں جاتا

جو توڑ کے جائے گا قمر جائے گا جاں سے

مشاعرے میں شریک بعض خواتین، صرف اس لئے بلائی گئی تھیں کہ وہ خواتین تھیں۔ ان کا اپنا وزن کافی زیادہ تھا ،لیکن شاعری ڈائٹنگ پر تھی۔ لاہور آرٹس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیپٹن (ریٹائرڈ) عطا محمد خان چونکہ خود بھی ایک زیرک شاعر ہیں، اس لئے انہوں نے اس بات کو محسوس کیا ،مجھے کہنے لگے: ’’اب آرٹس کونسل میں علمِ عروض کی کلاس بھی ہونی چاہئے۔‘‘ انہوں نے یہ بات مذاق میں کہی تھی لیکن مَیں سمجھتا ہوں کہ واقعی الحمرا میں فنِ عروض کی کلاس کی ضرورت ہے۔ اگر موسیقی، خطاطی اور مصوری کی کلاسز ہو سکتی ہیں تو شاعری کی کیوں نہیں؟ اس سلسلے میں، مَیں انہیں بلا معاوضہ اپنی خدمات پیش کرتا ہوں۔

اسی محفل میں امریکہ پلٹ شاعرہ فرحت زاہد نے اپنا شعری مجموعہ ’’عشق جینے کا اک سلیقہ ہے‘‘ عنایت فرمایا۔ فرحت زاہد کا تعلق بھی نوشی گیلانی کی طرح بہاول پور سے ہے۔ فرحت زاہد کی شاعری اپنا ایک الگ تھلگ لہجہ اور اسلوب رکھتی ہے۔ ان کی شاعری سننے کے لئے سماعت بے تاب رہتی ہے۔ ان کی شاعری میں گہرائی بھی ہے اور گیرائی بھی۔ ان کی کتاب سے چند منتخب اشعار ملاحظہ کیجئے:

خزاں کے آخری دن تھے وہ خوشبو مانگنے آیا

مرا دامن ہی خالی تھا مَیں اس کو پھول کیا دیتی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اِک دیا تھا بجھ گیا، اک خواب تھا رسوا ہوا

میز پر رکھے ہوئے ہیں اب بھی ہرجائی کے پھول

کھلکھلاتے دیکھتی ہوں ان کو گھر دالان میں

بھاگتے پھرتے ہیں ہر سُو میری انگنائی کے پھول

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کم حوصلہ تھا پیار سے آگے نہ جا سکا

وہ جیت کر بھی ہار سے آگے نہ جا سکا

بچپن سے لین دین تھا اس کی سرشت میں

باتوں میں کاروبار سے آگے نہ جا سکا

ماں بن چکی ہوں مَیں بھی، مگر اس سے کیا کہوں

جو اپنی ماں کے پیار سے آگے نہ جا سکا

فرحت زاہد کی یہ کتاب سانجھ پبلی کیشنز بک سٹریٹ مزنگ روڈ لاہور نے چھاپی ہے۔

مزید : کالم


loading...