کراچی جمعہ کو دھرنوں کی لپیٹ میں رہا

کراچی جمعہ کو دھرنوں کی لپیٹ میں رہا

کراچی (نعیم الدین) تحریک انصاف کی جانب سے کراچی بند کرنے کی اپیل پر جمعہ کو کراچی شہر میں حالات پر معمول سے ہٹ کر تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ جس سے اندازہ ہوا کہ کراچی اب بہت زیادہ حساس شہر ہوگیا ہے۔ اور کچھ چیزیں بند ہونے سے شہری زندگی بری طرح سے متاثر ہوسکتی ہیں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ جمعرات کے شب سے ہی کراچی کے مختلف علاقوں میں پیٹرول پمپ بند ہوگئے تھے، جس سے اگلے دن ٹریفک پر اسکے اثرات نمایاں ہوئے۔ دوسری جانب ٹرانسپورٹ بھی بند رہی۔ جس کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں سے نہیں نکل سکے۔جبکہ دوسری جانب کراچی کے 25سے زائد اہم مقامات پر تحریک انصاف کی جانب سے دھرنے دیئے گئے۔ مرکزی دھرنا شاہراہ فیصل پر عمران خان کی سربراہی میں دیاگیا، جہاں انہوں نے شرکاءسے خطاب کیا۔ دھرنے کی خاص بات یہ تھی کہ کسی بڑے ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ۔ تاہم بعض مقامات پر جلا¶ گھیرا¶ کے معمولی واقعات رونما ہوئے اور عمران خان کے خطاب کے دوران جےو چینل کی خواتین اینکرز کو مبینہ طور پر تنگ کیاگیا۔ بعد ازاں وہ وہاں سے گاڑی میں بیٹھ کر چلی گئیں ۔ تاہم دھرنے کے شرکاءپرامن طور پر منتشر ہوگئے۔ دھرنے کے باعث تجارتی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر تھیں، کراچی کی دونوں پورٹس پر بھی کام نہیں ہوسکا، کراچی ایئرپورٹ پر مسافروں کو سخت مشکلات اُس وقت پیش آئیں جب شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے باعث انہیں ایئرپورٹ پہنچنے اور ایئرپورٹ سے مختلف علاقوں تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ جبکہ ریلوے اسٹیشن پر بھی مسافروں کو بھی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں ایمبولینس سروس متاثر نہیں ہوئی جبکہ پولیس کا سیکورٹی پلان کامیاب رہا۔ مختلف علاقوں اور سیکورٹی سخت کی گئی تھی ۔ واضح رہے کہ کراچی میں بڑی سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کے تقاضے پورے کرتے ہوئے کھلا میدان دیدیا تھا۔ او ران جماعتوں میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم دونوں شامل ہیں۔ ان جماعتوں کا کہنا تھا کہ کراچی میں پرامن احتجاج سب کا حق ہے۔

مزید : صفحہ اول


loading...