پنجاب ،خیبر پختونخوا اور بلوچستان 7گھنٹے تک اندھیرے میں ڈوبے رہے

پنجاب ،خیبر پختونخوا اور بلوچستان 7گھنٹے تک اندھیرے میں ڈوبے رہے ...

                           لاہور (کامرس رپورٹر)نیشنل گرڈ سے تین صوبوں کو بجلی فراہم کرنیوالی 500 کے وی ناردرن ٹرانسمیشن لائن میں فنی خرابی کے باعث ملک کے تین صوبے مسلسل 7 گھنٹے تک اندھیرے میں ڈوبے رہے،پنجاب ، خیبر پختونخوا اورتقریباً آدھے بلوچستان کے 12 کروڑ بجلی صارفین دوپہر 12 بجکر 16 منٹ سے رات تک بجلی سے محروم رہے۔نیشنل پاور کنٹرول سنٹر کے ناردرن لوپ میں بڑی خرابی کے باعث تربیلا، منگلا اور غازی بروتھا ڈیم ٹرپ کر گئے جس کے نتیجے میں 3950 میگاواٹ بجلی سسٹم سے نکل گئی،ملکی تاریخ کے بڑے اور طویل بریک ڈاﺅن کے نتیجے میں معمولات زندگی ٹھپ ہو گئے، پی آئی اے، ریلوے سمیت بینکنگ کا نظام، اے ٹی ایم مشینیں معطل، صنعتی پہیہ جام اور بیشتر مارکیٹیں وقت سے قبل ہی بند ہو گئیں۔ واپڈا اور لیسکو حکام بریک ڈاﺅن سے بے خبر جبکہ پورا ملک افواہوں کی زد میں رہا ،شہری اخبارات کے دفاتر فون کر کے صورتحال جاننے کی کوشش کرتے رہے، لوگوںنے بجلی بندش کو پی ٹی آئی دھرنوں سے بے خبر رکھنے کیلئے اسے حکومتی حکومت عملی قرار دیا، جبکہ وزارت پانی و بجلی نے بریک ڈاﺅن کو فنی خرابی کا نتیجہ قرار دیا، وزیر اعظم کو عبوری رپورٹ جمع کروا دی گئی ہے تاہم سیکرٹری پانی و بجلی کی سربراہی میں کمیٹی دو دن میں وزیر اعظم کو مکمل رپورٹ پیش کرے گی۔تفصیلات کے مطابق نیشنل پاور کنٹرول سنٹر (این پی سی سی ) کی 500 کے وی کی ٹرانسمیشن لائن(ناردرن لوپ) میں اچانک فالٹ آنے کے باعث تربیلا ، منگلا اور غازی بروتھا ڈیم ٹرپ کر گئے جس سے تقریباً 4 ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم سے نکل گئی ۔ اتنی بڑی خرابی کے باعث بجلی کا دباﺅ سدرن سسٹم کی ٹرانسمیشن پر آ گیا جس کے بعد این پی سی سی حکام نے سدرن سسٹم الگ کر کے ملک کے باقی حصوں کو بچا لیا، حیدرآباد سے آگے ، کوئٹہ اور کراچی شہر کی بجلی اس تکنیکی خرابی سے محفوظ رہی جبکہ پنجاب ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے آدھے حصے کے 12 کروڑ صارفین اس سے متاثر ہوئے۔بجلی کے نظام کی فریکونسی آﺅٹ ہونے کے باعث ملک افواہوں کی زد میں رہا اور لوگوں نے اسے پی ٹی آئی کے احتجاج سے لنک کیا تاہم وزارت پانی و بجلی اس کی تردید کرتا رہا۔ چیئرمین واپڈا ، واپڈا ہاﺅس میں کرپشن ڈے کی تقریب میں مصروف تھے جبکہ لیسکو کے اعلیٰ حکام بھی اس معاملے میں وثوق سے کچھ بتانے سے گریز کرتے رہے،لیسکو کے ہیلپ سنٹر بند کر دیئے گئے اور صارفین کو بریک ڈاﺅن کے بارے میں کسی قسم کی اطلاع نہ مل سکی، لیسکو کے پاور ڈسپیچ سنٹر کے مطابق لیسکو کے تمام 102 گرڈ مکمل طور پر بند رہے ۔ لیسکو صارفین کی روزنامہ ”پاکستان“ کے دفاتر میں کالز کا تانتا بندھا رہا ۔ ماہرین کے مطابق ڈیمانڈ کے مقابلہ میں پیداوار انتہائی کم ہونے پر ٹرانسمیشن لائن میں فنی خرابی پیدا ہوئی اور سسٹم مکمل طور پر ٹرپ ہو گیا ۔تربیلا کی ٹرانسمیشن لائن ٹرپ کرنے کے بعد تمام لوڈ منگلا پر پڑا جس کے باعث وہ بھی ٹرپ کر گیا ۔ دونوں بڑے ہائیڈل پلانٹ بند ہونے سے آسلام آباد سمیت پنجاب ، خیبر پختونخواہ اوربلوچستان کے چند شہروں میں بجلی کی مکمل بندش ہو گئی ۔مختلف نجی و سرکاری اداروں میں دو سے تین گھنٹہ تک بجلی کے متبادل انتظامات نے کام کیا اس کے بعد وہ بھی مزید لوڈ اٹھانے کے قابل نہیں رہے ۔ بندش کے باعث اسلام آباد ایئر پورٹ ، علامہ اقبال ایئر پورٹ ، سیالکوٹ ایئر پورٹ پر آپریشن بند ہو گیا ۔ امیگریشن اور فضائی کمپنیوں کے کاونٹر بند ہو گئے ۔ رن وے بھی اندھیرے میں ڈوب گئے ۔ ریلوے کا سسٹم بھی بند ہو گیا جس کے باعث ٹرینوں کا شیڈول شدید متاثر ہوا ۔ بینکنگ سسٹم بھی ٹھپ ہو گیا ۔ بجلی کی بندش کے باعث بینکوں کا مین لنک بند ہو گیا جس کے باعث آن لائن رقوم کی ٹرانزیکشن بند ہو گئیں ۔ بینکوں کے اے ٹی ایم سسٹم بھی بند ہو گیا جس کے باعث لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ ہسپتالوں میں بھی کام شدید متاثر ہوا ۔ درجنوں آپریشن ملتوی کر دیئے گئے۔انڈسٹری کا پہیہ بھی مکمل جام ہو گیا۔ دونوں صوبوں کی صنعتوں میں گزشتہ روز صرف آدھا دن کام ہوا دوسری شفٹ نہ چل سکی ۔ بجلی کی بندش کے باعث مارکیٹوں میں بھی معمول کے مقابلہ میں بہت کم خریدار آئے ۔ مغرب کے بعد بیشتر دکانداروں نے دکانیں بند کر دیں جو مارکیٹیں رات گئے تک آباد رہتی تھیں وہ سر شام ہی بند ہو گئیں ۔ بجلی کی بندش کے باعث صوبائی دارالحکومت سمیت دیگر شہروں میں ٹریف سگنلز بھی بند ہو گئے جس سے ٹریفک کا نظام بھی متاثر ہوا اور کئی سڑکوں پر ٹریفک جام ہو گئی ۔ بریک ڈاﺅن ہونے پر این ٹی ڈی سی کے انجینئرز نے فوری طور پر مرمت کا کام شروع کر دیا اور وزارت بجلی و پانی کی جانب سے پانچ گھنٹے میں بجلی کی مکمل بحالی کا اعلان کیا گیا ۔ تاہم پانچ گھنٹہ بعد بھی بجلی بحال نہ ہو سکی ۔ وزارت بجلی و پانی کے ترجمان ”پاکستان“ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پانچ سو کے وی کی لائن میں فنی خرابی پیدا ہوئی تھی جس کی مرمت کا کام فوری طور پر شروع کرتے ہوئے دو گھٹنے میں مکمل کر لیا گیا تھا اس کے بعد سے مرحلہ وار بجلی کی فراہمی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے انہوں نے بتایا کہ پاور جنریشن پلانٹس کو چلانے کے بعد لوڈ پر لانے میں وقت لگتا ہے فوری طور پر سسٹم لوڈ پر نہیں آتا ہے ۔ ہماری ترجیح پہلے بڑے شہروں میں بحالی ہے بعد ازاں چھوٹے علاقوں کو بحال کیا جائے گیا ۔ ترجمان کے مطابق بریک ڈاﺅن کے چھ گھٹنے بعد بڑے شہروں کا بڑا حصہ بحال کر دیا گیا تھا اور اٹھ سے نو گھٹنے کے بعد مکمل بحالی ہو جائے گی ۔ ماہرین کے مطابق پاور جنریشن پلانٹس کو مکمل لوڈ پر لانے کے لئے بیس سے 24 گھنٹہ درکار ہوتے ہیں ۔ دو گھنٹہ بعد پاور جنریشن یونٹوں کو چلا دیا گیا تو آج دوپہر تک مکمل بحالی ممکن ہو سکے گی۔

مزید : صفحہ اول


loading...