تھرپارکر ،غذائی قلت کے باعث مزید 2بچے جان سے گئے

تھرپارکر ،غذائی قلت کے باعث مزید 2بچے جان سے گئے

                                       تھرپارکر(مانٹیرنگ ڈیسک) تھر پارکر میں غذائی قلت کے باعث ہلاکتوں کاسلسلہ جاری ، مزید دو ننھے پھول مرجھا گئے ، گزشتہ 72 دنوں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر176 ہو گئی ، حکومت کی طرف سے امدادی گندم کی تقسیم کا پانچواں مرحلہ تاحال شروع نہ ہو سکا۔ تفصیلات کے مطابق غذائی قلت تھر میں انسانی زندگیوں کو نگل رہی ہے ۔ بھوک سے بلکتی اور سسکتی زندگی مسلسل موت کو خراج ادا کر رہی ہے ۔ تھر، چھاچھرو ، مٹھی اور اسلام کوٹ میں ہر روز ایک نیا ماتم اور سسکیاں سنائی دے رہی ہیں ۔ ایک نومولود نے تو آنکھیں کھولتے ہی موت کو گلے لگا لیا ۔ ایک ماہ کا سباش ساجن موت سے لڑتا ہوا زندگی ہار گیا ۔ 2 بچوں کو تشویشناک حالت میں سول ہسپتال حیدرآباد منتقل کر دیا گیا ۔ طبی سہولتوں کی عدم دستیابی سے بیماروں کی زندگی پر موت کے سائے منڈلا رہے ہیں ۔ چھاچھرو کے سیکڑوں دیہات میں بھوک نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں ۔ امدادی گندم کی تقسیم کا پانچواں مرحلہ تا حال شروع نہیں ہو سکا ۔ ایک طرف انتظامیہ بھوک سے بلکتے اور سسکتے افراد کو گندم تقسیم کرنے میں بری طرح ناکام ہے تو دوسری جانب متاثرین کو امدادی اشیا ، پانی ، خوراک اور دواں کے حصول میں سخت مشکلات کا سامنا ہے ۔ انتظامیہ اور محکمہ صحت کی جانب سے دعوں کے باوجود تھرپارکر کے متاثرہ دیہات میں صحت کی ٹیمیں مقرر نہیں کی جا سکیں جس کے باعث مختلف امراض پھیل رہے ہیں ۔ رٹیائرڈ جسٹس غلام سرور کورائی اور ریٹائرڈ جسٹس ارجن داس پر مشتمل تحقیقاتی کمیشن تھرپارکر پہنچ گیا ہے ۔ کمیشن تھرپارکر کی صورتحال کا جائزہ لے کر سندھ حکومت کو رپورٹ دے گا۔

مزید : صفحہ اول


loading...