وکلاء کیخلاف مقدموں پر لاہور بار کی ہڑتال، عدالتی بائیکاٹ، سیشن کورٹ کے گیٹوں کو تالے لگا دئیے

وکلاء کیخلاف مقدموں پر لاہور بار کی ہڑتال، عدالتی بائیکاٹ، سیشن کورٹ کے ...

 لاہور(نامہ نگار)وکلاء کے خلاف مقدمات درج کرنے پر لاہور بار ایسوسی ایشن نے گزشتہ روز ہڑتال کرکے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ،ہرٹال کے باعث ماتحت عدالتوں میں زیر سماعت20 ہزار سے زائد مقدمات و دعویٰ جات التوا کا شکار ہوئے جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں مر د و خواتین سائلین کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ۔واضح رہے کہ وکلاء کے خلاف مقدمات درج کئے جانے پر ایک روز قبل (جمعرات)کووکلاء نے احتجاج کرتے ہوئے سیشن کورٹ کے گیٹوں کو تالے لگا کر بند کردیا تھا۔تفصیلات کے مطابق لاہور بار کے سیکرٹر ی جنرل چودھری محمد سلیم لادی،سیکرٹری قسیم اسلم ہنجرا اور سینئر نائب صدر غلام عباس ساحر نے لاہور بار کی جانب سے سیشن کورٹ میں ہونے والے واقعہ کی تحقیقات کے لئے وکلاء پر مشتمل ایک 3 رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو 3 دن میں بار کو اپنی حتمی رپورٹ پیش کر دے گی سیکرٹری جنرل چودھری محمد سلیم لادی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء ،عدالتیں اور پولیس کا چولی دامن کا ساتھ ہے جبکہ ان کے تعاون کے بغیر انصاف کا حصول مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے انہوں نے کہا کہ پولیس اور وکلاء کے درمیان ہونے والے نا خوش گوار واقعہ کا بار نے سختی سے نوٹس لیا ہے اور اس کی تحقیقات کے لئے رانا محمد انور،چوہدری نصیر احمد اوررانا محمد سعید ایڈووکیٹ پر مشتمل تین رکنی کمیٹی قائم کردی گئی ہے جو اس معاملہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرکے تین دن میں لاہور بار کو رپورٹ پیش کرے گی ۔انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے نام فریقین کی باہمی مشاورت سے تجویز کئے گئے ہیں اور لاہور کے وکلاء کو ان کی غیر جانبداری پر کوئی شک و شبہ نہیں ہے اور وکلاء میں یہ تینوں نام انتہائی معزز اوردیانتدار ہیں ۔چودھر ی محمد سلیم لادی نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ لوگوں کو انصاف مہپیا کرنے کے لئے عدالتوں کے ساتھ ساتھ پولیس اور وکلاء کا ایک اہم کردار ہے اور یہ اپنا کردار انتہائی دیانتداری سے ادا کر رہے ہیں مگر انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچھ خفیہ ہاتھ ایسے ہیں کہ جو ملک میں انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ بننا چاہتے ہیں ہمیں اس خفیہ ہاتھ کو تلاش کرکے اسے بے نقاب کرنا چاہئے تاکہ انصاف مہیا کرنے میں اہم کردار ادا کرنے والے یہ دونوں ادارے ایک دوسرے ٹکرانے کے بجائے باہمی تعاون سے اپنی اپنی ذمہ دارایاں پوری کریں ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...