جماعت اسلامی کا الیکشن کمیشن کو انتخابی اصلاحات پیکیج پیش

جماعت اسلامی کا الیکشن کمیشن کو انتخابی اصلاحات پیکیج پیش

اسلام آباد (اے این این ) جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے چیف الیکشن کمشنر جسٹس رضا ء محمد کو انتخابی اصلاحات کے لیے جماعت کی طرف سے پیکیج پیش کر دیا جبکہ انہوں نے کمیشن کے چاروں اراکین سے رضا کارانہ طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ چیف الیکشن کمشنر کو متناسب نمائندگی کی بنیاد پر انتخابات کا فارمولا پیش کر دیا ہے ، الیکشن کمیشن کو مالیاتی اور انتظامی طور پر خود مختار کیے بغیر آزادانہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی نہیں بنایا جا سکے گا، مذاکراتی کمیٹیوں سے انتخابی دھاندلی کی تشریح اور عدالتی کمیشن کے ٹرم آف ریفرنس کے معاملات میں پیشررفت کا مطالبہ کیا ہے، لیاقت بلوچ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے حکومت کی جانب سے کوئی ٹھوس اور بنیادی اقدام اٹھائے بغیر تحریک انصاف سے احتجاج کی کال کو واپس لینے کا مطالبہ نہیں کر سکتے ۔انتخابی دھاندلی ثابت ہونے پر نواز شریف کو اقتدار چھوڑنا ہو گا اور اسمبلیاں نہیں چلنی چاہئیں ۔ چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کر تے ہو ئے کیا ۔اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں م،حمد اسلم اور امیر جماعت اسلامی اسلام آباد زبیر فارو ق خان بھی اُن کے ہمراہ تھے ۔لیاقت بلو چ نے کہا ملک میں طویل عرصہ سے الیکشن کمیشن متتازعہ چلا آ رہا ہے جو بھی انتخابات کروائے گئے ان تمام پر اعتراضات ہوتے رہے ہیں موجودہ چیف الیکشن کمشنر پر تمام جماعتیں متفق ہیں انہیں عوامی تائید اور حمایت حاصل ہے جو کہ چیف الیکشن کمشنر کے لیے ایک بڑی طاقت ہے۔توقع ہے کہ وہ اقدامات اٹھائے جائیں گے جس سے 18 کروڑ عوام کو انتخابی عمل کے حوالے سے اطمینان ہو سکے۔الیکشن کمیشن کو انتظامی مالیاتی طور پر بااختیار بنانے اسے عدالت عظمیٰ کے مساوی آئینی حیثیت ،بائیو میٹرکسسٹم و الیکڑانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال ہر صورت آئین کی شقوں 62,63 پر عملدرآمد کو یقینی بنانے اور اس شرط پر پورا نہ ا ترنے والے امیدواروں کی جماعتوں کو انتخابات میں حصہ نہ لینے سمیت دیگر تجاویز دی گئیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ کمیشن کے چاروں اراکین کا احترام کرتے ہیں۔انتخابات میں ان کاکنڈٹ سب کے سامنے ہے الیکشن کمیشن کی مکمل طور پر تشکیل نو ہونی چاہیے۔ ان اراکین کی پی پی کے دور میں تقرری ہوئی تھی حکومت بھی کہہ رہی ہے ان کے دور میں یہ تقرریاں نہیں ہوئیں۔ اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ چاروں اراکین خود راستہ بنائیں تاکہ کمیشن پر عوامی اعتمادبحال ہو سکے۔ کمیشن کو غلطیوں سے پاک صاف شفاف انتخابی فہرستوں کی تیاری پولنگ سکیم پر کسی کے اثر انداز نہ ہونے اور 62,63 پر عملدرآمد کا میکانزم وضع کرنے کی تجاویز دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ریٹرنگ آفیسران پر نہ چھوڑا جائے بلدیاتی انتخابات نہ کروا کر عوام کو ان کے بنیادی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے اس معاملے پر عوام میں شکوک وشہبازت پائے جاتے ہیں جیسے صوبائی حکومتیں چاہتی ہیں بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر ویسے ہی کمیشن موم کی ناک کی طرح مڑ جاتا ہے۔اسی طرح مختلف ممالک میں متناسب نمائندگی کا کامیاب تجربہ کیا جا چکا ہے اس سے جمہوریت مضبوط ہوئی ہے متناسب نمائندگی کی بنیاد پر انتخابات سے جاگیرداروں،سرمایہ داروں اور مفاد پرستوں کو انتخاباتت میں سیاسی جماعتوں کو یرغمال بنانے کاموقع نہیں مل سکے گا۔ عوام کو پارٹیوں کو ان کے منشور کی بنیاد پر ووٹ کے حق کے استعمال کا موقع ملے گا مذاکرات کیمعاملے پر انہوں نے کہا کہ بات چیت کے لیے حکومت اور تحریک انصاف نے اپنے دروازے کی کنڈی کھول دی ہے۔ملک سیاسی کشیدگی کا متحمل نہیں ہو سکتا اس قسم کی سیاست سے آئین اور جمہوریت کو خطرات لاحق ہونگے مذاکرات سے سیاست کے چہرے پر نکھار آئے گا سیاسی قیادت کا قد کا ٹھ بڑھے گا مذاکرات کے ذریعے جمہوری استحکام کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ تصادم سے بچا جائے کمیٹیاں بن گئیں ہیں توقع ہے کہ بہتر نتیجہ نکلے گا عدالتی کمیشن کے قیام اصل رکاوٹ انتخابی دھاندلی کی تشریح ہے وقت ضائع کیے بغیر ٹی او آرز بنائے جائیں اپنی اپنی کمیٹیوں کو نواز شریف اور عمران خان بااختیار بنائیں تاکہ مذاکراتی کامیابی سے عوام کو سکون ملے اور ملک کی سلامتی اور استحکام کو باہر سے جو خطرات لاحق ہیں قوم ان کے مقابلے متحد ہو اور سیکیورٹی سے اپنا فرض ادا کر سکے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...