مختلف صوبائی اداروں میں 37افسروں کی جگہ پر 117افسر براجمان، ڈیپوٹیشن پالیسی کی دھجیاں

مختلف صوبائی اداروں میں 37افسروں کی جگہ پر 117افسر براجمان، ڈیپوٹیشن پالیسی کی ...

 لاہور(عامر بٹ سے )پنجاب حکومت کے ماتحت چلنے والے لوکل ادار وں میں بیوروکریسی کی من مانیاں زذور و شور سے جاری ، ڈیپوٹیشن پالیسی کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی گئیں ،گڈ گورنس کو سوالیہ نشان لگ گیا ایل ڈی اے،پی ایچ اے،ضلعی حکومت اور واسا میں قواعد و ضوابط کے برعکس کئے جانے والے اقدامات کو پرموٹی آفیسروں نے چیلنج کر دیا،چیف سیکریٹری پنجاب کو تحریری آگاہی دے دی گئی ،روزنامہ پاکستان کو ملنے والی معلومات کے مطابق اس وقت پنجاب حکومت کے مختلف اداروں میں 37افسروں کی جگہ پر 117افسر براجمان ہیں ان محکموں کے سینئر پرموٹی افسروں کونظراندازکر کے جونیئر افسروں کواعلیٰ عہدوں پر فائزکیا گیا ہے جس کی وجہ ان اداروں کے کرتا دھرتا بیوروکریٹس کی من مرضیاں بتائی جارہی ہیں ،اس صورتحال کے باعث متعدد سینئر افسروں واہلکاروں نے متعلقہ اعلیٰ حکام کوشکایات کی ہیں تاہم اس سلسلے میں کوئی موثر اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے الٹا شکایات کرنے والے افسروں وا ہلکاروں کوپیڈا ایکٹ کے تحت ظلم و ستم کا نشانہ بناتے ہوئے نوکریوں سے برطرف بھی کیا جارہا ہے ،رواں سال کے دوران 156سے زائد اہلکار و افسربیوروکریسی کے عتاب کا شکار ہو چکے ہیں،دوسری جانب سنگین الزامات اور دہشت گردی کی دفعات میں ملوث آفیسروں کو اہم انتظامی عہدوں سے نوازہ جارہا ہے اور اس ضمن میں ڈیپوٹیشن پالیسی کو سرے سے ہی نظر انداز کیا جارہا ہے ، ذرائع نے مزید بتایا کہ ان میں سانحہ ماڈل ٹاؤن اور سانحہ ایل ڈی اے پلازہ کے ذمہ دار قرار دیئے جانے والے افسر بھی شامل ہیں جن کو اہم سیٹوں پر تعینات کیا ہوا ہے ۔اس وقت پی ایچ اے میں 6افسروں کی جگہ12افسر ڈیپوٹیشن پرتعینات ہیں جبکہ ضلعی حکومت لاہور میں 20افسروں کی جگہ62افسر ڈیپوٹیشن پرتعینات ہیں ۔واسا میں 5کی جگہ17افسر تعینات ہیں۔ایل ڈی اے میں6کی جگہ26افسر تعینات ہیں ۔16،17اور18گریڈ کے جونیئر افسر20اور21ویں گریڈ کے افسروں کے سرکاری اختیارات اور وسائل استعمال کر رہے ہیں اور کئی افسران ان محکموں میں 4سال سے لیکر8سالوں سے تعینات ہیں یہ افسران اس وقت ڈیپوٹیشن پر آنے کے بعد ٹاؤنز،ایڈمنسٹریشن،ڈائریکٹر پبلک ریلیشن،ڈسٹرکٹ آفیسرز،ایڈمن آفیسرز کی سیٹوں پرتعینات ہیں اورسرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں اور سرکاری گاڑیاں بھی سرکاری کاموں کے بجائے ذاتی استعمال کیلئے گھروں میں رکھی ہوئی ہیں جبکہ اس حوالے سے پی ایچ اے کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل طاہر ا عجاز اور ایل ڈی اے کے 19ویں گریڈ کے احمد ممتاز نے چیف سکریٹری پنجاب اورسیکریٹری ہاؤسنگ کوتحریری درخواستیں بھی لکھی تھیں لیکن سیکریٹری ہاؤسنگ کی سیٹ خالی ہونے کے باعث ان درخواستوں پر انکوائریاں شروع نہیں ہوسکی ہیں ۔درخواستیں دینے والے افسروں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کی ہے کہ محکموں میں غیرقانونی طورپر افسروں واہلکاروں کی بھرتی پالیسی کا فوری نوٹس لیا جائے اورپرموٹی افسروں واہلکاروں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کے خلاف تحقیقات کی جائیں ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...