ڈکیتی قتل، بھتہ خوری، اغواء اور بد اخلاقی جیسے جرائم میں اضافہ

ڈکیتی قتل، بھتہ خوری، اغواء اور بد اخلاقی جیسے جرائم میں اضافہ

 لاہور(شعیب بھٹی )کروڑوں روپے کے فنڈز لینے والی سی آئی اے پولیس کی جانب سے جرائم پیشہ عناصر کے قلع قمع کرنے کے بلندو بانگ دعوے جھوٹے نکلے ۔ اشتہاریوں ملزمان سرعام دھندناتے پھر رہے ہیں جبکہ بھتہ خوری ،اغواء برائے تاوان اور ڈکیتی مزاحمت قتل سمیت دیگر سنگین جرائم میں اضافہ معمول بن چکا ہے ، جس کی وجہ سے عوام خوف و ہراس میں مبتلا ہوکراپنے گھروں تک محصور ہوکر رہ گئے ہیں جبکہ سی آئی اے پولس خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے ، سب کچھ جانتے ہوئے بھی ایس پی سی آئی اے عمرورک افسران بالاکو سب اچھے کی نوید سنا کر اپنی سیٹ پر جمے بیٹھے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق شہر لاہور میں گزشتہ تقریباساڑھ 11ماہ کے دوران قتل کے دوران ڈکیتی مزاحمت پرقتل کے 231، 5ہزار269،خواتین سے بداخلاقی کے 2402، اجتماعی بد اخلاقی کے 236، دوران ڈکیتی بد اخلاقی کے 3، پولیس حراست سے ملزمان فرارہونے کے 75 ، اغواء برائے تاوان کے 94، گاڑیاں چھیننے کے 5ہزار351اور گاڑیاں چوری کرنے کے 17ہزار134واقعات ہوئے تاہم اس کے علاوہ بھی دیگر سنگین جرائم ہوئے جن کے مقدمات درج نہیں ہوسکے ہیں ۔واضح رہے کہ سی آئی اے پولیس کوکروڑوں روپے کے فنڈز لینے کے باوجود دن بدن بڑھتے ہوئے جرائم کو روکنے میں ناکامی کا سامنا ہے لیکن سی آئی پولیس کے سربراہ عمر ورک بھی عرصہ دراز سے اپنی سیٹ پر برجمان ہیں جبکہ انہیں متعدد بار اس سیٹ سے ٹرانسفر بھی کیا گیا لیکن وہ اپنی اثر و رسوخ کی بنا پر دوبارہ سیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔ سی آئی اے پولیس زیادہ تر دہشت گردی، ڈکیتی مزاحمت قتل، اغواء برائے تاوان ، اوربھتہ خوری سمیت دیگر سنگین وارداتوں کو ٹریس کرنے کی ڈیوٹیاں سرانجام دیتے ہیں۔ سی آئی اے کے سربراہ آئے روز ڈکیت گینگز پکڑ کر اپنی کارکردگی کے جھنڈے گاڑتے دکھائی دیتے ہیں لیکن حقائق اس کے برعکس ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے جرائم کی شرح کم ہونے کی بجائے مزید بڑھتی چلی جارہی ہے ۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اب تک ایسے درجنوں ہائی پروفائل کیسز فائلوں میں دبے ہوئے ہیں جن کا سراغ لگانے میں بھی سی آئی اے ناکام رہی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق جرائم نہ رکنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ اکثر اوقات پولیس مبینہ طور پر\"گینگ \"بنانے کے چکر میں اصل ملزمان کو پکڑنے کی بجائے افسران بالا کی جانب سے \"پریشر\"بڑھنے پر چھوٹے موٹے جرائم میں ملوث ملزمان کو حراست میں لے کر انہیں گینگ کی شکل دے دیتے ہیں اور سینکڑوں کے حساب سے ہونے والی وارداتوں کو پھر ان زیر حراست ملزمان کے کھاتے میں ڈال کر گینگ کا نام دے دیا جاتا ہے جبکہ اصل جرائم پیشہ افراد پولیس کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں جس کے باعث جرائم رکنے کا نام نہیں لیتا ہے ۔اس حوالے سے ایس پی سی آئی اے عمر ورک سے رابطہ کیا گیا تو ان کے آپریٹر نے کہا کہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...