پاکستانی ارکان منہ دیکھتے رہ گئے، بھارتی پارلیمان نے گھاس نہ ڈالی

پاکستانی ارکان منہ دیکھتے رہ گئے، بھارتی پارلیمان نے گھاس نہ ڈالی
پاکستانی ارکان منہ دیکھتے رہ گئے، بھارتی پارلیمان نے گھاس نہ ڈالی

  


نئی دہلی (ویب ڈیسک)بھارت کے دورے پر گئے پاکستان کے ارکان پارلیمنٹ کو بھارتی لوک سبھا (ایوان زیریں)میں بری طرح نظر انداز کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹر جہانگیر بدر کی قیادت میں پاکستانی وفد غیر سرکاری دورے پر بھارت گیا ہے اورگانگریس کے رہنما مانی شنکر آئر نے ان کے لوک سبھا دورے کا انتظام کیا۔

رکن پارلیمنٹ کو گاندھی کے قاتل کی تعریف کرنے کے اگلے ہی روزمعافی مانگنا پڑگئی،جاننے کے لئے کلک کریں

وفد کے ارکان میں حکمران جماعت کے سینیٹر مشاہد اللہ خان ، مائزہ حمید گجر ، اویس لغاری ، ایم کیو ایم کے رشید گوڈیل سمیت بارہ ارکان شامل ہیں۔ رشید گوڈیل اور مائزہ حمید نے ایک بھارتی ٹی وی کو بتایا کہ جمعرات کو انہیں پارلیمنٹ کی کارروائی دیکھنے کی اجازت نہیں ملی کیونکہ سپیکر کے سکیورٹی سٹاف نے انہیں اندر ہی نہیں جانے دیا ،جمعہ کو وہ پارلیمنٹ میں مہمانوں کی گیلری میں ہی بیٹھے رہے لیکن کسی نے انہیں خوش آمدید نہیں کہا اور نہ ہی اس بات کا اعلان کیا گیا کہ پاکستان کے ارکان پارلیمنٹ ایوان میں موجود ہیں۔ رشید گوڈیل نے کہا کہ انہوں نے دو بار سپیکر سمترا مہاجن سے ملاقات کی ناکام کوشش کی جبکہ سپیکر کا کہنا تھا کہ وہ اپنے دفتر میں انتظار کرتی رہیں مگر کوئی ان سے ملاقات کیلئے نہیں آیا۔پاکستانی وفد کو ریسیو کرنے کے ذمہ دار پی جے پی کے رکن اسمبلی کیتری آزاد کا کہنا تھا کہ پاکستانی ارکان کی ملاقات کا وقت ایک بجے تھا لیکن وہ 7 منٹ کی تاخیر سے پہنچے ، اسلئے ملاقات نہ ہوسکی۔وزیر پارلیمانی امور ونیکے نیڈو نے کہا کہ پاکستانی وفد نے مجھ سے کوئی رابطہ نہیں کیا تو میں کیا کرسکتا ہوں۔ ونیکے نیڈو نے کہاکہ یہ وزارت امورخارجہ کا معاملہ ہے اسے سنجیدہ طریقے سے نمٹانا چاہیے۔

مزید : بین الاقوامی


loading...