پاکستان کے پہلے لیور ٹرانسپلانٹ سینٹر کو کام سے روک دیا گیا

پاکستان کے پہلے لیور ٹرانسپلانٹ سینٹر کو کام سے روک دیا گیا
پاکستان کے پہلے لیور ٹرانسپلانٹ سینٹر کو کام سے روک دیا گیا

  


لاہور (ویب ڈیسک) لاہور کے شیخ زید ہسپتال میں قائم پاکستان کے پہلے لیو ٹرانسپلانٹ سینٹر میں جگر کی پیوند کاری کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق شیخ زید ہسپتال لاہور میں جگر کی پیوندکاری اور بھارتی ڈاکٹروں کے آپریشنز پر پابندی پراونشل ہیومن آرگنز ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کی جانب سے بغیر اجازت کام کرنے کے باعث لگائی گئی ہے۔ پاکستان میں جگر کی پیوند کاری کا آغاز 11 اگست 2011ءکو ہوا، ہسپتال زرائع کے مطابق اب تک جگر کی پیوندکاری کے 35 آپریشنز ہوچکے ہیں، جن میں سے 30 کامیاب رہے۔ 50 مریض آپریشن کے منتظر ہیں۔ سٹیٹ آف دی آرٹ لیور سینٹر اپنے قیام سے لے کر آج تک شدید مالی مشکلات سے دوچار رہا، سینٹر کے پاس ذاتی آپریشن تھیٹر ہے اور نہ ہی آئی سی سی جبکہ سینٹر کو فعال بنانے کیلئے پنجاب حکومت نے بھی 15 کروڑ روپے دینے کا وعدہ کیا جو تاھال پورا نہیں ہوا۔ وفاقی حکومت نے 2006ءمیں اس منصوبے کیلئے ایک ارب روپے کا بجٹ مختص کیا لیکن شیخ زیش ہسپتال کی پنجاب کو منتقلی کے بعد اس پراجیخٹ کیلئے مکمل فندز جاری نہ کئے جاسکے۔

مزید : لاہور


loading...