این اے 122دھاندلی کیس، لوکل کمیشن پر محسن لطیف کا عدم اعتماد

این اے 122دھاندلی کیس، لوکل کمیشن پر محسن لطیف کا عدم اعتماد
این اے 122دھاندلی کیس، لوکل کمیشن پر محسن لطیف کا عدم اعتماد

  


لاہور (ویب ڈیسک) الیکشن ٹربیونل کی جانب سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122 اور پی پی 147 میں انخابی ریکارڈ کی جانچ کے لئے قائم لوکل کمیشن پر محسن لطیف کے وکیل نے عدم اعتماد کا اظہار کردیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق الیکشن ٹربیونل لاہور نے عمران خان کی درخواست پر قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122 میں انتخابی ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے لئے غلام حسین اعوان کی سربراہی میں لوکل کمیشن بنایا تھا لیکن مذکورہ حلقے میں صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 147 سے کامیاب ہونے والے مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی محسن لطیف کے وکیل نے کمیشن پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن ٹربیونل میں کمیشن کو بدلنے کی درخواست دے دی ہے۔ محسن لطیف کے وکیل حافظ سلیم کا کہنا ہے کہ ٹربیونل کی جانب سے قائم کئے گئے کمیشن پر ان کے تحفظات ہیں جس کے باعث اسے تبدیل کیا جائے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن ٹربیونل نے محسن لطیف کو دو لاکھ روپے جمع کرانے کے لئے بھی کہا ہے وہ بھی ناجائز ہیں کیونکہ اس سے قبل محسن لطیف پہلے ہی پیسے دے چکے ہیں اب جو حکم دیا گیا ہے کہ اس کے تحت شعیب صدیقی ریکارڈ چیک کرنے کی فیس جمع کرائیں جبکہ ایک نیا کمیشن بنا کر 61 پولگن تھیلوں کا ریکارڈ چیک کیا جائے۔ دوسری جانب سے پی پی 147 میں سابق اولمپیئن اختر رسول نے بھی الیکشن ٹربیونل میں درخواست جمع کرادی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ ریکارڈ کی جانچ کے دوران انہیں بھی کمیشن میں بیٹھنے کی اجازت دی جائے۔ تاہم ٹربیونل نے 15 دسمبر کے لئے عمران خان اور سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو ٹربیونل میں پیش ہونے کے لئے نوٹس جاری کردئیے ہیں۔

مزید : لاہور


loading...