چین کے وہ ڈیڑھ کروڑ شہری جن کو حکومت نہ شناختی کارڈ جاری کرتی ہے نہ ہی کوئی اور سہولت دیتی ہے، یہ کون ہیں اور ایسا سلوک کیوں؟ انتہائی حیران کن تفصیلات جانئے

چین کے وہ ڈیڑھ کروڑ شہری جن کو حکومت نہ شناختی کارڈ جاری کرتی ہے نہ ہی کوئی ...
چین کے وہ ڈیڑھ کروڑ شہری جن کو حکومت نہ شناختی کارڈ جاری کرتی ہے نہ ہی کوئی اور سہولت دیتی ہے، یہ کون ہیں اور ایسا سلوک کیوں؟ انتہائی حیران کن تفصیلات جانئے

  

بیجنگ (نیوز ڈیسک) چین کی ’ایک بچہ‘ پالیسی کے تحت کئی دہائیوں تک ایک سے زائد بچہ پیدا کرنے والے والدین کو انتہائی بھاری جرمانے کئے جاتے رہے ہیں۔ اس پالیسی کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ جو والدین جرمانے ادا نہیں کرپائے ان کے کئے کی سزا بچوں کو ملی اور آج چین میں تقریباً ڈیڑھ کروڑ افراد ایسے ہیں کہ جو ہر قسم کے بنیادی حقوق سے محرومی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، کیونکہ ان کے پاس چینی ریاست کی طرف سے جاری کیا جانے والا وہ سرٹیفکیٹ ہی موجود نہیں جو شناخت اور حقوق کے حصول کے لئے بنیاد قرار دیا جاتا ہے ۔

جریدے ہفنگٹن پوسٹ کے مطابق چین میں ’ہوکو‘ نامی سرٹیفکیٹ ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور اس کے بغیر شہری کو تعلیم، صحت، شناختی دستاویزات اور حتیٰ کہ سفری سہولیات کی خدمات بھی میسر نہیں ہوتیں، نہ ہی کہیں ڈھنگ کی ملازمت ملتی ہے اور نہ ہی ان کی شادی کی رجسٹریشن کی جاتی ہے۔ جریدے نے انہی بے نام شہریوں میں شامل لی شو نامی 22 سالہ لڑکی کے بارے میں بتایا کہ اس کی پیدائش ایک حادثے کے نتیجے میں ہوئی اور بدقسمتی سے وہ اپنے والدین کی دوسری اولاد تھی اور یوں وہ بھی ان ایک کروڑ 30 لاکھ افراد کا حصہ بن گئی کہ جن کی چین میں کوئی شناخت نہیں۔

لی شو کے والدین کے ہاں پہلے ہی ایک بچہ موجود تھا اور وہ دوسرے بچے کی پیدائش سے بچنے کے لئے اسقاط حمل کروانا چاہتی تھیں لیکن بدقسمتی سے لی شو کی والدہ کو ایک زخم لگنے کی وجہ سے ڈاکٹروں نے اسقاط حمل کو ان کی زندگی کے لئے خطرہ قرار دے دیا، اور یوں لی شو اس دنیا میں آگئیں۔ اس بچی کی پیدائش ہوتے ہی اس کے والدین پر ان کی کل آمدنی سے درجنوں گنا زیادہ جرمانہ کردیا گیا جسے وہ ادا نہیں کرپائے، اور یوں لی شو گزشتہ 22 سال سے ہوکو سرٹیفکیٹ سے محروم ہیں، نہ انہیں کسی سکول میں داخلہ ملا، نہ کبھی ہسپتال سے رعایتی علاج کی سہولت ملی اور نہ ہی کوئی ملازمت ملی۔

وہ کہتی ہیں کہ اب پہلی دفعہ چینی صدر شی جن پنگ کی قیادت میں ہوکوسرٹیفکیٹ سے محروم تمام افراد کو بنیادی حقوق دئیے جانے کی بات ہورہی ہے اور وہ امید کرتی ہیں کہ حکومت بالآخر انہیں بھی دیگر شہریوں جیسا تسلیم کرلے گی اور وہ بھی انسانوں جیسی زندگی بسر کرنے کا خواب پورا کرسکیں گی۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -