پہلا چینی شہری جو داعش کے خلاف لڑنے کے لیے کرد جنگجو فوج میں شامل ہوگیا، یہ فیصلہ کیوں کیا؟ وجہ ایسی کہ جان کر آپ کی حیرت کی بھی انتہا نہ رہے گی

پہلا چینی شہری جو داعش کے خلاف لڑنے کے لیے کرد جنگجو فوج میں شامل ہوگیا، یہ ...
پہلا چینی شہری جو داعش کے خلاف لڑنے کے لیے کرد جنگجو فوج میں شامل ہوگیا، یہ فیصلہ کیوں کیا؟ وجہ ایسی کہ جان کر آپ کی حیرت کی بھی انتہا نہ رہے گی

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک)بیروزگاری یا محبت میں ناکامی پر لوگوں کو کئی طرح کے سنگین اقدامات اٹھاتے تو دیکھا گیا ہے مگر اس چینی نوجوان نے بیروزگاری اور اس کے باعث گرل فرینڈ کے چھوڑ جانے پر ایک انوکھا اقدام کیا اور شام جا کر کرد جنگجوﺅں کے ساتھ مل گیا اور داعش کے خلاف لڑنے لگا۔ چینی میڈیا اس سے قبل اپنے شہریوں کے داعش میں شامل ہونے کی خبریں دیتا رہا ہے مگر شاید یہ پہلا چینی باشندہ ہے جس نے داعش کے خلاف لڑنے کے لیے کرد جنگجوفوج میں شمولیت اختیار کی ہے۔ اس 25سالہ چینی نوجوان کا نام پن ینگ ہے اور اس کا تعلق جنوب مشرقی چینی صوبے سیچوآن کے ایک گاﺅں سے ہے۔پن ینگ نے اپنی تصاویر چینی سماجی رابطے کی ویب سائٹ وائبو(Weibo) پر شیئر کی ہیں جن میں اس نے کرد جنگجوﺅں کی یونیفارم پہن رکھی ہے اور ایک مورچے میں کھڑا مشین گن سے فائرنگ کر رہا ہے۔

پن ینگ نے وائبو پر بتایا ہے کہ ”چین میں مجھے کوئی نوکری نہیں مل سکی تھی اور میں کافی عرصے سے بیروزگار تھا۔ بیروزگاری کی وجہ سے میری گرل فرینڈ نے بھی مجھے چھوڑ دیا۔ “ شام کی جنگ میں اپنی شمولیت کا انکشاف کرنے کے متعلق اس نے وائبو پر ایک اور پیغام میں لکھا ہے کہ ”میرا خیال ہے کہ میں نے یہ بہت احمقانہ حرکت کی ہے مگر میں مروں یا زندہ رہوں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ “پن ینگ کا کہنا تھا کہ میں چین میں اپنے حالات سے دلبرداشتہ تھا اور کچھ نیا کرنا چاہتا تھا، اس لیے میرے ذہن میں شام کی جنگ میں حصہ لینے کا خیال آیا۔“دوسری طرف اس کے خاندان کے افراد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس سے درخواست کی ہے کہ وہ جلد از جلد شام سے چین واپس آ جائے۔ اس کی بہن پن ژیاﺅلان میڈیا کے توسط سے اسے کہا کہ ”جتنی جلدی ہو سکے گھر واپس آ جاﺅ۔“

مزید :

بین الاقوامی -