داعش کو شکست دینے کیلئے روسی صدر پیوٹن کا ایسا اقدام جس کی ان سے کسی کو بھی توقع نہ تھی، دنیا کو حیران کردیا

داعش کو شکست دینے کیلئے روسی صدر پیوٹن کا ایسا اقدام جس کی ان سے کسی کو بھی ...
داعش کو شکست دینے کیلئے روسی صدر پیوٹن کا ایسا اقدام جس کی ان سے کسی کو بھی توقع نہ تھی، دنیا کو حیران کردیا

  

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک) روس نے جب سے شام میں اپنی فوجیں اتاری ہیں، تنازعات کی دلدل میں دھنستا چلا جا رہا ہے۔ ترکی کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی بڑھنے پر روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے بھی شام کے متعلق اپنی پالیسی میں ردوبدل کر لیا ہے ۔ اس حوالے سے انہوں نے گزشتہ روز ایک ایسا بیان دیا ہے کہ جسے سن کر دنیا حیران رہ گئی ہے۔ روسی صدر نے اپنے ایک بیان میں اعتراف کیا ہے کہ وہ شامی صدر بشارالاسد کے خلاف لڑنے والی ”آزاد شامی فوج“ کی بھی مدد کر رہا ہے، جسے مغربی ممالک کی حمایت اور مدد بھی حاصل ہے۔اس سے قبل روسی صدر نے ہمیشہ بشارالاسد کی حمایت میں لڑنے کی بات کی۔ ان کے اس نئے بیان پر دنیا مخمصے کا شکار ہو گئی ہے کہ آیا روسی فوج اگر بشارالاسد کی حمایت کے لیے شام آئی ہے تو پھر وہ مغربی اتحاد کے تعاون سے بشارالاسد کے خلاف لڑنے والے جنگجوﺅں کی مدد کیوں کر رہی ہے۔

ولادی میرپیوٹن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ”روس جہاں شام کی سرکاری(بشارالاسد کی) فوج کی مدد کر رہا ہے وہیں آزاد شامی فوج (بشارالاسد کے خلاف لڑنے والی فوج)کے کچھ یونٹس کی بھی مدد کر رہا ہے۔“ انہوں نے کہا کہ ”ان یونٹس میں موجود جنگجوﺅں کی تعداد 5ہزار سے زیادہ ہے اور ان میں باقاعدہ فوجی بھی شامل ہیں اور باغی جنگجو بھی، یہ یونٹ شام کے صوبوں حمص، حما، علیپو اوررقہ میں بشارالاسد کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ ہم حکومتی فوج کی طرح انہیں بھی فضائی سپورٹ فراہم کر رہے ہیں اور انہیں اسلحہ و دیگر سامان دے رہے ہیں۔“دوسری طرف ماسکو کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ولادی میر پیوٹن کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”ان کے بیان کا مطلب یہ ہے کہ روس صرف شام کی حکومتی فوج کو اسلحہ و دیگر اشیاءفراہم کر رہا ہے، آزادی شامی فوج کو نہیں۔روس آزادی شامی فوج کو صرف اپنے جنگی طیاروں کے ذریعے فضائی تحفظ دے رہا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -