میرا گھر دور ہو گیا ہے!

میرا گھر دور ہو گیا ہے!
 میرا گھر دور ہو گیا ہے!

  

بات تو مزے کی ہے، لیکن ایک ایسے شاعر اور دانشور سے منسوب جو اس کی تصدیق یا تردید کرنے کے لئے اب اس دنیا میں نہیں ۔ مراد ہیں سنہری داڑھی والے ظہیر کاشمیری جنہیں لاہور کے پرانے لوگوں نے واکنگ اسٹک ہاتھ میں تھامے سرخ ٹائی شرٹ اور گرم سوٹ میں ملبوس مال روڈ پہ ٹہلتے ضرور دیکھا ہوگا ۔ کہتے ہیں ایک روز ان کا سامنا دوسری طرف سے آنے والے ایک جلوس سے ہو گیا ۔ جلوس بھی کونسا ؟ اسلام کے نام پر جان ہتھیلی پہ رکھ کر سڑکوں پر لیفٹ رائٹ کی بجائے چپ راست کرنے والے باوردی خاکسار جو اس دن بھی ہمیشہ کی طرح بطور ہتھیار کندھوں پہ بیلچے اٹھائے ہوئے تھے ۔ پوچھنے پر کہ بھئی کدھر کا ارادہ ہے ، جواب ملا ’فلسطین کو آزاد کرانے جارہے ہیں ‘ ۔ ظہیر سے نہ رہا گیا ’بیڈن روڈ کے راستے ہو جانا ، نزدیک پڑے گا‘ ۔ نظریاتی دھیں پٹاس کی آج کی فضا میں یہ کہانی سنانے پر مجھے آزادی ء فلسطین کے کاز سے غداری کا طعنہ دیا جا سکتا ہے ، بالکل اسی طرح جیسے آزاد کشمیر کے اولین منتخب صدر اور قائد اعظم کے ساتھی کے ایچ خورشید کو علیحدگی پسند قرار دے کر دلائی کیمپ میں قید کر دیا گیا تھا۔ میرے اور ظہیر کاشمیری کے برعکس ، خورشید صاحب کا قصور صرف اتنا ہے کہ نصف صدی پہلے کسی کا ’توا ‘ لگائے بغیر انہوں نے حکمرانوں کو سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ مقبوضہ کشمیر میں عوامی بیدار ی کی لہر کے نہ ہوتے ہوئے آپریشن جبرالٹر کی چھاپہ مار کارروائی بے فائدہ ہوگی ۔ اس دانشمندانہ مشورے کو نظر انداز کرنے کا کیا نتیجہ نکلا ؟ اس کا جواب وہ کیا دیں گے جن کے جلسے جلوسوں سے اب بھی لگتا ہے کہ فلسطین کے بیڈن روڈ والے راستے کی طرح کشمیر بھی ریگل چوک سے قریب پڑتا ہے ۔

دنیا بھر میں منزلوں کی دوری اور قربت کا بنیادی پیمانہ تو جغرافیائی فاصلے ہی ہیں ۔ پھر بھی عام تجربہ ہے کہ چلتے رہنے کے عمل میں مسافر کی نفسیاتی کیفیتیں بھی اپنا کردار ادا کرتی ہیں ۔ بچپن میں سکول کا راستہ مشکلوں سے طے ہوتا تھا مگر ہر اتوار کرکٹ میچ کھیلنے کے لئے ہم سب صبح سویرے ہی گراؤنڈ میں پہنچ جاتے ۔ گھر کا سودا لانے کے لئے بازار جاتے ہوئے ہزار حیلے بہانے ، لیکن شہر کے ایک بینک کے باہر پہلا نیون سائن بورڈ لگا تو بچہ لوگ کو اس کی نیلی نیلی روشنیوں سے عشق ہو گیا ۔ آج تک کسی کو نہیں بتایا کہ میٹرک کا اسکالرشپ ملنے پر جب اکاؤنٹ کھولنے کی نوبت آئی تو صرف روشنی کی کشش مجھے اس بینک کی طرف لے گئی تھی ۔ شعور پختہ ہوا تو نصابی مضامین ، پیشہ کے چناؤ ، پھر موٹر سائیکل اور کار خریدتے ہوئے جمالی سوچ پر عملی افادیت کا پہلو بھی کچھ کچھ غالب آنے لگا۔ اب آپ پوچھ سکتے ہیں کہ بیس سال سے ذرا پہلے برطانیہ سے لاؤ لشکر سمیت وطن واپسی پر میں نے لاہور میں رہنے کے لئے جس رہائشی مکان کو ترجیح دی ، اس کا فیصلہ کرنے میں کن عوامل کو دخل تھا ۔ سچ بولنے کی شرط پوری کروں تو مجھے فیصلہ سازی کی اذیت سے ایک اسٹیٹ ایجنٹ نے بچایا ۔ وہی جہاندیدہ اور شفیق بزرگ جن کی غیر موجودگی میں لوگ انہیں شادمان کی نانی کہا کرتے ہیں ۔ میرے دونوں بھائیوں نے یہ کہہ کر ان کی تائید کی کہ گھر نہر کے پاس شادمان ٹو کی ایک ایسی غیر مصروف سڑک پہ واقع ہے جس کے بس ایک رخ پہ مکانات ہیں اور دوسری طرف جھولوں والا باغ ۔ میرے بھائیوں کا خیال تھا کہ اس باغ میں کھیل کود کی بدولت لندن میں پیدا ہونے والے میرے بچوں کی صورت میں ہمیں ولایتی انڈوں میں سے دیسی چوزے نکالنے میں مدد ملے گی ۔ یہ خیال صحیح ثابت ہوا۔

جہاں غلطی ہوئی ، وہ معاملے کا اور پہلو ہے۔ایک تو یہ پتا نہ تھا کہ جھولوں والا پارک عنقریب ایک جنج گھر یا ویڈنگ لان میں تبدیل ہو جائے گا ۔ خیر ، یہ بھی قابل برداشت ہے کیونکہ ماضی میں ایک آدھ دولہا کی امکانی گرفتاری کے بعد رات گئے لاؤڈ میوزک پر خواجہ سرا نچوانے کی لاہوری روایت یہاں پنپ نہیں سکی ، گو کہ اس پابندی پر بظاہر ایک نہایت سلجھے ہوئے پڑوسی نے دلی صدمہ کا اظہار بھی کیا ۔ دوسرا بالکل غلط اندازہ ہمارے علاقہ کی سڑکوں کے بارے میں ہے ، جو بیس سال پہلے لاہور کے عین وسط میں امن و سکون کا خوشگوار نمونہ تھیں ۔ میں نے اس سکون میں خلل نہیں ڈالا ، مگر ارد گرد تعمیر و ترقی کے جنون نے وہ اودھم مچا رکھا ہے کہ بیڈن روڈ کے قریبی راستے سے فلسطین جانے کی بجائے ، آجکل مجھے بیڈن روڈ بلکہ شادمان مارکیٹ تک پہنچنے کے لئے فلسطین سے ہو کر جانا پڑ تا ہے ۔ ذرا بیس سال پہلے کا نقشہ تو دیکھئے ۔ شہر سے آتے ہوئے آپ کا رخ اگر جیل روڈ پہ نہر کی طرف ہے تو میں کہوں گا کہ پل سے ذرا پہلے دائیں جانب کرکٹ ہاؤس کی طرف مڑ جائیے ۔ اب آپ نہر کے متوازی چل رہے ہیں، یعنی الٹے ہاتھ پر ’سبزہ ہے ، آبجو ہے ‘ جبکہ سیدھے ہاتھ مشہور و معروف ڈاکٹر شہریار والے راستے کو چھوڑ کر باقی پانچ کی پانچ سڑکیں ہمارے جھولوں والے باغ کی طرف جا نکلتی ہیں ۔ پھولوں کی باڑ کا تعاقب کرتے جائیں تو دائیں طرف خم کھاتے ہی الگ الگ گیٹوں پر ترتیب وار مرحوم چیف جسٹس حمودالرحمان ، سابق کیبنٹ سکرٹری ہمایوں فیض رسول ، پاکستان میں بریسٹ کینسر سرجری کی موجد ڈاکٹر خالدہ عثمانی اور کچھ آگے بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید کے اسمائے گرامی دکھائی دیں گے ۔ بیچ میں نام ، نمبر اور حفاظتی کتے سے عاری یہ چھوٹا سا گھر میرا ہے ، تشریف لے آئیے۔

شناخت کے تکلف سے بے نیاز اس مکان تک پہنچنا جتنا آسان ہے ، یہاں سے واپس جانا بھی اتنا ہی پر سہولت ہے ۔ اول تو جس چھوٹی سڑک سے آئے ہیں ، اسی پہ مڑئیے اور جیل روڈ یا سیدھے مال پہ پہنچ کر اپنا رخ شہر یا چھاؤنی کی طرف کر لیجئے ۔ کسی اور سمت میں جانے کا ارادہ ہے تو گھر کے نواح میں وہ خوبصورت سی مسجد قطب نما کا کام دے گی جو نہر کے کنارے ایرانی قونصل جنرل کی قیامگاہ سے جڑی ہوئی ہے ۔ یہاں دو میں سے کسی ایک پل سے نہر پار کرلیں تو ایف سی کالج اور گلبرگ کی ظہور الٰہی روڈ ۔ پل عبور کرتے ہی دائیں ہو جائیں تو فیروز پور روڈ ، مسلم ٹاؤن اور نیو کیمپس ۔ قونصل جنرل کے گھر سے دائیں ہاتھ مڑیں تو شاہ جمال ، اچھرہ اور شمع سنیما کے راستے سمن آباد ۔ دن ہو یا رات بی بی سی کا یہ رپورٹر دس بارہ منٹ میں پنجاب اسمبلی ، ہائیکورٹ اور پرانے ائر پورٹ تک پہنچ جاتا۔تو پھر ہوا کیا ؟ ہوا یہ کہ دیکھتے ہی دیکھتے ترقی کا عمل شروع ہو گیا اور ترقی بھی وہ جس کے بنیادی اجزاء سیمنٹ اور سریا ہیں ۔ شروع کے اس واقعہ کا ذکر کرنے کو جی نہیں چاہتا جس میں ایک مسافر بس کی چھت پہ سوار درجنوں سیاسی کارکن جیل روڈ کے انڈر پاس سے ٹکرا گئے تھے ۔ چلئے یہ حادثہ تو کسی کی بے دھیانی کے باعث پیش آیا ۔ میری سٹی تو اس دن گم ہوئی جب ہماری نواحی مسجد سے چند گز دور پرانے پلوں کو توڑ کر ایک اور انڈر پاس کا فیتہ کاٹا گیا ۔ 14 نومبر 2003ء کی سہ پہر کا یہ ابہام اس سرکاری چائے پیسٹری کا اثر نہیں تھا جو ڈی جی پی آر والے آغا اسلم مرحوم کی معرفت اس پراجیکٹ کی ایف سی کالج والی سائیڈ پر بیٹھ کر نوش فرمائی ۔ میرا مسئلہ ذرا وکھری ٹائپ کا تھا کہ بارہ راستوں سے آنے جانے والے غیر تربیت یافتہ موٹر سوار یہاں کل کتنے موڑ مڑ سکیں گے اور کس ترتیب سے؟

چنانچہ اسی شام نہر کنارے نصب ایک بنچ پر کیلکولیٹر لے کر بیٹھ گیا اور حساب جوڑنے لگا ۔ نیو کیمپس سے آنے والی ٹریفک چاہے تو انڈر پاس کے راستے سیدھی جیل روڈ کی طرف نکل جائے اور چاہے تو نیچے جانے کی بجائے پل کے اوپر آ جائے ۔ اوپر آ کر بائیں مڑیں تو تھانہ اچھرہ کی طرف ، دائیں مڑیں تو چودھریوں کے گھر کے راستے گلبرگ اور بالفرض یو ٹرن لے لیا جائے تو پھر سے نیو کیمپس ۔ اگر شاہ جمال یا جامعہ اشرفیہ کی طرف جانا چاہیں تو الٹا یو ٹرن لینے کی کوشش کریں ۔ میرے گھر پہنچنے کے لئے پل کے اوپر جیل روڈ کی سمت چلیں اور جونہی مسجد دکھائی دے ، وہیں اللہ کے آسرے پر اچھرہ سے آنے والی ٹریفک کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایک کمانڈو ایکشن کے ذریعہ اسی سڑک پر ہو کر یکدم دائیں مڑ جائیں ۔ یہ سمجھیں کہ فی سڑک آئندہ لائحہ عمل کے پانچ پانچ امکانا ت تھے اور آنے جانے کے کل راستے تھے بارہ ۔ ہمارے پل پر ٹریفک لائٹوں کا نظام وضع کر کے میرے ابتدائی خوف کو دور تو کر دیا گیا ہے ، مگر لائٹوں کا نظام کبھی کام کرتا ہے اور کبھی نہیں ۔ دوسری بات یہ کہ سڑکوں کو ڈبل ٹریک کرنے کے بہانے کرکٹ ہاؤس سے میرے گھر کو نکلنے والے تمام راستے اور مال کو ملانے والے جی او آر ون کے چور دروازے تو کب کے بند ہو چکے تھے ۔ اب لبرٹی راؤنڈ اباؤ ٹ سے مزنگ چونگی تک سگنل فری کاریڈور کے عظیم منصوبے نے ہمارے علاقہ میں ذیلی سڑکوں سے آنے والی ٹریفک کو جس طرح عزاداری کی شبانہ روز مجلس میں تبدیل کیا ہے ، اس کی ہولناکی شہر آشوب کی کسی نئی صنف کو جنم دے رہی ہے ۔ یقین نہ آئے تو لاہور کے کسی کونے سے شیرپاؤ برج ، نہر اور جیل روڈ کے سنگم یا شادمان انڈر پاس سے ہوکر میرے گھر پہنچ کر دکھا دیجئے ۔ بخدا مجھ تک پہنچنے کی بجائے آپ فلسطین چلے جانے کو ترجیح دیں گے۔

مزید :

کالم -