ستمبر ستمگر ہے تو دسمبر؟

ستمبر ستمگر ہے تو دسمبر؟
 ستمبر ستمگر ہے تو دسمبر؟

  

کہتے تو ہیں کہ ستمبر کامہینہ ستمگر ہوتا ہے، لیکن کیا یہ عجیب نہیں کہ ستمگر تو ستمبر ہی ہو گا لیکن بڑے سانحات دسمبر میں ہو گئے۔ دسمبر شروع ہوتے ہی ایک عجیب سی اداسی چھا جاتی ہے۔ یہ مہینہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا یوم پیدائش ہے تو اہل کتاب بھائیوں عیسائی حضرات نے متفقہ طورپر 25دسمبر ہی کو ولادت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دن قرار دیا ہوا ہے اور آج کل وہ پورے جوش و خروش سے کرسمس کی تیاریاں کر رہے ہیں، ان کو یہ خوشیاں مبارک ہوں لیکن ہمارے لئے تو یہ بڑے سانحات کا مہینہ ہے، سولہ دسمبر کو سقوط ڈھاکہ ہوا اور ایک ملک دو حصوں میں تقسیم ہوکر دو ملک بن گئے۔ سانحہ مشرقی پاکستان پر بہت کچھ لکھا گیا اور شاید لکھا جاتا رہے گا، اس میں زیادہ مواد وہ ہے جو لوگوں نے اپنے اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کے حوالے سے لکھا، اس سے تاریخ درست نہیں ہوتی۔ لکھنے والے کو اپنا دفاع کرنے کا حق ضرور حاصل ہے، لیکن اس کے لئے یہ لازم ہے کہ وہ تاریخی حقائق کو اسی پیرائے میں تحریر کرے جس طرح وہ پیش آئے۔

یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ پشاورمیں آرمی پبلک سکول کے معصوم طالب علموں پر ’’یلغار‘‘ بھی اسی روز یعنی 16دسمبر کو ہوئی اور اب اسے ایک سال ہونے کو آیا۔ یہ اتنا سنگین اور بہیمانہ فعل تھا کہ پاکستان کے عوام کی یاد سے چپک کر رہ گیا ہے اور اب پہلی برسی پورے غم اور سوز کے ساتھ منائی جائے گی۔ خیبرپختونخوا کی حکومت نے تو سرکاری طور پر منانے کا اعلان بھی کر دیا ہے اور پھر اسی مہینے کی 27تاریخ ہے، جس روز ملک کی سابق وزیراعظم اور پیپلزپارٹی کے بانی ذواالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو کو لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسہ کے بعد باہر نکلتے ہی شہید کر دیا گیا، اسی باغ میں پہلا سیاسی قتل ہوا تھا جب پاکستان کے پہلے وزیراعظم شہید ملت خان لیاقت علی خان کو گولی مار کر شہید کر دیاگیا تھا۔ ملزم سید اکبر نے گولی ماری اور سید اکبر کو پولیس نے گولی مار کر قتل کر دیا، اس قتل کا آج تک سراغ نہیں ملا اور اسی طرح محترمہ بے نظیر بھٹو کا مقدمہ قتل تاحال کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچا،حالانکہ اس دوران ان کے شوہر پورے پانچ سال صدارت کرگئے اور ان کی پارٹی حکومت کرگئی۔

پشاور کے آرمی پبلک سکول کے شہیدوں کا لہو تو پکار پکار کر کہہ رہا ہے، اے اللہ کے نام پر فساد پھیلانے والو! تم جس دین اور اس کو لانے والے رسولؐ کا نام لے کر یہ سب کچھ کرتے ہو، اسؐ کی تعلیمات پر غور کرکے عمل تو کر لو! کہ آج مسلمانوں ہی کی بے عملی سے عالمی سطح پر خواری ہو رہی ہے اور دشمنان دین تقسیم کرو کا عمل کرکے ڈپلومیسی کا کھیل کھیل رہے ہیں، کاش ان مسلمانوں کو اللہ کی رسی حقیقتاً مضبوطی سے پکڑنے کا خیال آ جائے۔آج بکھری بکھری یادیں اُمڈ رہی ہیں، سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے بہت کچھ یاد آ رہا ہے۔ اغیار نے سازش کی تو اپنوں نے اسے کیا سمجھا؟ اور پھر ہم خود ہی آپس میں کیوں دست و گریباں رہے کہ آج بھی ایک دوسرے پر ہی الزام دے رہے ہیں، اس سلسلے میں ہم اپنے قارئین سے ایک واقعہ کا ذکر کرنا چاہتے ہیں جس سے اندازہ ہوگا کہ اس حوالے سے ایک بڑے طبقے کو بالکل ہی نظر انداز کر دیا گیا جو حقیقتاً ہمارے زوال کا سبب ہے اور آج بھی مسائل کی جڑ ہے، لیکن ادھر کسی کی توجہ نہیں۔

یہ جولائی 1970ء کے دن تھے، ہم روزنامہ مساوات سے منسلک تھے جو 7جولائی 1970ء کو اشاعت پذیر ہوا، ہمارے ایک سینئر بزرگ بشیر الاسلام عثمانی بھی ادارتی فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ ایک روز انہوں نے ہمیں بلایا اور کہا کہ ان کے چند ملنے والے ماسکو سے آئے ہیں اور یہاں کچھ لوگوں سے ملنا چاہتے ہیں ان کو ملوا دو، ہم نے ان سے تفصیل جان کر ان حضرات کو جو چار کے وفد کی صورت میں آئے ساتھ لیا، شیخ اصغر (مرحوم) سے ان کے اعزاز میں کاسمو پولٹین کلب میں ایک دعوت کا اہتمام کراکے بات چیت کرائی تو اگلے روز صبح وقت لے کر ملک کے ایک بڑے صنعتی گروپ کے حضرات سے انٹرویو کرایا، اس بات چیت میں سوویت روس والے حضرات مختلف سوالوں کے ذریعے یہ پوچھتے تھے کہ کیا مشرقی پاکستان اب آپ لوگوں پر بوجھ نہیں بن گیا؟ تو ان صنعت کار حضرات کی طرف سے بہت واضح جواب آتا تھا کہ یہ درست ہے، اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جس طبقے پر مشرقی پاکستان کے استحصال کا الزام لگایا جاتا تھا وہی اس مرحلے پر بے زاری کا اظہار کر رہا تھا، جبکہ یہ تاریخ کا حصہ ہے کہ خود بنگلہ بندھو شیخ مجیب الرحمن بھی ایک بڑے صنعتی گروپ ہی کے ملازم تھے، تھوڑے لکھے کو زیادہ جانیں، آپ خود سمجھدار ہیں۔

اسی طرح محترمہ بے نظیربھٹو کی یاد آ رہی ہے، خصوصاً جب ایک روز قبل پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے دہلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی تو ان کے ساتھ سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی بھی تھے اور ملاقات کے بعد میڈیا کے سامنے انہوں نے ہی ترجمانی کے فرائض انجام دیئے۔ یہ شاہ محمود قریشی پیپلزپارٹی کے وزیرخارجہ رہے تھے اور 2008ء میں اس لئے حلف نہ اٹھایا کہ ان کو وزارت خارجہ نہیں دی جا رہی تھی۔ آج کل تحریک انصاف کے پلیٹ فارم پر چہک رہے ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے ان کو خاص اہمیت دی تھی، وہ جب بھی جنوبی پنجاب کے دورے پر جاتیں، شاہ محمود اہتمام کے ساتھ محترمہ کی ہمرکابی کرتے اور جلسوں سے بھی خطاب کرتے تھے۔ محترمہ ان جلسوں میں اپنی تقریر سے پہلے شاہ محمود قریشی سے تقریر کراتیں۔ وہ سرائیکی میں تقریر کرتے اور مجمع سے نعرے بھی لگواتے تھے ہمیں خود محترم شاہ محمود نے بتایا کہ محترمہ اس لئے پہلے تقریر کرواتی ہیں کہ میں مجمع کو گرما دوں اور میں ایسا کرتا ہوں، یہ محترم آج کل ایسے ہی فرائض تحریک انصاف میں ادا کررہے ہیں اور دہلی میں نریندر مودی سے ملاقات کے دوران اور بعد میں جو رویہ شاہ محمود کا تھا وہ وہی تھا جو ایک ڈپلومیٹ کا ہو سکتا ہے اور انہوں نے خود کو خارجہ امور ہی کا ماہر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب یہ اتفاق ہے کہ آج کل پیپلزپارٹی کئی حوالوں سے خبروں میں ہے۔ سابق صدر اور محترمہ کے شوہر آصف علی زرداری دوبئی میں بیٹھ کر پارٹی چلا رہے ہیں اور پارٹی کو اب سندھ میں بھی مسائل درپیش ہیں۔ لیکن شاہ محمود ابھرتی جماعت کے ابھرتے لیڈر بن کر اپنی حیثیت منوا رہے ہیں۔ دہلی میں بھی میڈیا سے انہوں نے ہی بات کی، یوں وہ وہاں بھی وزارت خارجہ ہی کے ذمہ دار ہیں۔ دعا کیجئے! اللہ پاک، حفظ و امان میں رکھے اور کوئی سانحہ پیش نہ آئے۔

مزید :

کالم -