خدا کرے لکیر پیٹنے کی نوبت نہ آئے

خدا کرے لکیر پیٹنے کی نوبت نہ آئے
 خدا کرے لکیر پیٹنے کی نوبت نہ آئے

  

خبر چھپی ہے کہ اسلام آباد افواہوں کی زد میں ہے۔ اچانک موبائل فون سروس بند ہونے سے لوگوں میں تشویش کی لہر دور گئی۔ مجھے تو پورا ملک ہی افواہوں کی زد میں نظر آ رہا ہے۔ واقعات ہی کچھ ایسے ہو رہے ہیں کہ افواہیں خوامخواہ جنم لینے لگتی ہیں۔ اسلام آباد تو اس لئے بہت جلد افواہوں میں ڈوب جاتا ہے کہ قصہ چاہے کہیں کا بھی ہو، اس کی تان اسلام آباد پر ہی ٹوٹتی ہے۔ مَیں تو آج کل ٹی وی چینلز پر کراچی میں رونما ہونے والے واقعات کی وجہ سے اس خوف میں مبتلا ہو گیا ہوں کہ افراد کو ریاست پر اہمیت دینے والے کہیں سب کچھ ہی نہ ڈبو دیں۔ افواہیں تو ایک طرف رہیں، یہاں تو سب کچھ سامنے ہو رہا ہے اور عقل حیران و پریشان کھڑی ہے۔ ریاست کے ادارے واضح طور پر سینہ تان کے ایک دوسرے کے سامنے آ کھڑے ہوئے ہیں اور ہم تماشا دیکھ رہے ہیں۔ وہ ہے کون جو معاملات کو پوائنٹ آف نو ریٹرن تک لیجا رہا ہے، ایک ایسی جنگ چھڑی ہوئی ہے، جس میں کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ وہ کیا کر رہا ہے اور اس اندھی جنگ کا نتیجہ کیا برآمد ہو سکتا ہے۔

وہاں افواہیں کیوں نہ جنم لیں، جہاں ریاستی ادارے رولز آف بزنس کو بھول کر من مانی کرنے لگیں۔ ایک شخص جس کانام ڈاکٹر عاصم حسین ہے، اداروں کے درمیان ایک عجیب قسم کی جنگ کا باعث بنا ہوا ہے۔ یہاں کیا کچھ نہیں ہوتا، کیسے کیسے لوگ نہیں پکڑے جاتے، سب کچھ کسی قانون قاعدے کے مطابق نمٹ جاتا ہے، مگر آہ یہ عاصم حسین کیس، لگتا ہے ریاست کو ایک تماشا بنا کے چھوڑے گا۔ دنیا کی تاریخ میں شاید یہ اپنی نوعیت کی پہلی مثال ہے کہ ایک حکومت کسی شخص کو قانون کی گرفت سے چھڑانے پر تلی ہے، اس کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے اور تمام ضابطے اور قوانین روند ڈالنا چاہتی ہے۔ ایک طرف شواہد چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ جن الزامات کے تحت انہیں گرفتار کیا گیا ہے، وہ درست ہیں، مگر دوسری طرف سندھ پولیس کا ایک ڈی ایس پی بضد ہے کہ ان کی خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔ایک پولیس افسر دہشت گردوں کی فہرست تیار کرتا ہے، جنہوں نے ڈاکٹر عاصم حسین کے ہسپتال سے علاج کرایا، دوسری طرف دوسرا پولیس افسر سب کچھ جھوٹ قرار دے دیتا ہے۔ سندھ پولیس کے کسی ڈی ایس پی کی یہ جرات کیسے ہو سکتی ہے کہ وہ پورے تحقیقی پس منظر کو قلم زد کردے، یقیناً اسے سندھ حکومت کی طرف سے یہ ٹاسک سونپا گیا کہ وہ دن کو رات اور سفید کو سیاہ قرار دے، اسے کچھ نہیں کہا جائے گا۔ چلو یہ معاملہ اگر اتنا ہی ہوتا تو کوئی تشویش کی بات نہیں تھی، مگر اس میں تو رینجرز کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے، اسے ایک ایسی ایجنسی بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، جس نے بلا ثبوت سب کچھ کیا اور گویا ایک شریف پاکستانی کو نشانہ بنایا۔ سوال یہ ہے کہ ڈاکٹر عاصم حسین کو پولیس کی سطح پر بے گناہ کیوں قرار دیا جا رہا ہے، ان کا کیس عدالت میں کیوں پیش نہیں کیا جاتا، اگر پولیس سمجھتی ہے کہ ان کے خلاف ثبوت ناکافی ہیں تو موجودہ ثبوتوں کی بنیاد پر جو چالان بنتا ہے، اسے عدالت میں پیش کر دے، اس کے بعد عدالت خود فیصلہ کرے گی کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ، لیکن یہ تماشا کیوں لگایا جا رہا ہے کہ پولیس اور رینجرز کے پراسیکیوٹرز آمنے سامنے ہیں۔ یہ کس کے ایما پر ہو رہا ہے اور کون یہ چاہتا ہے کہ سندھ سے رینجرز کو بے توقیر کرکے نکالا جائے۔

ایک طرف سندھ میں رینجرز کو اختیارات میں توسیع نہیں دی جا رہی، دوسری طرف اس کے اقدامات کو غیر قانونی ثابت کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ علی الاعلان کہتے ہیں کہ سندھ میں کرپشن کے نام پر کارروائی صوبے پر حملہ ہے۔ کرپشن کا اس قدر کھلا دفاع آج تک دیکھنے یا سننے میں نہیں آیا۔ کوئی سندھ حکومت سے پوچھے کہ آپ نے کئی روز ہو گئے رینجرز کو توسیع نہیں دی، مگر وہ پھر بھی وہاں موجود ہے اور کام بھی کررہی ہے تو کیا یہ سب کچھ اس خطرے کو ہوا دینے کے مترادف نہیں کہ جس کا غیر آئینی مداخلت کے حوالے سے ہمیشہ واویلا کیا جاتا ہے، جب آپ خود ایک ایسی فضا پیدا کریں گے اور اگر کسی انہونی کی صورت میں فوج کوئی قدم اٹھائے گی تو اس کا دفاع کیسے کر سکیں گے؟ جمہوریت کا دن رات ورد کرنے والے جب یہ اصرار بھی کریں کہ اسے مادر پدر آزاد ہونا چاہیے، لٹیروں کو پکڑنے کی بجائے آزاد کرانا چاہیے تو پھر ایسی جمہوریت عوام کی نظر میں ایک مذاق ہی قرار پائے گی۔ کراچی کے عوام میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو، جو رینجرز کی موجودگی کو کراچی کے لئے لازم نہ سمجھتا ہو، کیونکہ سندھ پولیس کی حالت سب پر عیاں ہے۔ جب یہ طے ہے کہ رینجرز نے کراچی میں رہنا ہے تو پھر بلیک میلنگ کا انداز کیوں اپنایا جا رہا ہے؟ یہ اختیار تو پولیس سے بھی نہیں لیا جا سکتا کہ وہ کسی مجرم کے خلاف کارروائی سے پہلے حکومت سے اس کی اجازت لے۔ پولیس نے تو جرائم کے خلاف ایکشن لینا ہوتا ہے، اسے اگر مگر کی صورت حال میں ڈال دیا جائے تو وہ کچھ بھی نہیں کر سکتی۔ رینجرز تو آتی ہی کراچی میں امن قائم کرنے کے لئے ہے، اگر اس کی چین آف کمانڈ ڈی جی رینجرز کی بجائے کسی اور کے پاس ہو گی تو وہ مجرموں کا نشانہ زیادہ بنے گی اور کارروائی کم کر سکے گی۔

اس صورت حال کو کیا کہا جائے، ایک طرف نیشنل ایکشن پلان کے تحت فوج دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف نبردآزما ہے تو دوسری طرف فوج ہی کے ایک ذیلی ادارے کو بے بس کرنے کی پالیسی اپنا لی گئی ہے۔ یہ ایک خطرناک صورت ہے، جس کی وجہ سے ملک میں واضح طور پر بے یقینی دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ سازش کون کررہا ہے۔ لامحالہ اس حوالے سے لوگوں کی نظریں سندھ حکومت پر مرکوز ہو جاتی ہیں۔ سندھ حکومت کے پیچھے ڈور ہلانے والے ہاتھ موجود ہیں اور اس ساری گیم کو دیکھ کر لوگوں کو آصف علی زرداری کا یہ جملہ یاد آ رہا ہے کہ وہ اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ وہ ملک سے باہر بیٹھ کر ملک میں بے یقینی کی جو صورت حال پیدا کر رہے ہیں، کیا انہیں یہ ادراک نہیں کہ اس کے خطرناک نتائج بھی برآمد ہو سکتے ہیں۔ وہ کن شرائط پر رینجرز کو توسیع دینا چاہتے ہیں، اگرچہ یہ واضح نہیں، مگر صاف ظاہر ہے کہ ان کا منشا یہی ہے کہ رینجرز صرف دہشت گردوں کے خلاف کارروائی تک محدود ہو جائے اور ڈاکٹر عاصم حسین جیسے کرداروں پر ہاتھ نہ ڈالے۔ وہ شاید رینجرز کی توسیع کے اس مرحلے کو ڈاکٹر عاصم حسین کی گلو خلاصی کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں جو کسی صورت ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ رینجرز یا فوج کوئی ایسا قدم کیسے اٹھا سکتی ہے جو اس کی ساکھ کو تباہ کر دے۔ اس کشمکش کا نتیجہ تو کسی اور شکل میں ہی نکل سکتا ہے اور کوئی بھی نہیں چاہے گا کہ جمہوریت کا شاخِ نازک پر جو آشیانہ موجود ہے، وہ کسی باد مخالف کی زد میں آجائے۔ اس سارے معاملے میں وفاقی حکومت اس طرح کردار ادا نہیں کررہی، جیسے اسے کرنا چاہیے۔ سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ معاملہ صرف سندھ کا نہیں، اصول اور قاعدے کا ہے۔ اگر رینجرز کو ایک بار کراچی سے ناکام لوٹا دیا گیا تو ملک میں انارکی کے وقت کوئی ادارہ بھی کام نہیں آئے گا۔ چودھری نثار علی خان جب یہ حیران کن بیان دیتے ہیں کہ سندھ حکومت نے رینجرز کو توسیع نہ دی تو اسے واپس بلا لیں گے، تب یوں لگتا ہے جیسے انہوں نے رینجرز کو ملک کے ایک صوبے میں نہیں، بلکہ اقوام متحدہ کی امن فورس میں بھیجا ہوا ہے۔ وہ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ رینجرز کو واپس بلا لیں گے، جبکہ وہ جانتے ہیں کہ رینجرز کے بغیر کراچی میں قتل و غارت گری کا بازار گرم ہو جائے گا،کیونکہ سندھ پولیس تو اپنی حفاظت کرنے کے قابل بھی نہیں۔

محاذ آرائی کے ان گہرے ہوتے بادلوں میں اگر بے یقینی بڑھ رہی ہے تو افواہیں بھی ضرور جنم لیں گی۔ سندھ حکومت کو تو غالباً صرف ڈاکٹر عاصم حسین کی رہائی سے غرض ہے، اسے اس بات سے کوئی مطلب نہیں کہ ملک میں جمہوریت رہتی ہے یا نہیں، تاہم ملک کی جمہوریت پسند قوتوں اور خود وفاقی حکومت کو خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے کی بجائے عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ ایک شخص کی رہائی کے لئے کراچی کے دو کروڑ عوام کی زندگیوں کو بے یقینی کی نذر نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کراچی میں بے شمار قربانیوں کے بعد جو امن آیا ہے، اسے برباد کیا جا سکتا ہے، کراچی میں رینجرز کو مکمل اختیارات ملنے چاہئیں اور اس کا فیصلہ پہلی فرصت میں ہونا چاہیے، کیونکہ معاملات اگر لکیر سے آگے چلے گئے تو پھر لکیر پیٹنے کے سوا کچھ بھی نہیں بچے گا۔

مزید :

کالم -