صحافت، ادب، آداب

صحافت، ادب، آداب
 صحافت، ادب، آداب

  

زیر نظر موضوع آج کے دور کا سنگین ،نہیں نہایت سنگین مسئلہ ہے، کیونکہ آئندہ نسل اور معاشرت کا مزاج اس صورت حال سے متاثر ہو گا جو آج کی صحافت پر طاری ہے اور آج سے نہیں،گزشتہ پانچ سات برس سے جاری ہے۔ صحافت میں ادب و آداب کا مسئلہ اپنی موجودہ شکل و صورت میں نیا ہے، لیکن درحقیقت اس کا آغاز یحییٰ خان کے زمانے سے ہو گیا تھا جب ملکی سیاست نظریاتی بنیادوں پر تقسیم ہو گئی تھی۔ ایسے میں بائیں بازو کی صحافت نے عروج پکڑا اور بائیں بازو کی یہ صحافت اکثر و بیشتر اخلاقی اعتبار سے سوالیہ نشان تھی۔ آغاز مولانا کوثر نیازی کے رسالے شہاب نے کیا، جس کے متعلق کسی نے کہا تھا کہ اگر اس خبار سے گالیاں حذف کر دی جائیں تو پھر پیشانی کے سوا کچھ نہیں بچے گا کہ یہ رسالے میں واحد لفظ ہے جو گالی نہیں ہے۔ شہاب کے بعد بائیں بازو کے دوسرے اخبار اور رسالے بھی گالی نامہ بنتے چلے گئے۔ 1971ء میں ملک ٹوٹنے اور پھر مغربی پاکستان کے باقی ماندہ پاکستان بن جانے کے بعد یہاں بھٹو صاحب کی حکومت آ گئی۔ دائیں بازو کے اخبارات پر سخت پابندیاں لگ گئیں اور بائیں بازو کی صحافت مرجھانے لگی۔ چنانچہ عوامی سطح پر مقابلے کی فضا ختم ہونے سے گالم گلوچ کم ہو گئی، لیکن سرکاری اخبارات کے سرکاری دانشور اپوزیشن کے لئے غیر اخلاقی زبان استعمال کرتے رہے۔ خاص طور سے پاکستان ٹائمز اور امروز کی زبان سخت قابل اعتراض ہو گئی تھی۔ چنانچہ ایک مرتبہ پارلیمنٹ میں این اے پی (نیپ) کے رہنماؤں کو پاکستان ٹائمز کے کالم نگار جس کا نام برکی تھا کی زبان کا نوٹس لینا پڑا اور اسے ’’بارکنگ برکی‘‘ کا خطاب دیا۔

یہ دور بھٹو صاحب کی حکومت کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔ ضیاء الحق کے دس گیارہ سالہ دور حکومت کے بعد جمہوریت کی جزوی بحالی ہوئی تو ملک پھر دو سیاسی کیمپوں میں بٹ گیا اور سیاسی کشیدگی سٹیج پر بدتہذیبی کی شکل میں ابھری، بعض سیاسی رہنما گالم گلوچ کے عنوان میں بہت نامور ہوئے جن میں شیخ رشید کا نام سرفہرست ہے۔ پھر زمانہ بدل گیا اگرچہ شیخ صاحب کی روایت پسندی نہیں بدلی اور وہ آج بھی اپنی وضع پر قائم ہیں تاہم زیادہ تر دوسرے سیاست دانوں نے اخلاق کی پاسداری کا مظاہرہ کیا۔ اس دور میں سیاسی میدان میں ہونے والی بدتہذیبی نے صحافت کو زیادہ متاثر نہیں کیا۔ صحافت سے مراد پرنٹ میڈیا ہے، کیونکہ الیکٹرانک میڈیا اس دور میں تھا ہی نہیں۔ صرف سرکاری ٹی وی تھا جو سیاست سے کافی حد تک دور تھا۔

اخلاقیات کا موجودہ بحران مشرف کے آخری دنوں میں شروع ہوا جب عدلیہ کی آزادی کی تحریک چلی اور ٹی وی چینلز پر مباحثوں کی بھرمار ہو گئی۔ ریکارڈ بتاتا ہے کہ بدتہذیبی کے زیادہ تر مظاہرے مشرف کے حامی دانشوروں کی طرف سے ہوئے۔ بہرحال اس وقت ٹی وی چینل اتنے زیادہ نہیں تھے جتنے اب ہیں اور پھر جوں جوں ان کی تعداد بڑھتی گئی بدتہذیبی کے ’’ مقابلہ ہائے حسن‘‘ بھی بڑھتے گئے اور بدقسمتی سے اس کا ایک گہرا تعلق پروگراموں کی ریٹنگ سے ہو گیا جس کا مطلب تھا زیادہ اشتہارات ،چنانچہ میڈیا مالکان جن پر تہذیب کا پاسبان ہونے کا انحصار تھا بدتہذیبی کی نا صرف حوصلہ افزائی کرنے لگے، بلکہ اپنے اینکرز سے اصرار کرنے لگے کہ پروگرام زیادہ سے زیادہ گرم کرو، بس پھر کپڑے اتارنے کی دوڑ شروع ہو گئی۔ اینکرز حضرات نے مہمانوں کی فہرست اسی’’میرٹ‘‘ سے بنانا شروع کر دی اور صرف ایسے حضرات کو بلانے کی پالیسی بن گئی جو ٹاک شو میں گرما گرمی کے ماہر ہوں اور پھر یہ بھی دیکھا کہ اگر مہمانوں نے مطلوبہ بدتہذیبی کا مظاہرہ نہیں کیا یا کم کیا تو اینکرز نے انہیں اشتعال دلانے کی واضح طور پر نظر آنے والی حکمت عملی اختیار کی اور ایسے بہت سے شو ہونے لگے، جن میں حریف نقطہ نظر کے لوگ زبان کے ساتھ ساتھ بگڑے ہوئے ’’دہن ‘‘کی تصویر بن گئے۔ یہ آصف علی زرداری کی صدارت کا دور تھا جو ختم ہوا تو سیاستدانوں میں ایک قسم کی مفاہمتی اور برداشت کی پالیسی راہ پا چکی تھی لیکن اس کا عکس ٹی وی پر نظر نہیں آتا تھا۔ اس لئے کہ ٹی وی کے اینکر حضرات’’ منتخب روزگار‘‘ قسم کے کوتاہ عقل اورزبان دراز فنکاروں ہی کو زیادہ بلاتے تھے۔ اسی عرصے میں عمران خان کی شکل میں آسمان سیاست سے ایک شوخ ستارہ طلوع ہو چکا تھا جس کے جلو میں ممی ڈیڈی گروپ کے وہ ہزاروں لاکھوں نوجوان تھے جو کھانے کو بھی SHIT بولتے ہیں۔ چنانچہ بدتہذیبی اور بے ہودہ زبان کا ایک سونامی جلسہ گاہوں سے اٹھا اور ٹی وی چینلوں کے سٹوڈیوز کو بھی بہاکرلے گیا۔ گالیوں کے ایسے ایسے نمونے ٹی وی کی سکرینز پر پیش ہوئے کہ معاشرت کی شکل ہی بدل گئی۔

یہ الیکٹرانک میڈیا کی صورتحال ہوئی،اخبارات بھی غیر متاثر نہیں رہے۔ اگرچہ اخبارات میں لکھنے والوں کی اکثریت پرانی ہونے کی وجہ سے شاید تہذیب اور شائستگی کا دامن نہ چھوڑ سکی لیکن پھر بھی ایک خاصی قابل ذکر تعداد دشنام نگاروں کی ان میں موجود ہے۔ان میں سے چند ایک تو وہ ہیں جو بھٹو دور سے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے آرہے ہیں، لیکن زیادہ تر نئے دور کی پیداوار ہیں اور ان میں واضح اکثریت وہ ہے جو مشرف کے دور میں عدالتی تحریک کے دوران مشرف کی وکالت سے نامور ہوئی۔ آج یہ حضرات مشرف کی وکالت تو نہیں کرتے، لیکن جمہوریت اور سیاستدانوں کے لتے لیتے ہیں۔ ان حضرات کے نزدیک ’’آزادئ صحافت ‘‘کا مطلب سیاستدانوں کی کردار کشی ہے اور کردار کشی کی اس مہم میں یہ لوگ اپنی بے کرداری عیاں کرتے چلے آرہے ہیں۔ کم و بیش یہ سارے ہی لبرل ازم کے علمبردار ہیں اور پاکستان میں لبرل ازم کے معنی وہ نہیں ہیں جو مغرب میں ہیں۔ یہاں لبرل ازم کے معنی اخلاقیات کا لبادہ تار تار کرنے کے ہیں۔ایک ایسے ہی لبرل بزرگ کالم نویس اپنے کالم میں ہم جنس پرستی کو ’’نافذ‘‘ کرنے کا مطالبہ بھی کرتے رہے۔ یہ لبرل حضرات مخالفوں کو برداشت کرنے کی سوچ نہیں رکھتے ان کی خواہش ہوتی ہے کہ مخالفوں کو زن بچے سمیت کولہو میں پلوا دیا جائے اور جب یہ خواہش پوری نہیں ہوتی تو دشنام کا طوفان ان کے منہ اور قلم سے ابل پڑتا ہے۔

اس بحث کا ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ سیاست میں اچانک در آنے والی گالم گلوچ کی گرم بازاری والی جماعت نے الیکٹرانک میڈیا اور کالم نویسی میں پائی جانے والی بدتہذیبی کو فروغ دینے میں ایک اہم عامل کا کردار ادا کیا ہے اور یہ بات خاص طور سے نوٹ کرنے کی ہے کہ زیادہ تر بدتہذیبی کا ارتکاب کرنے والے دانشوروں کی دانش کا منبع کچھ مخصوص طاقتی مراکز ہیں۔ دھرنے کے دوران ہر طرح کی مہم انہی مراکز سے کنٹرول ہوتی تھی۔بدتہذیبی کا ایک اور پہلو طبقاتی بھی ہے۔ پرنٹ میڈیا میں زیادہ تر مڈل اور لوئر کلاس کے لوگ ہیں، کم سے کم اردو صحافت میں ایسا ہی ہے لیکن ٹی وی چینلز پر ’’برگر کلاس‘‘ کا غلبہ ہے، جس نے ان تعلیمی اداروں سے تعلیم اور تربیت حاصل کی ہے جہاں اخلاقیات کا لفظ ہی اجنبی ہے، چنانچہ یہ لوگ صحافت کی حدود و قیود سے کیا واقف ہوتے، جو منہ میں آیا اسے اگل دینے کو ہی دانش سمجھتے ہیں، چنانچہ یہ ذمہ داری میڈیا مالکان اور صحافتی اداروں کی ہے کہ وہ اس کلاس سے آئے ہوئے ان گھڑ صحافیوں کو پہلے ابتدائی اخلاقی اور قانونی تربیت دیں پھر ان سے کام لیں۔

ادب و آداب کا یہ بحران صرف سیاسی معاملات میں نہیں ہے ۔ایک بہت بڑی بیماری سرکاری اداروں اور نجی کاروباری مراکز پر مارے جانے والے ’’شب خون‘‘ قسم کے پروگراموں کی صورت میں بھی آگئی ہے۔ انہیں ’’چھاپہ مار پروگرام‘‘ کہا جاتا ہے ۔ٹی وی کے رپورٹر اور کیمرہ مین کسی بھی ادارے، دفتر، کارخانے حتیٰ کہ گھریلو عمارت میں گھس جاتے ہیں اور تو تکار کے ساتھ آپریشن شروع کر دیتے ہیں۔ ادارے کے سربراہ کو ملزم نہیں مجرم بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ سہما ہوا شکار کسی سوال کا جواب دیتا ہے تو ٹی وی رپورٹر سب ناظرین کو مخاطب کرتا ہے کہ دیکھو یہ کیسا بے شرم آدمی ہے غنڈہ گردی کررہا ہے۔ بنیادی اصول ہے کہ ملزم گناہ گار ثابت ہونے تک بے گناہ ہے، لیکن یہ پگڑی اچھال صحافی چادر، چاردیواری اور پرائیویسی کے سارے قانون اور اخلاقی ضابطے توڑ کر اپنے شکار کو پروگرام شروع ہونے سے پہلے ہی ’’مجرم ‘‘قرار دیتے اور پھر اس کی ’’ایگزی کیوشن‘‘ شروع کر دیتے ہیں۔ میرا حکومت اور پیمرا سے سوال ہے کہ چادر چاردیواری توڑنے کا اختیار تو بلااجازت پولیس کو بھی نہیں۔ اس قانون اور اخلاق شکنی کی اجازت کس نے دی ہے اور اس کو برداشت کیوں کیا جارہا ہے؟ اس صورت حال میں پیمرا کے وجود کا کیا جواز رہ جاتا ہے۔اس گھمبیر مسئلے کے حل کے لئے چند تجاویز حاضر ہیں۔

*۔۔۔صحافت ذمہ داری ہے، تفریحی مشغلہ نہیں۔ ذمہ داری کا احساس ہی زبان کو حدود کا پابند بنا سکتا ہے، لیکن جس طرح میراثی تفریحی شغل میں سامنے بیٹھے ہوئے لوگوں کا مضحکہ اڑاتے ہیں اسی طرح تفریحی صحافی بھی اپنے جذبات کی تسکین کیلئے ان لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں جو انہیں پسند نہیں۔ صحافت اس شے کا نام نہیں۔

*۔۔۔صحافت ایک تعمیری کام ہے اور تعمیری ذہن رکھنے والے ہی صحافی بن سکتے ہیں۔ تخریبی اور منفی ذہن رکھنے والے لوگ صحافت میں آجائیں تو صحافت کو گالی بنادیتے ہیں۔

*۔۔۔صحافت آزاد ہونی چاہئے، بدقسمتی سے پاکستان کی صحافت آج ماضی کے مقابلے میں زیادہ ’’پابند‘‘ ہے ۔ طاقتور اداروں نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا ہے اور ایسے عناصر اس میں داخل کر دئیے ہیں یا پہلے سے موجود کچھ ایسے لوگوں کی خدمات انہوں نے حاصل کر لی ہیں جو سیاست دانوں کی کردار کشی میں حدود توڑ رہے ہیں اور بدقسمتی سے ناظرین کا ایک حصہ اس کردار کشی کو آزادی صحافت سمجھ بیٹھا ہے۔

*۔۔۔ سیاسی جماعتوں کے صرف وہی نمائندے ٹی وی چینلوں پر بلائے جاتے ہیں جو تیز گفتگو کر سکتے ہوں اور جنہیں اینکر پرسن اشتعال دلا سکے۔ اس سے پروگرام کی ریٹنگ بڑھتی ہے۔ چنانچہ یہ اشتعال انگیز پروگرام میڈیا کی ’’کاروباری حکمت عملی‘‘ بن گئے ہیں۔ ایسے پروگرام غیر شائستہ، غیر اخلاقی اور حدیں پار کرنے والی گفتگو ،عوامی زبان اور طرز عمل کو بھی جارحانہ بنانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

*۔۔۔ ایک ٹی وی چینل پر آغا ہلالی جو ایک سابق سفارت کار ہیں نواز شریف کیلئے ’’یہ شخص یہ آدمی ‘‘ کے الفاظ استعمال کرتا ہے۔ دنیا کے کسی ملک میں ایسا نہیں ہوتا۔ آدمی کی بھی عزت ہوتی ہے اور عہدے اور منصب کی بھی۔ آغا ہلالی دونوں کی بہت گری ہوئی زبان میں تضحیک کرتا ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ کچھ حلقوں کی طرف سے نہ صرف ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے بلکہ ایسے لوگ تیار کر کے میڈیا کو فراہم بھی کیے جاتے ہیں۔

*۔۔۔ صحافت حقیقت بتاتی ہے ،گمراہ نہیں کرتی لیکن ہمارے میڈیا کے ایک بڑے حصے نے لوگوں کو غلط اطلاعات اور مبنی برعناد تبصرے فراہم کرنے کو کاروباری مشن بنا کر صحافت کی بنیادیں تباہ کر دی ہیں۔

*۔۔۔ الیکٹرانک میڈیا میں اس تعلیمی نظام سے فارغ ہونے والے افراد سرایت کر گئے ہیں جہاں اخلاقیات کا کوئی تصور نہیں ہے۔ ان لوگوں سے ادب اور تہذیب کی توقع کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ اس بات کی ضروت ہے کہ ٹی وی مالکان اپنی بھرتی میں ان لوگوں کا کوٹہ کم کریں اور صحافیوں کی تنظیمیں بھی اس معاملے کو اپنے ہاتھ میں لیں اور مہم چلا کر ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی کریں۔

* ۔۔۔کم تعلیم بھی غیر مہذب رویوں کی پرورش کرتی ہے۔ میڈیا میں کم پڑھے لکھے لوگ اگرچہ ان کے پاس ڈگری ہوتی ہے اب زیادہ تعداد میں آرہے ہیں۔ خاص طور سے انگریزی سکولوں کے طلبہ جن کے پاس انگریزی بولنے میں روانی کی صلاحیت تو ہوتی ہے لیکن ان کا کوئی علمی یا مطالعاتی پس منظر نہیں ہوتا۔ یہاں معاملہ پاکستان کی حکومت اوروزارت تعلیم سے بھی متعلقہ ہو جاتا ہے۔ ان سکولوں کا معیار تعلیم بہتر بنانے کی ضرورت ہے جو پوری ہو جائے تو اس کا میڈیا پر بھی اچھا اثر پڑے گا۔

(الحمرا عالمی ادبی ثقافتی فیسٹیول 2015 ء میں پڑھا گیا)

مزید :

کالم -