اورنج ٹرین منصوبہ، متاثرین اور حکومت آمنے سامنے!

اورنج ٹرین منصوبہ، متاثرین اور حکومت آمنے سامنے!

  

سول سوسائٹی کے اراکین اور اورنج لائن ٹرین سے متاثرہ شہریوں نے مشترکہ احتجاج کیا۔ فیصل چوک میں احتجاج کے باعث ٹریفک بھی بری طرح متاثر ہوئی،مظاہرین کا الزام ہے کہ اورنج لائن ٹرین کے منصوبے کی زد میں کچی آبادیوں اور متوسط طبقے کے گھروں کے علاوہ چوبرجی،شالا مار باغ اور دیگر تاریخی عمارتیں بھی آ رہی ہیں، مظاہرین کا مطالبہ یہ بھی تھا کہ کام روک کر منصوبے پر نظرثانی کی جائے اور ان کی شکایات کا ازالہ کیا جائے۔ دوسری صورت میں احتجاج کا دائرہ وسیع کر دیا جائے گا۔اورنج لائن ٹرین پر برق رفتاری سے کام جاری ہے۔ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف اپنی روایت کے مطابق مقررہ مدت میں اس منصوبے کی تکمیل چاہتے اور ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں، حتیٰ کہ ضروری فنڈز کی دستیابی یقینی بنانے کے لئے کئی دوسرے ترقیاتی منصوبوں کے لئے مختص فنڈز بھی ادھر منتقل کر دیئے گئے ہیں۔ حال ہی میں وزیراعلیٰ کے مشیر اور لارڈ میئر لاہور کے لئے امیدوار خواجہ احمد حسان نے ایسے ہی احتجاج اور شہریوں کی شکایات کی روشنی میں اخبار نویس حضرات کو بُلا کر بڑی تفصیلی بریفنگ دی اس میں ایڈیٹر بھی تھے۔ خواجہ حسان کا موقف تھا کہ منصوبہ شہریوں کے لئے انتہائی مفید ہے، جو چین کے تعاون سے جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو مکانات یا جائیداد اس منصوبے کے لئے حاصل کی جا رہی یا کی جائے گی اس کے عوض مارکیٹ ریٹ کے مطابق معاوضہ کی فوری ادائیگی ہو گی،جبکہ تاریخی عمارتوں کو رتی بھر نقصان نہیں پہنچایا جا رہا، چوبرجی ہو یا شالیمار، ٹرین ان سے کافی فاصلے پر سے گزرے گی۔ خبروں اور بریفنگ کے حوالے سے لکھے گئے کالموں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ منصوبے کی وجہ سے شہر میں جو گرد ہے اسے عارضی تکلیف قرار دے کر مستقبل کی راحت کے لئے برداشت کرنے کی درخواست کی گئی۔

مشیر برائے وزیراعلیٰ کی بریفنگ اور ان کی طرف سے وقتی تکلیف برداشت کرنے کی تلقین اور متاثرین کے مطالبات کے حوالے سے وضاحت اپنی جگہ، وہ اپنے حوالے سے منصوبے کے بارے میں درست ہی فرماتے ہوں گے، لیکن بہتر ہوتا اگر زمینی حقائق کی روشنی میں بات کی جائے۔ ٹرین کا کام چینی انجینئر سرانجام دے رہے ہیں، جو عملی طور پر نگرانی اور بڑے تکنیکی کام کر رہے ہیں۔ نچلی سطح پر مقامی ٹھیکیدار شامل کئے گئے ہیں۔ پھر منصوبے کی جلد تکمیل کے لئے پورا روٹ ہی کھود دیا گیا ہے۔ اس سے پورا شہر ہی گرد آلود ہو گیا ہے اور لوگ پریشان ہیں، حالانکہ اس گرد کو روکا اور ٹریفک کے بہاؤ کو بحال رکھا جا سکتا تھا۔ بشرطیکہ جہاں جہاں کام ہو رہا ہے اسے دونوں اطراف سے بڑی بڑی جستی چادروں سے ڈھانپ لیا جاتا، کہیں کہیں ایسا ہوا، لیکن ہر جگہ ایسا نہیں کیا گیا، حد تو یہ ہے کہ ملتان روڈ پر سیمنٹ اور بجری سے مکسچر بنانے والا پلانٹ وحدت روڈ پر علامہ اقبال ٹاؤن،مصطفےٰ ٹاؤن اور منصورہ کی آبادیوں کے وسط میں لگا دیا گیا یہ اسفالٹ پلانٹ یہاں سڑک کے کنارے لگایا گیا اس سے پورے علاقے میں گرد اُڑتی اور گھروں میں گھستی رہتی ہے۔ پلانٹ والی جگہ کے سامنے سڑک پر ٹریفک کی تیزی روکنے کے لئے سڑک پر آئی کیٹ لگا دیئے گئے، جو نہ صرف بڑے بڑے ہیں، بلکہ یہ قریب قریب چار پانچ سپیڈ بریکر کی صورت لگائے گئے،ان پر سے کسی گاڑی کا گزرنا مشکل ہے کہ یہ بڑے ہیں اور گاڑیوں کو جھٹکے لگنے کے علاوہ ٹائر بھی متاثر ہوتے ہیں، قریب ہی بیکری، دودھ دہی اور برگر، شوارما وغیرہ کی دکانیں ہیں۔ یہ ساری خوراک مٹی سے متاثر ہو رہی ہے۔اس صورت حال کو بہتر بنانا بھی تعمیراتی کمپنی کا فرض ہے، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ دوسرے میڈیا والے حضرات کو بُلا کر مطمئن کرنے کا مقصد بظاہر، خبریں اور تنقیدی کالم ہی رکوانا لگتا ہے۔ بہتر ہو گا کہ وزیراعلیٰ ذرا خود منصوبے کے روٹ کا دورہ کر کے ان مشکلات کو دیکھ لیں تو ان کو پتہ چل جائے گا۔ اس کے علاوہ متاثرین اور سول سوسائٹی کو مطمئن کرنے کے لئے ان سے بھی بات کی جائے۔

مزید :

اداریہ -