بھارت کے ساتھ تمام مسائل پربات چیت

بھارت کے ساتھ تمام مسائل پربات چیت

  

خارجہ امور پر وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ آئندہ مہینوں میں تمام حل طلب امور پر بات چیت ہو گی ’’ہارٹ آف ایشیا‘‘ کانفرنس کی وجہ سے افغانستان اور بھارت کے ساتھ رُکا ہوا مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع ہوا، بھارت کے ساتھ جموں و کشمیر ، سرکریک، سیاچن اور لائن آف کنٹرول پر خلاف ورزی کے معاملات کو اگلے ماہ خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر ہونے والی ملاقات میں اٹھایا جائے گا، دونوں ملکوں کے سیکرٹری خارجہ مذاکرات کالائحہ عمل طے کریں گے۔ افغان صدر اشرف غنی اور بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کا پاکستان آنا بہت بڑا بریک تھرو تھا۔ قومی اسمبلی میں پالیسی بیان میں سرتاج عزیز نے کہا بھارت سے بات چیت کے لئے مثبت پیشرفت ہوئی ہے، مذاکرات کے لئے طریق کار اور شیڈول پر پارلیمینٹ کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ تعلقات آگے بڑھانا چاہتے ہیں، کرکٹ سمیت دیگر معاملات پر بھی ماحول ساز گار ہو گا۔ سشما سوراج نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کرکٹ پر بھی بات چیت ہو گی۔ بھارتی میڈیا نے بھی کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکرٹریوں کی ملاقات آئندہ ماہ ہو گی۔مشیر خارجہ نے پارلیمینٹ میں جو پالیسی بیان دیا ہے، وہ اس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ ابھی گزشتہ روز ہی مولانا فضل الرحمن نے بھارت کے ساتھ مذاکرات کے معاملات کو پارلیمینٹ میں لانے کا مطالبہ کیا تھا،دونوں ملکوں کے تعلقات ایک نازک موضوع ہے اور اس پر ہر وقت کسی نہ کسی انداز میں پارلیمینٹ کے باہر بھی بات چیت ہوتی رہتی ہے، اور اس میں بھی کلام نہیں کہ بعض حضرات اپنے بیانات میں معروضی صورتِ حال کو پیش نظر نہیں رکھتے۔ اس لئے بہتر ہے کہ جن جماعتوں کی پارلیمینٹ کے اندر نمائندگی ہے وہ اپنے نقطہ نظر کا اظہار پارلیمینٹ کے اندر کریں، اور حکومت بھی اپنے جواب سے اُنہیں مطمئن کرے۔ البتہ جن جماعتوں کی پارلیمینٹ میں نمائندگی نہیں ہے اُن میں سے چیدہ چیدہ جماعتوں کے ساتھ مشاورت کا کوئی نہ کوئی طریقہ نکالا جا سکتا ہے اس طرح یہ ہو گا کہ حکومت مذاکرات میں جو بھی موقف اختیار کرے گی پوری قوم کی حمایت اُس کے ساتھ ہو گی، حکومت کو دوسرا فائدہ یہ ہو گا کہ کل کلاں یہ جماعتیں بھی نہیں کہہ سکیں گی کہ حکومت نے فلاں معاملے پر قومی موقف سے انحراف کیا، جب اُن کی رائے سُن کر، اُسے مذاکرات میں اکاموڈیٹ کیا جائے گا، تو پھر وہ بھی اپنے آپ کو مذاکرات کا حصہ تصور کریں گی، سشما سوراج نے اسلام آباد میں بہت ہی مختصر بات کی تھی اور پریس کانفرنس میں سوالات کا جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُنہیں جو کچھ کہنا ہے اپنے ملک کی پارلیمینٹ میں جا کر کہیں گی، اب پیر کے روز اُن کا بیان متوقع ہے۔ دیکھنا ہو گا کہ سرتاج عزیز اور سشماسوراج کے بیانات میں کہیں کوئی ٹکراؤ یا تضاد تو نہیں ہے۔

بھارت اور پاکستان کے مذاکرات جب کبھی اور جہاں کہیں بھی ہوئے، بھارت کی کوشش ہمیشہ یہ رہی کہ تجارت وغیرہ کے معاملات کو اولیت دی جائے، اور پاکستان کو جن امور پر بات چیت میں دلچسپی ہو سکتی ہے، انہیں ایجنڈے میں بہت نیچے رکھا جائے۔کشمیر کے مسئلے پر تو کوئی ڈھنگ کی بات کبھی ہو ہی پائی، اگر شروع ہو بھی گئی تو اِدھر اُدھر سے گھما پھرا کر ختم کر دی گئی، اس میں شک نہیں کہ یہ پیچیدہ مسئلہ ہے اور دو چار ملاقاتوں میں اس کا حل نہیں نکل سکتا، یہ مسئلہ طویل،مشقت طلب اور گہرے غور و فکر کا متقاضی ہے، لیکن تجارتی امور وغیرہ میں چونکہ بھارت کا پلڑا بھاری رہتا ہے اس لئے وہ ہمیشہ اس پر زور دیتا ہے۔ اب بھی ہارف آف ایشیا کانفرنس میں بھارتی وزیر خارجہ نے افغانستان کی اشیا کی بھارت برآمد کے لئے پاکستان سے زمینی تجارتی راستہ طلب کیا اس سے پہلے تو یہ دیکھنا ہو گا کہ بھارت اور افغانستان میں اس وقت جو تجارت ہوتی ہے اس کا کیف و کم کیا ہے، افغانستان کتنی مالیت کا مال تجارت بھارت کو بھیجتا ہے اور بھارت کتنی مالیت کا تجارتی سامان افغانستان کو بھیجتا ہے اور کون کون سی اشیا کی تجارت ہوتی ہے،قدرتی طور پر بھارت کے پاس افغانستان کو بیچنے کے لئے بہت کچھ ہے،جبکہ اس کے مقابلے میں افغانستان کے پاس بھارت کو ایکسپورٹ کرنے کے لئے زیادہ اشیا نہیں،اِس لئے بھارت اس ضمن میں افغانستان کا نہیں اپنا فائدہ پیش نظر رکھ رہا ہے،اس کا یہ خیال ہے کہ افغانستان کا نام استعمال کر کے بھارت وسط ایشیا تک زمینی راستے سے رسائی حاصل کر لے۔

اِس طرح کی کوئی سہولت دینے سے پہلے پاکستان کو ہر زاوئے سے اس کا جائزہ لینا ہو گا، کشیدگی کی موجودہ فضا میں جب بھارت پر ہم یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں کرواتا ہے خصوصاً بلوچستان میں اسلحہ گولہ بارود اور تربیت یافتہ دہشت گرد بھارت ہی کی سرپرستی میں افغانستان کے راستے آتے ہیں،ایسے میں پاکستان کے اندر سے طویل تجارتی کوریڈور مہیا کرنا اس لحاظ سے بھی خطرناک ہو گا کہ کیا معلوم تجارتی سامان کے پردے میں بھارت کیا کچھ افغانستان بھیج دے، جو پاکستان کی سالمیت پر بھی اثر انداز ہو، اِس لئے یہ ضروری ہے کہ پہلے زیادہ پیچیدہ معاملات پر غور کر کے اُن کے حل کی راہ ہموار کی جائے، اِس طرح اخلاصِ نیت کا اندازہ بھی کسی حد تک ہو جائے گا اور یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ مذاکرات کے پردے میں تجارتی مفادات کا کھیل تو نہیں کھیلا جا رہا، بھارت پاکستان سے جس قسم کی سہولت کا طلب گار ہے اور جو آج تک اُسے حاصل نہیں ہو سکی اس کی وجہ یہی ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی کا عنصر زیادہ ہے اور دوستی اور بھائی بندی زبانی کلامی ہیں اور حلق سے نیچے کم ہی اُترتی ہیں اگر دونوں ملکوں میں کشیدگی کم ہو جائے اور اچھے ہمسایوں کے تعلقات قائم ہو جائیں تو ایسی سہولتوں کی فراہمی پر غور ہو سکتا ہے۔دونوں مُلک اگر تعلقات معمول پر لانا چاہتے ہیں تو رویہ یہ ہونا چاہئے کہ معاملات کو حل کیا جائے موخر کرنے یا قالین کے نیچے دبانے کی حکمت عملی اختیار نہ کی جائے، بدقسمتی سے ماضی میں ایسا ہی ہوتا رہا، اور پون صدی کا عرصہ گزار لیا گیا، اب اگر اعتماد سازی کے اقدامات بھی کرنا ہیں تو یہ ایسے ہونے چاہئیں جن سے صحیح معنوں میں دونوں ملکوں کی حکومتوں،عوام اور تاجروں میں اعتماد پیدا ہو،جس طرح کے اعتماد سازی کے اقدامات ماضی میں کئے گئے اُن سے تو کوئی اعتماد پیدا نہیں ہوا، اور اب بھی یہ عالم ہے کہ دونوں ملکوں کے دا نشور اگر کسی ٹاک شو میں اکٹھے ہو جائیں تو اُن کے مُنہ سے جھاگ نکلتی،زبانیں شعلے اُگلتیں اور دلائل کی بجائے لٹھ باری کے انداز میں بات کی جاتی ہے۔ اگر ٹاک شوز میں بھی مرغوں کی لڑائی کا انداز اختیار کرنا ہے تو تصور کیا جا سکتا ہے باقاعدہ مذاکرات کا رنگِ سخن کیا ہو گا، مذاکرات کی بحالی خوش آئند، ان سے توقعات وابستہ کرنا بھی درست، لیکن اہم ترین بات یہ ہے کہ انہیں اِس انداز میں کامیاب کیا جائے کہ یہ واقعی تعلقات کو بہتر کر سکیں اور ایک نئے دور کا آغاز ہو سکے، اگر یہ نہیں ہوتا تو بابا پھر سب کہانیاں ہیں۔

مزید :

اداریہ -