گندم کی بہتر پیداوار کیلئے پہلی آبپاشی کے ساتھ دو بوری ڈی اے پی یاپانچ بوری سنگل سپر فاسفیٹ فی ایکڑ ڈالنے کی ہدایت

گندم کی بہتر پیداوار کیلئے پہلی آبپاشی کے ساتھ دو بوری ڈی اے پی یاپانچ بوری ...

  

فیصل آباد(بیورورپورٹ)ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آبادکے ماہرین شعبہ ایگرانومی نے کاشتکاروں کو گندم کی بہترین فصل کے حصول کیلئے پہلی آبپاشی کے ساتھ کمزور زمینوں میں دو بوری ڈی اے پی یاپانچ بوری سنگل سپر فاسفیٹ فی ایکڑ ڈالنے کی ہدایت کی ہے اور کہاگیاہے کہ گندم کی فصل میں فاسفورسی کھاد اراضی تجزیہ کی روشنی میں استعمال کرنے سے گندم کے پیداواری اخراجات میں کمی لائی جاسکتی ہے۔انہوں نے کاشتکاروں سے کہاہے کہ بوائی کے وقت فاسفورسی کھادوں کے استعمال نہ کرنے کی صورت میں پہلی آبپاشی کے ساتھ کمزور زمینوں میں دو بوری ڈی اے پی یاپانچ بوری سنگل سپر فاسفیٹ فی ایکڑ ، اوسط زرخیز زمین میں ڈیڑھ بوری ڈی اے پی یا چار بوری سنگل سپر فاسفیٹ فی ایکڑ اور زرخیز زمین میں ایک بوری ڈی اے پی یا اڑھائی بوری سنگل سپر فاسفیٹ فی ایکڑ استعمال کریں۔ انہوں نے کہاکہ گندم کی بھرپور پیداوار کے لیے پہلی آبپاشی کے ساتھ ایک بوری یوریا یا پونے دوبوری امونیم نائٹریٹ فی ایکڑ بھی استعمال کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ اگرگندم کی پہلی آبپاشی کے وقت گندم کی فصل میں نائٹروجنی کھاد استعمال نہ کی جائے تو اس سے فی ایکڑ پیداوارمتاثر ہونے کا احتمال بڑھ جاتاہے۔

انہوں نے کہاکہ دور حاضر میں پانی کی ضرورت کے پیش نظر آبپاشی کی جدید زرعی ٹیکنالوجی کے استعمال سے ایک تو پانی کی بچت ہوتی ہے اور دوسری طرف گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔

مزید :

کامرس -