پاکستان اور چین کے تاجر مشترکہ منصوبہ سازی سے بھرپور فائدہ اٹھائیں ‘ لاہور چیمبر

پاکستان اور چین کے تاجر مشترکہ منصوبہ سازی سے بھرپور فائدہ اٹھائیں ‘ لاہور ...

  

لاہور(کامرس رپورٹر) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ محمد ارشد نے پاکستان اور چین کے تاجروں پر زور دیا ہے کہ وہ مشترکہ منصوبہ سازی کے ذریعے ایک دوسرے کے بہترین تجربات اور وافر وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھائیں ۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار چینی تاجروں کے پانچ رکنی وفد سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کی سربراہی سنکیانگ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر یوسپ جان کررہے تھے ۔ لاہور چیمبر کے سابق نائب صدر سید محمود غزنوی اور ایگزیکٹو کمیٹی اراکین بھی اس موقع پر موجود تھے۔ لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ لاہور چیمبر علاقائی تعاون کے فروغ پر یقین رکھتا ہے اور اس کے لیے چین سے بہتر اور کوئی ملک نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان وسائل اور معدنیات سے مالامال جبکہ اس کی جغرافیائی حیثیت بہترین ہے جس سے غیرملکی سرمایہ کار بھرپور فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ شیخ محمد ارشد نے کہا کہ پاکستان اور چینی تاجروں کے درمیان زراعت، لائیوسٹاک، انفراسٹرکچر، توانائی، آٹوموبیل اور دیگر شعبوں میں تعاون اور مشترکہ منصوبہ سازی کا فروغ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ تیزی سے تبدیل ہوتی عالمی معاشی صورتحال کے پیش نظر دونوں ممالک کو معاشی اور دفاعی تعاون مزید بڑھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں کاروباری ماحول انتہائی بہترین اور سرمایہ کار دوست ہے جس سے چینی تاجروں کو بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ باہمی تجارت بڑھ رہی ہے لیکن دونوں ممالک کی پوٹینشل اس سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ قالین، لیدر، لیدر مصنوعات، آلات جراحی، کھیلوں کا سامان، پھل، سبزیاں، چاول، فارماسیوٹیکل اور کپاس سمیت پاکستانی مصنوعات معیار کے حوالے سے بہترین ہیں لہذا چینی درآمد کنندگان کو یہ اشیاء پاکستان سے ترجیحی بنیادوں پر منگوانی چاہئیں۔ لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تاجر تعمیرات، ہوٹل، سیاحت، ایس ایم ایز، کمپیوٹر، ٹیکسٹائل، گارمنٹس، کارپوریٹ فارمنگ، سی فوڈ، فوڈ پراسیسنگ، بینکنگ اینڈ فنانس، لائٹ انجینئرنگ وغیرہ کے شعبوں میں مشترکہ منصوبہ سازی کا آغاز کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ توانائی اور زراعت کے شعبوں میں پاکستان کو چینی مدد کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے جبکہ چین اس شعبے میں وسیع مہارت رکھتا ہے، اگر اس شعبے میں مشترکہ منصوبہ سازی کی جائے تو اس سے دونوں ممالک کو بہت زیادہ فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ زرعی پیداوار بڑھنے سے نہ صرف مقامی ضرورت پوری ہوگی بلکہ اضافی پیداوار چین کو بھی برآمد کی جاسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ سی فوڈ پراسیسنگ کے شعبے میں بھی دونوں ممالک مل کر کام کرسکتے ہیں۔

چینی وفد کے سربراہ نے کہا کہ چینی تاجر پاکستانی تاجروں کے ساتھ مشترکہ منصوبہ سازی کرنے کی شدید خواہش رکھتے ہیں، چینی تاجر پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتے اور پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم کرے گی بلکہ ایشیاء میں ترقی و خوشحالی کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوگی۔

مزید :

کامرس -