چنے کی منافع بخش کاشت میں جڑی بوٹیوں کا بروقت تدارک اہمیت کا حامل ہے‘ محکمہ زراعت

چنے کی منافع بخش کاشت میں جڑی بوٹیوں کا بروقت تدارک اہمیت کا حامل ہے‘ محکمہ ...

  

لاہور( کامرس رپورٹر)محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ پنجاب میں چنا 22لاکھ ایکڑ سے زائد رقبہ پر کاشت کیا جاتا ہے ، چنے کی منافع بخش کاشت میں جڑی بوٹیوں کا بروقت تدارک نہایت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ جڑی بوٹیاں فصل کی پیداوار میں 25فیصدتک کمی کا باعث بنتی ہیں۔ باتھو، پیازی ، جنگلی جئی ، دمبی سٹی ، چھنکنی بوٹی ، مینا، شاہترہ ، سنجی اور جنگلی مٹر وغیرہ چنے کی فصل کی اہم جڑی بوٹیاں ہیں۔ان جڑی بوٹیوں کی موجودگی کی وجہ سے چنے کی پیداوارمیں نہ صرف کمی ہوتی ہے بلکہ پیداوار بھی غیر معیاری ہوجاتی ہے۔ ترجمان نے کہا ہے کہ جڑی بوٹیاں چنے کی فصل کے لیے استعمال ہونے والے خوراکی اجزاء کھاد ، پانی اور روشنی کے ضیاع کا باعث بنتی ہیں اور فصل کو کمزور کردیتی ہیں ۔یہ ضرر رساں کیڑے اور بیماریاں پھیلانے کے لیے متبادل میز بان پودوں کا کردار ادا کرتی ہیں۔زرعی ماہرین نے کاشتکاروں کو سفارش کی ہے کہ وہ چنے کی فصل کو پہلے دومہینوں تک جڑی بوٹیوں سے پاک رکھنے کے لیے بھرپور اقدامات کریں کیونکہ بعد میں اگنے والی جڑی بوٹیاں زیادہ نقصان کا باعث نہیں بنتی۔ ان کے موثر کنٹرول کے لیے چنے کی فصل میں دو سے تین گوڈیاں کریں ۔پہلی گوڈی کاشت کے 30تا40دن بعد جبکہ دوسری گوڈی بجائی کے 70تا80دن بعد کریں ۔

گوڈی کے عمل سے نہ صرف جڑی بوٹیاں تلف ہوجاتی ہیں بلکہ زمین میں وتر بھی زیادہ دیر تک محفوظ رہتا ہے ۔ زمین بھربھری ہونے سے پودوں کی نشوونما میں بہتری آجاتی ہے اور پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔آب پاش علاقوں میں چنے کی فصل میں جنگلی جئی اور دمبی سٹی کی تلفی کے لیے فصل اگنے کے دوماہ بعد فیناکسی پراپ بحساب 500ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔آبپاش فصل کو پہلا پانی 45دن بعد اور دوسرا پانی پھول آنے پر دیں ۔ ستمبر کاشتہ کماد میں چنے کی فصل کو کماد کی ضرورت کے مطابق پانی دیں۔ کاشتکار اپنی فصل کا ہفتہ وار باقاعدگی سے معائنہ کرتے رہیں ، دیمک ، ٹوکہ یا امریکن سنڈی کا حملہ مشاہدہ میں آنے پر محکمہ زراعت توسیع و پیسٹ وارننگ کے مقامی عملہ کی مشاورت سے مناسب زہروں کا سپرے کریں۔

مزید :

کامرس -