بااختیار وزیراعلیٰ بن رہا ہوں، 6 ماہ بعد عوام خود تبدیلی دیکھیں گے،بلوچستان میں امن وامان کا کریڈٹ فوج اور فرنٹیئر کور کودونگا : نواب ثناءاللہ خان زہری

بااختیار وزیراعلیٰ بن رہا ہوں، 6 ماہ بعد عوام خود تبدیلی دیکھیں گے،بلوچستان ...
بااختیار وزیراعلیٰ بن رہا ہوں، 6 ماہ بعد عوام خود تبدیلی دیکھیں گے،بلوچستان میں امن وامان کا کریڈٹ فوج اور فرنٹیئر کور کودونگا : نواب ثناءاللہ خان زہری

  

کوئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک) بلوچستان کے نامزد وزیراعلیٰ نواب ثناءاللہ خان زہری نے کہا ہے کہ ریاست کو استعمال کرکے قبائلی بدلے لینا بلوچ ‘ پشتون روایات کیخلاف ہے اس حوالے سے اسلام آباد میں گردش کرنے والی افواہیں جلد دم توڑ دیں گی،میں بااختیار وزیراعلیٰ بن رہا ہوں ڈنڈا پکڑ کر زندہ باد مردہ باد کرنا قوم پرستی نہیں اصل قوم پرست وہ ہے جو اپنے عوام کو بہتر طرززندگی فراہم کرے ، اسلام آباد میں بیٹھ کر کوئی بھی سوچ بنانا مناسب نہیں آج ہم کچھ نہیں کہیں گے 6 ماہ بعد عوام خود تبدیلی دیکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ رئیسانی حکومت میں اتنی خرابیاں نہیں تھیں جتنا تاثر دیا گیا بلکہ اس حکومت کیخلاف بھی پروپیگنڈا کیا گیا تھا ،ہم کسی کو نوازنے نہیں آئے بلکہ ہماری کوشش ہے کہ بلوچستان کے عوام کو تمام تر سہولیات فراہم کریں ”نجی ٹی وی “ چینل کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے نواب ثناءاللہ خان زہری کا کہنا تھا کہ پہلے فیز میں ہم کوئٹہ کے مسائل حل کریں گے جس کے بعد بلوچستان بھر میں بہتری کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔انہوںنے کہا کہ ہمیں یہ اختیار حاصل ہے کہ ہم نئے لوگ کابینہ میں شامل کریں ،موجودہ وزیراعلیٰ کے مستعفی ہونے کے بعد آئین کے تحت کابینہ تحلیل ہو جائے گی ،اتحادی جماعتیں جو بھی نام ہمیں دیں گی ہم انہیں کابینہ میں شامل کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ عامر ریاض سے میری ملاقاتیں ہوئی ہیں، ہمیں خوشی ہے کہ ہمیں ان جیسے کورکمانڈر ملے جو بلوچستان میں امن کے خواہاں ہیں۔ گورنر بلوچستان ایک بہتر آدمی ہیں، 18ویں ترمیم کے بعد تمام اختیارات چیف ایگزیکٹو کے پاس ہوتے ہیں،گورنر مرکز کا نمائندہ اور حکومت کا سربراہ ہے، ماضی میں یہاں گورنرکی جانب سے مداخلت ہوتی رہی اور یہاں تک کہا گیا کہ مرکز کا پیغام ہے کہ وزیراعلیٰ کیخلاف کھڑے ہوجائیں ،مگر اب ایسی صورتحال نہیں، موجودہ گورنر نے کبھی وزیراعلیٰ کی طرح گورنرہاﺅس کو پارٹی آفس نہیں بنایا ،اس حوالے سے میں نے خود بھی ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ سے کہا تھا کہ وہ سی ایم ہاﺅس کو پارٹی آفس نہ بننے دیں۔نامزد وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ ہماری ہمیشہ سے یہ کوشش رہی کہ ہم ایک اچھے اتحادی کی طرح مثبت طرز فکر سے کام کریں، اگر میری نیت صاف نہ ہوتی تو میں کبھی ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ کو یہ نہ کہتا، ڈھائی سال کے دوران ہمارے لوگوں نے بہت سی شکایات بھی کہیں مگر ہم نے انہیں مفاہمت کی تلقین کی۔اُن کا کہناتھا کہ اب تک بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال میں جو بہتری آئی ہے اس کا کریڈٹ فوج اور فرنٹیئر کور دونگا حکومت نے بھی ان کا ساتھ دیا مگر لڑنے والے فورسز کے لوگ ہیں ہمارے پاس بندوق نہیں ہم صرف احکامات دیتے ہیں ۔نواب ثناءاللہ زہری کا کہنا تھا کہ میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ خود کوکیسے بے اختیار وزیراعلیٰ کہتے تھے ؟کیونکہ سابقہ سدرن کمانڈ ان کے انتہائی قریب تھے اور سیاسی قیادت نے بھی انہیں بھرپور تعاون دیا ،میں نے خود ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ سے تعاون کیا اورہماری کوشش رہی کہ وہ عوام تک حکومتی ثمرات پہنچا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے ہمارے بچوں کو شہید کیا وہ ریاست ‘ سیاستدانوں اور فورسزپر بھی حملے کرتے ہیں، ہم پر حملہ کرنے والوں نے خود قبول کیا کہ انہوں نے ہم پر حملہ اس لئے کیا اور ہم ملک اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کا جھنڈا لہرا رہے ہیں۔ ریاست کو استعمال کرکے اپنے بدلے لینا بلوچ پشتون روایات کیخلاف ہے ،ہم نے اپنا فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے اور ہمیں فخر ہے کہ ہمارے بچوں نے ظالمانہ نظام کیخلاف جدوجہد میں جام شہادت نوش کیا ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں زہری قبیلہ وہ واحد قبیلہ ہے جس کی دشمنیاں دیگر قبائل سے نہیں براہمداغ بگٹی کو بھی جنرل ریٹائرڈ عبدالقادربلوچ نے میرا پیغام پہنچایا ہے رئیسانی ‘ رند اورمگسی قبیلے سے ہمارے قریبی روابط ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے متعلق وزیراعظم پاکستان نے فراخ دلی کا مظاہرہ کیا پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر ہمیں مکمل اعتماد میں لیا گیا ہے اور یہ خوش آئند عمل ہے کہ خضدار سے سڑکوں کو وسیع کرنے کیلئے بھی احکامات جاری کردیئے گئے ہیں ہم مغربی روٹ کو ترجیح دیتے ہیں مرکز اس میں کوئی تفریق نہیں کرے گا انہوں نے کہا کہ اس کوئی دو رائے نہیں کہ گوادرکے لوگوں کو تحفظات ہیں کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے بعد وہ اقلیت میں تبدیل ہو جائیں گے ہم نے اس ضمن میں وزیراعظم پاکستان میاں محمدنوازشریف سے بات کی ہے کہ اور انہوں نے ہمیں یقین دہانی کرائی کہ اس حوالے سے قانون سازی کی جائے گی اور بلوچستان کے لوگوں کی کسی صورت حق تلفی نہیں ہوگی۔

مزید :

کوئٹہ -