دیسی مرغی اوراستاد جی ۔۔۔!!

دیسی مرغی اوراستاد جی ۔۔۔!!

  

زمانہ بدل گیا ہے اور بدلہ بھی ایسے کہ’’ فیس بک ‘‘ کا دور آ گیا ہے ۔زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ لوگ اپنی اچھی باتوں کو چھپاتے تھے ‘ کہ کہیں نظر نہ لگ جائے ۔اب کیا ہے؟ کوئی اچھا کھانا کھا رہا ہو ،اچھا پہنا ہو یا کسی اچھے مقام پرہو تواسے فوری طور پر’’ فیس بک‘‘ پر اَپ لوڈ کر دیا جاتا ہے تاکہ دوست احباب جل بھن جائیں ۔عموما لوگ ایسی چیزوں کو دیکھ کر اچھی رائے کا اظہار کرتے ہیں مگر اس کے پیچھے ان کے حسد کی کسک کہیں نہ کہیں چھپی ہوتی ہے ۔اب محفلیں نہیں سجتیں ۔ ساری رونقیں فیس بک پر ہی ہوتی ہیں ۔ہم سوتے بھی ہیں اور جاگتے بھی ہیں تو فیس بک پر ۔!! ہماری ساری لڑائیاں ،محبتیںِ اب فیس بک پر ہوتی ہیں ۔اس نام نہاد ترقی کے باوجود کچھ اللہ کے بندے ایسے بھی ہیں جو آج بھی دوست احباب سے تعلق قائم رکھے ہوئے ہیں ۔ان کی بیٹھک میں آج بھی دوست جمع ہوتے ہیں ،گپ شپ ہوتی ہے اور کھانے کی محفل سجتی ہے ۔ہمارے ایسے ہی ایک دوست سعید مغل صاحب بھی ہیں،جو سونے کے اوزار فروخت کرنے کا کاروبار کرتے ہیں وہ دوسرے روائتی صنعتکاروں سے ذرا مختلف ہیں۔ ان کے چاہنے والے انہیں استاد جی کے نام سے پکارتے ہیں ۔نعت خوانی سے اتنی محبت ہے کہ ملک کے تمام بڑے نعت خوانوں سے ان کے ذاتی مراسم ہیں۔

استادجی کے ہاں ایسی محفلوں کا انعقاد ہوتا رہتا ہے جس میں ذکرِ رسولﷺ سے دل منور ہوتے ہیں ۔ان کے ہاں کئی اچھی روایتیں ابھی تک قائم ہیں۔ دوستوں کیلئے دسترخوان کھلا رکھتے ہیں ۔پچھلے دنوں ان کے ہاں شوربے والی دیسی مرغی کی پارٹی ہوئی ۔ ان کے کئی دوسرے صنعتکاردوست بھی اس تقریب میں مدعو تھے ۔ میرا خیال تھا کہ تاجر غیرمشروط طور پر میاں برادران کے حامی ہیں، لیکن سیاسی باتوں کا سلسلہ شروع ہوا تو تاجروں نے جی بھر کے وزیرخزانہ کے کارناموں پر دل کی ساری بھڑاس نکالی ۔ان کی باتوں سے یوں لگا جیسے ن لیگ کی ساری پالیسیاں تاجروں کے خلاف ہیں ، حالانکہ ہم نے ان کو پوری طرح باور کرانے کی کوشش کی کہ ایسا نہیں ہے۔ میاں صاحب پورے ملک کے لئے اچھا سوچتے ہیں اور صنعتکاروں اور تاجروں کے لئے تو وہ ہمیشہ نرم گوشہ رکھتے ہیں ۔خاں صاحب کی بات ہوئی تو پوری محفل کا کہنا تھا کہ کپتان غلطیاں خوب کرتے ہیں،بلکہ بار بار کرتے ہیں جس کا انہیں سیاسی طور پر بہت نقصان بھی پہنچا ہے تاہم وہ اس بات پر متفق تھے کہ خاں صاحب بددیانت نہیں !!

استاد جی نے شوربے والی مرغی کے ساتھ کئی سویٹ ڈشوں کا بھی اہتمام کر رکھا تھا ۔تب مجھے اندازہ ہوا کہ استاد جی کے دوستوں نے کھانے سے پہلے شوگر کی گولیاں کیوں کھائیں۔ استاد جی کی محفل ہو اور اس میں نعت نہ ہوں۔ نعت خواں سرور نے بہت محبت اور پیار سے شان رسالتِ ﷺ پرپھول نچھاور کئے اور محفل میں بیٹھے حاضرین کے دل عشق رسولﷺ سے تروتازہ ہو گئے۔نعت خوانی پر بات ہوئی تو ہمارے دوست اکرم وٹو نے اچھی بات کی کہ آج کل نعت خوانی کی طرزیں فلمی گانوں پر بنائی جا رہی ہیں ۔ محفل میں موجود ہر شخص اس بات پر متفق تھا کہ آقائے دو جہاںﷺکی نعت کائنات کا خوبصورت کلام ہوتا ہے ۔اس کے تقدس اور احترام کو ملحوظِ خاطر رکھنا چاہئے اور جہاں بھی فلمی طرز پر نعت پڑھی جائے اس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے ۔نعت خوانی کی محفل میں کرنسی نوٹ نچھاور کرنے کے عمل کو بھی ناپسندیدہ قرار دیا گیا ۔استاد جی نے اچھی بات کہی کہ نعت خوانوں کی بھی مدد ہونی چاہئے ان کی بھی فیملی ہوتی ہے ان کی بھی ضروریات ہوتی ہیں، لیکن ان کی مدد کرتے وقت باوقار انداز اختیار کیا جائے ۔

چھوٹی سی محفل میں کئی اچھی باتیں دیکھنے اور سننے کو ملیں ۔ فیس بک کے اس دور میں بھی اس طرح کی محفلیں یقیناًناپید ہیں ۔استاد جی سعید مغل صاحب کی شفقت ہے کہ انہوں نے ایسی رونقوں کا اہتمام جاری و ساری رکھا ہوا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ جب ہم سعید مغل صاحب کے گھر سے الوداع ہوتے ہوئے ان سے ہاتھ ملا رہے تھے تو ہمارے دل سے بے اختیار نکلا ۔۔۔ کہ دیسی مرغی کی دعوت بھی کمال تھی اور استادجی بھی لاجواب ہیں ۔

مزید :

کالم -