ناکام ہوئے عمران خان یااُن کی سیاست؟

ناکام ہوئے عمران خان یااُن کی سیاست؟
ناکام ہوئے عمران خان یااُن کی سیاست؟

  

گزشتہ ہفتے ’’بلدیاتی الیکشن‘‘ کا تیسرا اور آخری مرحلہ بھی مکمل ہو گیا۔ اس مرحلے کے تحت کراچی کے 6اور پنجاب کے 12 اضلاع میں بلدیاتی الیکشن ہوئے، جس میں ایک بار پھر ثابت ہوا کہ کراچی ایم کیو ایم اور پنجاب ن لیگ کا ہے۔ اس الیکشن میں بڑے بڑے بُرج اُلٹے۔ کراچی میں تحریک انصاف کے مقامی صدر علی زیدی ، جماعت اسلامی کے نعیم الرحمن اور پیپلز پارٹی کے مقامی صدر ہار گئے۔ کئی مقامات پر سابق اور موجودہ وزراء کے قریبی رشتے دار بھی شکست سے ہمکنار ہوئے۔ا س بلدیاتی الیکشن سے اس ٹرینڈ کا بھی پتہ چلا کہ عوامی سوچ کیا ہے اور وہ کس سیاسی جماعت کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ کئی سیاسی رہنماؤں کے دعوے ’’عوامی ٹرینڈ‘‘ کے سامنے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید، جنہیں تحریک انصاف کی حمایت حاصل تھی، راولپنڈی میں اپنے پینل کو کامیاب نہیں کرا سکے۔ اُن کے بھتیجے کے سوا باقی امیدوار ن لیگ کے امیدواروں کے ہاتھوں نہ صرف شکست سے دوچار ہوئے،بلکہ انتخابی نتائج کے بعد شیخ رشید کو میڈیا کے سامنے کھلے دل سے اپنی ہار تسلیم کرنی پڑی۔ عمران خان جنہوں نے لیاری کا دورہ کیا، جہاں تحریک انصاف کا ایک عدد جلسہ بھی ہوا، جس میں عمران خان کا خطاب شامل تھا، لیکن یہ خطاب بھی تحریک انصاف کو شکست سے نہ بچا سکا، جبکہ مسلم لیگ (ن) مؤثر انتخابی مہم نہ ہونے کے باوجود لیاری سے چار سیٹیں لینے میں کامیاب ہو گئی۔

تحریک انصاف کراچی ہی نہیں پنجاب میں بھی بُری طرح ہاری، جس سے مسلم لیگ (ن) کا یہ مؤقف درست ثابت ہوا کہ 2013ء کے جنرل الیکشن صاف اور شفاف تھے اور اس میں کوئی منظم یا غیر منظم ’’دھاندلی‘‘ نہیں ہوئی۔ تحریک انصاف کی اس تیسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج کے بعد عمران خان کسی چینل پر نظر نہیں آئے، جبکہ وہ جھٹ سے میڈیا پر آتے اور اپنی ہار پر دھاندلی کا شور مچاتے تھے۔اس بلدیاتی الیکشن نے ایک بات ضرور ثابت کی کہ کام ہو، نہ ہو۔ لوگ شخصیات کو پسند کرتے ہیں۔ جیسے کبھی بھٹو ازم کا بول بالا تھااور بھٹو کے نام کا سکّہ چلتا تھا۔اب کراچی میں الطاف حسین، جبکہ پنجاب میں نواز شریف کا سکّہ چلتا ہے۔ حالیہ بلدیاتی انتخابی نتائج سے یہ ثابت بھی ہو چکا ہے۔

تحریک انصاف کی سیاست کیا ختم ہو گئی ہے اور مقبولیت دم توڑ گئی ہے؟ اندازہ تو یہی ہوتا ہے کہ یہ قیاس غلط نہیں۔ جائزہ میں تو وجہ معلوم کرنی پڑے گی کہ اُن کے ساتھ ایسا کیوں ہو ا ہے؟ ایک ایسی سیاسی جماعت جسے دو، تین سال پہلے تک بڑی پذیرائی حاصل تھی اور جس کی جانب سے ’’تبدیلی‘‘ کے ’’سیاسی نعرے‘‘ کو بہت پسند کیا گیا تھا، یکسر یُوں دفن ہوتے اس لیے نظر آئی کہ لوگوں نے عمران کو بطور سیاست دان یا سیاسی لیڈر ’’میچور‘‘ ہوتے نہیں دیکھا، وہ سیاست میں جس قسم کی غلطیاں کرتے رہے، یا جس قسم کی غلطیاں اُن سے سرزد ہوتی رہیں ، اُن غلطیوں نے اُن کے لیے بڑی مشکلات پیدا کر دیں۔لوگوں کو باور ہونا شروع ہو گیا کہ وہ جس قسم کی سیاست کر رہے ہیں اور سیاست میں جس قسم کی لغو زبان کا استعمال اُن کا روزمرہ کا معمول بن گیا ہے وہ لوگوں کو پسند اور گوارہ نہیں۔ لوگ اب خاصی سوجھ بوجھ اور سمجھ رکھتے ہیں۔ سیاست میں عمران خان کی ناکامی کا آغاز اُسی وقت ہو گیا تھا جب وہ کنٹینر پر کھڑے ہو کر وزیراعظم نواز شریف کو للکار رہے تھے اور بے ہودہ زبان استعمال کر رہے تھے۔ وزیراعظم کو اوئے توئے کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ جبکہ میڈیا یہ سب کچھ ’’لائیو‘‘ قوم کو دکھاتا تھا۔ قوم بھی دیکھتی تھی کہ نیشنل سطح کا اُبھرتا ہوا قومی لیڈر کیا طرزِ عمل اختیار کئے ہوئے ہے، کون سی زبان استعمال کر رہا ہے۔ ایسی زبان، جو بازاری تو ہو سکتی ہے جسے کسی طرح بھی بہتر سوچ کی حامل قرار نہیں دیا جا سکتا۔اس لئے لوگ اُن سے متنفر ہونا شروع ہوگئے۔ لوگوں کی سوچ میں اُس وقت کافی تبدیلی آئی جب انہوں نے محسوس کیا کہ اس قسم کی ’’بازاری زبان‘‘ کے باوجو د میاں نواز شریف انہیں کوئی جواب نہیں دے رہے، بلکہ عمران خان کے ایسے رویے کے باوجود نہایت شائستگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اس طرزِ عمل سے جہاں نواز شریف کی عزت میں اضافہ ہوا وہاں لوگوں نے عمران خان کو اُن کے اپنے ہی رویے کی وجہ سے مسترد کر دیا۔

عمران خان ’’تبدیلی‘‘ کے جس منشور کے ساتھ چلے تھے وہ اب بکھرتا نظر آتا ہے۔ 2018ء میں ہونے والے جنرل الیکشن میں کیا ہو گا؟اُس کا منظر ابھی سے سامنے آنے لگا ہے۔ مسلم لیگ(ن) نے اپنی سمت درست کی۔ اپنے منشور پر عمل کیا۔ بجلی لے آئے اور اقتصادی راہداری کھول دی تو لوگ اپنے دل ن لیگ کے لئے ہمیشہ کھلے رکھیں گے۔ پیپلز پارٹی اس الیکشن میں بھی خال خال نظر آئی۔اُس کا یہ حال ہو گا خود انہوں نے بھی سوچا نہ ہو گا۔ وہ جس ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ وہ ٹوٹ پھوٹ کہیں تحریک انصاف میں بھی نہ نظر آنے لگے۔ اس کے امکانات کافی بڑھتے جا رہے ہیں۔ سیاست میں مسلم لیگ(ن)کے علاوہ دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی موجود رہنا چاہئے۔ یہ ہماری خواہش ہے۔ اس خواہش کی تکمیل تبھی ممکن ہے جب خود یہ دونوں سیاسی جماعتیں، یعنی تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی اپنے اپنے طرزِعمل پر نظرثانی کریں۔

مزید :

کالم -