اے پی ایس کے شہدا :ہر آنکھ اشکبار

اے پی ایس کے شہدا :ہر آنکھ اشکبار
اے پی ایس کے شہدا :ہر آنکھ اشکبار

  

ماؤں کو کیا خبر تھی کہ اپنے بیٹوں کے مسکراتے ہوئے خوبصورت چہرے، خوابوں سے روشن پیاری آنکھیں آخری بار نظرآ رہی ہیں پھر سکول جانے والے بچوں کو کبھی چھٹی نہ ملے گی۔ سکول کی وہ گھنٹی اب کبھی نہیں بجے گی۔ جو گھر کے راستے کی خبر دیتی ہے۔ گھر کا راستہ جو ماؤں کی آغوش اور باپ کی مضبوط بانہوں تک لے جاتا ہے۔ ان گھروں کے دروازوں پر ہجر میں روتی ہوئی آنکھیں ہمیشہ کا انتظار کا موسم دیکھیں گی۔ اس لیے تقدیر نے موت کی گھنٹی بجا دی۔ ماں اور بچے کے درمیان محبت کا پُر اسرار رشتہ ہوتا ہے جس کی گہرائی کو الفاظ کے پیرائے میں شاید نہ ڈھالا جا سکے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ مائیں اپنے بچوں کے وجود کے ساتھ بندھی ہوتی ہیں، مرنے والے بچوں کے ساتھ مر گئی ہوں گی۔16 دسمبر 2014ء کا سانحہ پشاور پاکستان کے لیے بہت بڑا سانحہ تھا۔ ایک سال قبل سات دہشت گردوں نے پشاور کے آرمی پبلک سکول کے معصوم طلباء پر حملہ کر کے دراصل پاکستان کے دل پر حملہ کیا تھا۔ پاکستان کے بیس کروڑ انسانوں ہی کے دل دہل گئے تھے۔ بلکہ پوری دنیا اس حملے سے سکتے اور سناٹے میں آگئی تھی۔ ظالموں نے اے پی ایس کے معصوم اور فرشتہ صفت بچوں کو گولیوں سے بھون ڈالا تھا۔ آج بھی اس خونی سانحہ کا تصور کرتے ہوئے روح کانپ اُٹھتی ہے۔ چند گھنٹوں میں 125 طلبا اور 16 کی تعداد میں سکول سٹاف کو شہید کر دیا گیا۔ دہشت گردوں کی گولیوں سے جو طلبا شدید گھائل ہوئے ان کی تعداد بھی کئی درجن تھی۔ سرحد پار افغانستان میں بیٹھی مولوی فضل اللہ کی قیادت میں ٹی ٹی پی نے اس خونریزی کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

ایک سو اکتالیس بے گناہ انسانوں کے قتل عام سے وطن عزیز میں کہرام مچ گیا۔ پشاور میں اے پی ایس کے ایک سو سے زائد معصوم بچوں نے اپنی ننھی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے قوم کے اتحاد اور یکجہتی میں ایک نیا رنگ بھر دیا۔ ان بچوں کی قربانیوں نے ان تین سو سے زائد سزا یافتہ دہشت گردوں کو بھی ٹھکانے لگا دیا۔ جنہیں تختہ دار پر کھینچنے کے لیے ہمارے حکمران نادیدہ خوف اور تذبذب کا شکار تھے۔ طاہرہ قاضی کی بہادری، جرأت و استقامت اور شہادت کو پاکستان کی پوری قوم کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔ انہوں نے طالب علم بچوں کی حفاظت کی خاطر اپنی جان تو قربان کر دی لیکن دہشت گردوں کے سامنے نہ سر جھکایا اور نہ ہی اپنے چھپائے گئے طالب علم بچوں کا پتہ بتایا۔ وہ اے پی ایس میں کافی سالوں سے خدمات انجام دے رہی تھیں اور اپنی نیک نیتی، نظم و ضبط کی پابندی اور ماہر تعلیم ہونے کے ناتے شاندار اور قابل فخر شہرت کی حامل تھیں۔شہید طاہرہ نے حملے کے دوران ایک بار بھی اپنے گھر فون نہ کیا بلکہ وہ مسلسل بچوں کے والدین کو فون کر کے آگاہی فراہم کرتی رہیں۔ وہ ان خونی اور خوف ناک لمحات میں سکول کے مختلف کمروں میں بچوں کو سنبھال کر سکول کی محفوظ جگہوں پر چھپاتی رہیں۔ جب ظالم اور خونخوار حملہ آور دہشت گردوں نے ان سے دھاڑ کر پوچھا کہ باقی بچوں کو کہاں چھپا کر رکھا ہے تو طاہرہ قاضی نے جذبے سے دہشت گردوں سے کہا میں ان بچوں کی ماں ہوں۔ میں ان کا پتہ نہیں بتاؤں گی۔ اس جواب پر وہ سیخ پا ہو گئے اور انہوں نے نہایت سفاکی سے اس بہادر خاتون کو شہید کر دیا۔ اللہ ان پر ہمیشہ رحمتوں اور نور کی بارش برساتا رہے۔

طاہرہ قاضی کی حکمت، تدبر، حوصلہ مندی اور جرأت نے پچاس سے زائد بچوں کی زندگیاں بچائی تھیں۔ قاتل دہشت کے سات معاونین تو دھر لیے گئے۔ انہیں گرفتار کرنے اور عدالتوں تک لانے میں ہماری سکیورٹی فورسز کو سخت محنت کرنا پڑی۔ وہ باقاعدہ مقدمات اور سماعت کے عمل سے گزار ے گئے۔ انہیں اپنی بات کہنے اور کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ چنانچہ ایک عدالتی پر اسس کے ذریعے ان میں سے ایک کفایت اللہ کو عمر قید جبکہ بقیہ چھ تاج محمد، عتیق الرحمن، مولوی عبد السلام، حضرت علی، مجیب الرحمن اور سبیل کو سزائے موت سنائی گئی۔اگست 2015ء کو اس سزا کا فیصلہ سامنے آیا تو تاج محمد اور عتیق الرحمن نے اس سزا کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کر دیا جواب تک چل رہا ہے۔ جبکہ 30 نومبر 2015ء کو پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے مولوی عبد السلام، حضرت علی، مجیب الرحمن اور سبیل کے بلیک وارنٹوں پر دستخط کر دیئے۔ پوری قوم نے اس سزا پر اطمینان کا اظہار کیا۔ صدر پاکستان جناب ممنون حسین نے وزیر اعظم پاکستان کی ایڈوائس پر نومبر 2015ء کے آخری ہفتے چاروں دہشت گردوں کے لیے رحم کی اپیل مسترد کر دی اور یہ چاروں مجرم 2 دسمبر کی صبح تختہ دار پر لٹکا دیئے گئے۔

دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں فوج اور حکومت ایک صفحہ پر ہیں اور عوام کی نہ صرف انہیں بھر پور حمایت حاصل ہے بلکہ عوام کی جانب سے جنرل راحیل شریف اور مسلح افواج کو خراج تحسین بھی پیش کیا جا رہا ہے۔ اب اس امر کی ضرورت ہے کہ اس عزم کے ساتھ جس کی تحت تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے قومی ایکشن پلان بنایا گیا تھا۔ اسی جذبے و حوصلہ سے بچے کھچے دہشت گردوں پر آخری وار کرنے کے لیے جامع لائحہ عمل مرتب کیا جائے اور پوری قوت سے اس پر عمل کیا جائے تا کہ دہشت گردی کی لعنت سے ہمیشہ کے لیے نجات مل جائے۔

مزید :

کالم -