اے پی ایس کے شہدا کی یاد میں تقریبات

اے پی ایس کے شہدا کی یاد میں تقریبات
اے پی ایس کے شہدا کی یاد میں تقریبات

  

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کی ہدایت پر آرمی پبلک سکول کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے حکومت پنجاب نے 10دسمبر سے16دسمبر تک ہفتہ شہداء منانے کا اعلان کیا ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں 12دسمبر کو خصوصی تقریب منعقد ہو گی، جس میں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کے علاوہ پاک فوج ،پولیس، شہید بچوں کے والدین ،زخمی ہونے والے بچے، عوامی نمائندے، وکلاء تنظیمیں، تاجر برادری اور صحافی شرکت کریں گے۔ ضلعی و ڈویژن کی سطح پر مختلف تقریبات منعقد ہوں گی۔۔۔ترجمان پنجاب حکومت سید زعیم حسین قادری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ جیت تک جاری رہے گی۔ حکومت ،پاک فوج اور عوام دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے یکسو و یکجا ہیں۔ کابینہ کمیٹی لاء اینڈ آرڈر نے صوبے بھر کی سول و پولیس انتظامیہ کے ساتھ مل کر کئی پروگرام تشکیل دیئے ہیں، جن میں سیمینارز کا انعقاد، واکس،مشاعرہ،تقریری و مضمون نویسی کے مقابلے اور تصویری نمائش شامل ہیں۔یہ تقریبات پورا ہفتہ جاری رہیں گی۔اِسی طرح صوبے کے تمام بڑے شہروں میں سٹی پریڈ کا انعقاد کیا جائے گا، جن میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد شرکت کریں گے۔ 16دسمبر کو منعقد ہونے والی تقاریب میں شہداء کے خاندانوں کو مدعو کیا جائے گا اور فاتحہ خوانی کی جائے گی۔

سید زعیم حسین قادری نے کہا کہ آرمی پبلک سکول کے ننھے پھولوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا۔دہشت گردی کی جنگ میں پاکستانی قوم نے 50ہزار سے زائد قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے، جن میں 5ہزار آرمی اور پولیس کے افسران و اہلکاران بھی شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔ دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے ناسور کو دفن کرکے دم لیں گے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک افواج کے افسروں و جوانوں، پولیس حکام و اہلکاروں اور زندگی کے ہر طبقے کے افراد نے لازوال قربانیاں دی ہیں، اور شہداء کی عظیم قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ دہشت گردوں اور ان کے معاونت کاروں کو عبرت کا نشان بنائیں گے اور پاکستان کا امن تباہ کرنے والوں کوان کے عبرتناک انجام تک پہنچائیں گے۔

نیشنل ایکشن پلان کے تحت وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت پنجاب نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جامع اور ٹھوس اقدامات کئے ہیں، جن میں مدارس کی جیو ٹیگنگ ،انٹیلی جنس کے مربوط نظام،سپیشل پروٹیکشن یونٹ،ڈالفن پولیس، سیف سٹی پراجیکٹ اور تعلیمی نصاب میں اصلاحات جیسے اقدامات شامل ہیں۔ حکومت پنجاب نے سب سے پہلے انسداد دہشت گردی فورس تشکیل دی۔ نفرت انگیز تقاریر،تحریری مواد،وال چاکنگ، اسلحہ کی نمائش، لاؤڈ سپیکر ایکٹ، کرایہ داری ایکٹ میں ترامیم کیں۔ ان قوانین کی خلاف ورزی پر48617مقدمات درج کئے اور 53151 افراد کو پابند سلاسل کیا۔اسی طرح فرقہ وارانہ اور نفرت انگیز مواد پر مشتمل 205کتابیں اور سی ڈیز، 262 میگزین، 17078پمفلٹس ضبط کئے۔دہشت گردوں کی مالی معاونت اور سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 73افراد کے خلاف مقدمات درج کر کے 93افراد کو گرفتار کیا۔

نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کو موثر بنانے کے لئے انفارمیشن ٹیکنالوجی پر مبنی نظام قائم کیا گیا ہے، جس کے ذریعے دہشت گردوں کے اندرون ملک اور بیرون ملک مواصلاتی رابطوں کا سراغ لگانا اور انہیں پکڑنا ممکن ہوگیا ہے، اس نظام کی بدولت دہشت گردوں کے ساتھ سہولت کاروں کی گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں۔ ملک اسحاق کی سربراہی میں کام کرنے والے گروہ اور داعش سے رابطوں کا سراغ بھی اس کے ذریعے لگایا گیا تھا اس طرح لاہور میں جدید ترین فرانزک لیبارٹری قائم کی گئی ہے،جو امریکہ برطانیہ دیگر یورپی ممالک کی لیبارٹریوں سے زیادہ جدید ہے۔ پنجاب سپیشل پولیس جس کی کارکردگی پر کبھی کسی جانب سے اطمینان کا اظہار نہیں کیا گیا،اسے بھی جدید خطوط پر ازسرنو تنظیم کے مرحلے سے گزارا گیا ہے۔ اینٹی ٹیررسٹ ڈیپارٹمنٹ میں فوج کے تربیت یافتہ ماہرین کو تعینات کیاگیا ہے۔ انٹیگریٹڈ کمانڈ، کنٹرول اینڈ کمیونیکیشن سنٹر کا قیام اور لاہور کے تمام تھانوں کو اس سے منسلک کرنے کا نتیجہ ہے کہ دہشت گردی کی بعض وارداتوں کا قبل از وقت سراغ لگا کر دہشت گردوں کو ناکام اور گرفتار کر لیا گیا۔ اس سے پورے لاہور شہر کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ ممکن ہوئی ہے۔ اس سے گلی، محلوں کو مانیٹر کرنا بھی ممکن ہوا ہے۔ یہ سسٹم پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی جلد ہی کام شروع کر دے گا۔ مسلح افواج اورپوری قوم ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پُرعزم ہے ۔ پاکستانی قوم آرمی پبلک سکول کے شہدا کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دے گی اور جس عظیم مقصد کے لئے قربانی دی گئی ہے، اسے ملی اتحاد سے حاصل کیا جائے گا۔

مزید :

کالم -