ایل ڈی اے کے سینکڑوں فلیٹوں اور دوکانوں پر قبضے ،غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری

ایل ڈی اے کے سینکڑوں فلیٹوں اور دوکانوں پر قبضے ،غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ ...

  

لاہور(اقبال بھٹی)لاہو ر ڈویلپمنٹ اتھارٹی اپنی اربوں روپے کی پراپرٹی واگزار کرانے میں ناکام ہو گئی ہے،سینکڑوں فلیٹس پر قبضہ مافیا کا راج جبکہ ایل ڈی اے کی150دکانوں پر بھی ایل ڈی اے کے ملازمین کی ملی بھگت سے پولیس ملازمین نے قبضہ کر رکھا ہے تفصیلات کے مطابق ایل ڈی اے کی ماڈل ٹاؤن ایکسٹینشن سکیم کے این بلاک بالمقابل فیصل ٹاؤن کوٹھے پنڈ پر سینکڑوں کی تعداد میں فلیٹس پر غیر قانونی طور پر لوگ قابض ہیں اس کے علاوہ کیو بلاک، ماڈل ٹاؤن ایکسٹیشن ،لیاقت آباد، دھلہ سٹاپ پر بھی سینکڑوں فلیٹس پر ناجائز قابضین کا قبضہ ہے اس کے علاوہ کیو بلاک میں ایل ڈی اے کی 150دکانوں پر ایل ڈی اے کے ملازمین کی ملی بھگت سے پولیس ملازمین نے قبضہ کر رکھا ہے جن میں اکثر دوکانیں پولیس ملازمین نے سستے ریٹ پر آگے سیل کر دی ہیں یہ فلیٹس اور دکانیں 1986میں بنائی گئی تھیں مگر ایل ڈی اے کے اہلکاروں کی لاپرواہی اور ملی بھگت سے قبضہ مافیا کے ہتھے چڑھ گئے۔یہ بھی انکشاف ہو ا ہے کہ فلیٹس میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ بھی جاری ہے ہر فلیٹ کے اوپر2،2منزلیں بنادی گئی ہیں جس کا نہ تو نقشہ منظور کروایا گیا اور نہ ہی اس کی ایل ڈی اے سے اجازت لی گئی اس حوالے سے جب ایل ڈی اے کے ڈائریکٹر سٹیٹ سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ناجائز تعمیرات کے حوالے سے شعبہ ٹاؤن پلاننگ ذمہ دار ہے جب کہ ناجائز قابضین کے حوالے سے لسٹ تیار کر لی گئی ہے اور بہت جلد آپریشن کر کے ان سے فلیٹس اور دکانیں خالی کرا لی جائیں گی ۔ناجائز تعمیرات کے حوالے سے جب شعبہ ٹاؤن پلاننگ میں بات کی گئی تو بتایا گیا کہ 1986میں ایل ڈی اے نے فلیٹس اور دکانیں بلڈنگ ڈائریکٹوریٹ سے بنوائی تھیں اور ان کے نقشے منظور نہیں ہوتے تھے فلیٹس کے مخصوص ڈیزائن تھے جو بلڈنگ ڈائریکٹر کو دیئے گئے تھے اس کے مطابق انہوں نے تیا ر کر دیئے جبکہ فلیٹس کے نقشے منظور نہیں ہوتے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -