تحریک رہائی ممتاز حسین قادری کا اجلاس،سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد

تحریک رہائی ممتاز حسین قادری کا اجلاس،سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد

  

لاہور(نمائندہ خصوصی)تحفظِ ناموس رسالت ﷺ کے ہیرو غازی ممتاز حسین قادری کی رہائی کیلئے تحریک رہائی ممتاز حسین قادری کا نہایت اہم اجلاس مفتی محمد خان قادری کی دعوت پر جامعہ اسلامیہ میں ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی کی صدارت میں ہوا جس میں ممتاز قادری کے حوالے سے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلے کوغیر قانونی اور غیر شرعی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ اجلاس میں مقتدر علماء ومشائخ کی بڑ ی تعداد شریک تھی جن میں پیر محمد افضل قادری ، مولانا خادم حسین رضوی ، پیر ظہیر الحسن شاہ ، قاری زوار بہادر ، مولانا صاحبزادہ رضائے مصطفےٰ نقشبندی، مولانا احمد علی قصوری، صدارتی خطاب میں ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے سپریم کورٹ میں داخل کیے گئے ریویو کے حوالے سے مطالبہ کیاکہ کتاب وسنت اور اُمت کے چودہ سو سالہ اجماع کے مطابق فیصلہ کیا جائے اورغازی ملک ممتا زحسین قادری کو فی الفور باعزت بری کیا جائے کیونکہ غازی ممتاز قادری کے اقدام کو شرعی تحفظ حاصل ہے۔ قائدین اجلاس نے اس عزم کااظہا ر کیا کہ اگر عدالت نے قرآن و سنت اور اجماع اُمت کو سپریم لاء سمجھتے ہوئے درست فیصلہ نہ کیاتو ہم راست اقدام کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ غازی ممتاز حسین قادری کے خلاف دہشت گردی کی دفعات ختم کی جائیں ۔ شریعت کے خلاف فیصلے پر لانگ مارچ ہوگا، قرآن وسنت سپریم لاء ہے وہی قابل عمل ہے اور وہی قابل قبول،عظمت رسالت ﷺکیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ پوری قوم ممتاز قادری کے ساتھ ہے۔ اس موقع پرپیر صوفی شفیق کیلانی، صاحبزادہ قاضی محمد محمود قادری اعوان شریف،سید خرم ریاض شاہ رضوی، مولانارشید رضوی، مفتی تصدق حسین، مولانا عبدالخالق نقشبندی ، مولانا محمد علی نقشبندی، مولانا سید علی ذوالقرنین ، قاری عاشق حسین، محمد اعظم علی نعیمی، قاری محمد اعظم قادری، مولانا خرم شہزاد قادری، مولانا ذوالفقار مصطفےٰ ہاشمی، مولانا نصیر احمد نورانی، مفتی محمد حسیب قادری ، ضیاء الحق نقشبندی سمیت کثیر تعداد میں علماء و مشائخ اہلسنت نے شرکت کی۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -