بھتیجوں کے ہاتھوں چچا کا قتل 7برس گزر گئے مدعی بیوہ انصاف کو ترس گئی

بھتیجوں کے ہاتھوں چچا کا قتل 7برس گزر گئے مدعی بیوہ انصاف کو ترس گئی

  

لاہور(کامران مغل )ٹب سے پانی لینے پر میری جیٹھانی سے معمولی تلخ کلامی ہوگئی ،اسی بات کو بنیاد بنا کر میرے بھتیجوں نے طیش میں آکر پہلے مجھے تشدد کا نشانہ بنایااورمیرے کپڑے پھاڑ ڈالے ،بعد میں مجھے بچانے کے لئے آگے بڑھنے والے اپنے چچا کو بھی مارپیٹ کا نشانہ بنایا جو بعدازاں 4ماہ ہسپتال میں زیرعلاج رہنے کے بعد دم توڑگیا ۔مقدمہ درج کروانے کے لئے پہلے توتھانے میں دھکے کھائے ، اب قاتلوں کو سزا دلوانے کے لئے عدالتوں میں خوار ہورہی ہوں ،بیوہ ہوں کوئی فریاد سننے والا نہیں ،گزشتہ 7سالوں سے انصاف کی منتظر ہوں ،ابھی تک عدالت سے انصاف نہیں ملا ہے ۔پاکستان کی جانب سے "ایک دن ایک عدالت "کے سلسلے میں کئے جانے والے سروے کے دوران کھوکھر روڈ مدینہ کالونی بادامی باغ کی رہائشی بیوہ ثمینہ بی بی نے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم وستم کی داستان سناتے ہوئے بتایا کہ میں نے استعمال کے لئے ٹب سے پانی لیا تو میری جیٹھانی نے کہا کہ پانی "جوٹھا"کردیا ہے اور اسی بات پر مجھ سے تلخ کلامی شروع کردی ،اسی دوران میرے بھتیجے عرفان اور شیروز بھی آگئے جنہوں نے میرے ساتھ جھگڑا شروع کردیا اور مجھے تشدد کا نشانہ بنانے لگے جبکہ انہوں نے میرے کپڑے بھی پھاڑ ڈالے ،اسی اثنا جب میرا شوہر جاوید بٹ مجھے بچانے کے لئے آگے بڑھا تو انہوں نے اسے بھی تشدد کا نشانہ بنایا جس کے باعث اس کی حالت غیر ہوگئی اور میں نے انہیں طبی امداد کے لئے میوہسپتال داخل کروادیا ،بعدازاں مجھے اورمیرے شوہر کو تشدد کا نشانہ بنانے پر مذکورہ افراد کے خلاف 27 جو لا ئی 2008ء ایک مقدمہ نمبر511/08بجرم 354/337-L1تھانہ بادامی باغ میں درج کروایا ۔میرے شوہر 23سے 26اگست2008ء میو ہسپتال میں زیرعلاج رہے اور اس کے بعد بھی میں ان کا چیک اپ کرواتی رہی لیکن ان کی طبیعت نہ سنبھل پائی اوروہ 9نومبر2008ء کو دم توڑ گئے جس کے بعد تھانہ بادامی باغ پولیس نے مذکورہ ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ نمبر354/34درج کرلیا ۔متاثرہ خاتون نے کہا کہ اس کے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے ،صرف پانی لینے پر اسے "جوٹھا "کرنے کا تنازع بنا کر مجھ سمیت میرے شوہر کو ملزمان نے تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے باعث وہ چند دن زندگی و موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد دم توڑ گئے ، میرے شوہر کو ملزمان نے ناحق قتل کیا ہے ،میری فریاد سننے والا کوئی نہیں ہے ،گزشتہ 7برسوں سے انصاف کے لئے عدالتوں میں تاریخیں بھگت رہی ہوں ، عدالت نہ جانے مقدمہ کا فیصلہ کب سنائے گی ۔مقدمہ مدعی کے وکلاء نے اس حوالے سے بتایا کہ مذکورہ کیس سیشن عدالت میں دائر ہوئے کافی عرصہ گزر گیا ہے ،اب یہ مقدمہ ایڈیشنل سیشن جج سہیل شفیق کی عدالت میں زیرسماعت ہے ،وکلاء نے مزید کہا کہ مقدمہ مدعی بیوہ کے ساتھ پہلے ہی بہت ظلم ہوا ہے جبکہ اتنے عرصہ سے مقدمہ سیشن عدالت میں زیرسماعت ہے جس کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہوسکا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مخالف فریق ہر تاریخ سماعت پر کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر اگلی تاریخ لے لیتے ہیں جس کے باعث مقدمہ التواء کا شکار چلا آرہا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اب یہ مقدمہ ایڈیشنل سیشن جج سہیل شفیق کی عدالت میں زیرسماعت ہے اوراس کی سماعت بھی باقاعدگی سے جاری ہے تاہم امید ہے کہ اس مقدمہ کا ٹرائل جلد مکمل کرکے اس کا فیصلہ سنا دیا جائے گا۔

مزید :

علاقائی -