تاپی گیس منصوبے کی تکمیل سے پاکستان میں توانائی بحران کے خاتمے میں مدد ملے گی

تاپی گیس منصوبے کی تکمیل سے پاکستان میں توانائی بحران کے خاتمے میں مدد ملے گی

  

لاہور( لیاقت کھرل) تاپی گیس منصوبے کی تکمیل کے بعد پاکستان میں جاری توانائی بحران کے خاتمے میں خاصی مدد ملے گی اورساڑھے تیرہ سو ایم ایم سی ایف ڈی گیس میسر آئے گی جو کہ ایل این جی اور پٹرولیم مصنوعات کی نسبت زیادہ سستے نرخوں پر مل سکے گی جبکہ انڈیا کو بھی اس منصوبے کے ذریعے 1300 ملین کیوبک گیس مل سکے گی۔ گیس ماہرین نے اس منصوبے کو چاروں ممالک ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور انڈیا کے لئے بہت اہمیت کا حامل اور قابل عمل منصوبہ قرار دیا ہے جس سے ان ممالک میں صنعتوں سمیت پاور سیکٹر اور گھریلو صارفین کو وافر گیس فراہم ہو سکے گی۔ تفصیلات کے مطابق تاپی گیس منصوبہ کی تعمیر پر 10 ارب ڈالر لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ترکمانستان ، افغانستان، پاکستان اور بھارت چاروں ممالک کے لئے 17سو سے 18سو کلو میٹر طویل گیس لائن بچھائی جانے کے لئے آج سے تعمیر کا کام شروع ہو رہا ہے۔ گیس کمپنی کے اعلیٰ حکام اور گیس ماہرین کے مطابق سال 2006ء میں اس اہم ترین منصوبے کا تخمینہ ایشیئن بینک سے لگوایا گیا تھا جس سے چاروں ممالک کو مجموعی طور پر 2700 سے 3200 ملین کیوبک فٹ گیس میسر آ سکے گی جس میں ابتدائی طور پر 2700 ملین کیوبک فٹ گیس مل سکے گی اور گیس کا یہ منصوبہ25 سال تک کارآمد اور قابل عمل ہو گا۔ اس میں سب سے زیادہ پاکستان کو 1200 سے 1350 ملین کیوبک فٹ اور دوسرے نمبر پر بھارت کو 1200 سے 1300 ایم ایم سی ڈی ایف ملے گی جبکہ افغانستان کو 400 سے 500 ایم ایم سی ڈی ایف ملے گی ، تاہم افغانستان میں نیٹ ورک بچھائے جانے پر گیس کی سپلائی شروع ہو گی ۔

مزید :

علاقائی -