عمران خان کا دورہ بھارت۔ کس لئے؟

عمران خان کا دورہ بھارت۔ کس لئے؟
عمران خان کا دورہ بھارت۔ کس لئے؟

  

تحریک انصاف کا سوشل میڈیا ونگ عمران خان کے دورہ بھارت کو کامیاب ثابت کرنے کے لئے ایک بھر پور مہم چلا رہا ہے۔ ہر سوال کا الگ الگ کلپ شیئر کیا جا رہا ہے۔ یہ ثابت کیا جا رہا ہے کہ عمران خان نے بھارت میں زبردست موقف پیش کیا ہے۔ عمومی طور پر دیکھا جائے تو عمران خان نے تمام سوالات کے اچھے جواب دئے۔ کوئی بھی ایسی بات نہیں کی۔ جس سے پاکستان کے موقف کی نفی ہو۔دہشت گردی پر بھی ٹھیک ہی موقف پیش کیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ انہوں نے اس دورہ کی ٹھیک تیاری کی تھی۔ ویسے بھی سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ان کے ساتھ تھے۔ اس لئے کچھ غلط ہونے کا امکان ویسے بھی کم تھا۔ عمران خان کی جماعت میں اس وقت دو سابق وزیر خارجہ ہیں۔ ایک شاہ محمود قریشی اور دوسرے خورشید محمود قصوری۔ عمران خان نے خورشید محمود قصوری کو ساتھ نہ لے جا کر پہلے ہی بھارتی حکومت کو خیر سگالی کا پیغام دے دیا تھا۔ ورنہ اگر عمران خان اپنے ساتھ خورشید قصوری کو لیجاتے تو نریندر مودی کے لئے مشکل ہو جاتی ۔

عمران خان نے بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی سے ملاقات کی۔ عمران خان نے اس ملاقات میں پاک بھارت کرکٹ سیریز کے لئے بات کی۔ سوال یہ ہے کہ عمران خان کو کیا اس ملاقات میں پاک بھارت کرکٹ سیریز کے لئے بات کرنی چاہئے تھی یا نہیں۔ اس سے قبل بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج پاکستان کے دورہ پر آئیں۔ تواس بات کی امید تھی کہ حکومت پاکستان ان کے ساتھ پاک بھارت کرکٹ سیریز کا معاملہ اٹھائے گی۔ لیکن حکومت پاکستان نے ایک حکمت عملی کے طور پر بھارتی وزیر خارجہ سے پاک بھارت کرکٹ سیریز کا معاملہ نہیں اٹھا یا۔ اس ضمن میں جب دفتر خارجہ کے ایک سنیئر عہدیدار سے پوچھا گیا تواس نے بتا یا کہ یہ بات بہت غور کے بعد طے کی گئی تھی کہ بھارتی وزیر خارجہ سے پاک بھارت کرکٹ سیریز کے بارے میں بات نہیں کی جائے گی۔ حالانکہ بھارتی دفتر خارجہ نے ایسے اشارے د یے تھے کہ اگر حکومت پاکستان بھارتی وزیر خارجہ سے پاک بھارت کرکٹ کی بحا لی کی بات کرے تو مثبت جواب ملے گا۔ لیکن حکومت پاکستان نے یہ بات نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس حوالہ سے یہ سوچ تھی کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اتنے بڑے مسائل حل طلب ہیں کہ انہیں چھوڑ کر کرکٹ کی بحالی کی بات پاکستان کی پالیسی نہیں ہو سکتی۔ ویسے بھی یہ بھارتی حکومت کی اپنی پالیسی ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کرکٹ کھیلنا چاہتا ہے کہ نہیں۔ اس ضمن میں کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے۔

تا ہم عمران خان نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے پاک بھارت کرکٹ سیریز کی بحالی کی بات کی ہے۔ میری رائے میں عمران خان اب پاکستان کے صف اول کے لیڈر ہیں۔ وہ بلا شبہ پاکستان کی وزارت عظمیٰ کے مستقبل کے مضبوط امیدوار ہیں۔ ان کی جماعت اب پاکستان کی ایک مضبوط سیاسی جماعت ہے۔ جس کو کسی بھی سطح پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے انہیں اب اپنا کرکٹ کا ماضی پیچھے چھوڑ کر ایک سنجیدہ سیاستدان کا کردار نبھا نا ہے۔ ان کا کرکٹ سے لگاؤ اپنی جگہ لیکن انہیں اب ایک سنجیدہ سیاستدان کا کردار نبھانا ہے۔ جس میں ذاتی پسند اتنی اہم نہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی اہم معاملات حل طلب ہیں۔ جو کرکٹ سے زیادہ اہم ہیں۔چند سال قبل جب بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ امریندر سنگھ پاکستان کے دورہ پر آئے تھے تو انہوں نے پاکستانی قیادت سے ملاقات کے دوران پاکستانی جیل میں قید بھارتیوں کی ایک فہرست دی اور ان کی رہائی کی درخواست کی۔ اور ان میں سے زیادہ رہا کروا کر لے گئے۔اس طرح عمران خان بھی بھارتی جیل میں بے گناہ پاکستانیوں کی رہائی کی بات کر سکتے تھے۔ لیکن افسوس انہوں نے کرکٹ کی بات کرنے کو اہمیت دی۔

کیا ہی اچھا ہو تا کہ جب عمران خان دہلی میں تھے تو وہ کشمیر کے کسی ایک حریت لیڈر سے بھی ملاقات کرتے۔ تا کہ بھارتی حکومت کو یہ پیغام مل جا تا کہ حریت رہنماؤں سے ملاقات کے حو الے سے پورے پاکستان کا موقف ایک ہے۔ لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ عمران خان کے دورہ بھارت کی تفصیلات بھی بھارتی حکومت نے ہی طے کی تھیں۔ اور اس میں ایسا کچھ شامل نہیں تھا۔ جو انہیں پریشان کر سکتا۔

عمران خان نے جس پروگرام میں شرکت کی۔ اس میں عمران خان سے لشکر طیبہ اور پاکستان کی جانب سے بھارت میں دہشت گردی کے حوالہ سے سوالات کئے گئے۔ عمومی طور پر عمران خا ن نے ٹھیک جواب دیے ۔ لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ کمزور جواب تھے۔ جب بھارت میں ان سے پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کا سوال کیا گیا تھا تو انہیں بھی بھارت کی جانب سے بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے کی بات کرنی چاہئے تھی۔ تا کہ وہ بھارتی عوام کو بتا سکتے کہ ان کی حکومت بھی پاکستان کے اندر ایک گندا کھیل کھیل رہی ہے۔ جس کو بھی بند کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح جب داؤ د ابراہیم کی حوالگی کی بات کی گئی تو عمران خان کو بھی را کی جانب سے لندن میں الطاف حسین کی فنڈنگ کی بات کرنی چاہئے تھی۔ لیکن شاید عمران خان بھارت میں بھارتی حکومت کو ناراض کرنے نہیں گئے تھے۔ وہ ابھی کرکٹر عمران خان سے باہر نہیں نکلے ہیں۔ لیکن عمران خان سے گزارش ہے کہ وہ بیرون ملک دوروں پر جانے سے پہلے دفتر خارجہ سے ایک بریفنگ ضرور لیا کریں ۔ تا کہ انہیں اس ملک کے ساتھ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور اہم نکات معلوم ہو سکیں۔ ورنہ سطحی تیاری کے ساتھ بیرونی دورے عمران خان کے امیج اور سیاست کے لئے بہتر ثابت نہیں ہو نگے۔ اس حوالے سے امید کی جا سکتی ہے کہ عمران خان نے بھی اس دورہ سے سیکھا ہو گا۔ اور آئندہ وہ مکمل تیاری سے بیرونی دورہ کریں گے۔ یہی ان کے اور پاکستان کے لئے بہتر ہے۔

مزید :

کالم -