کشمیریوں کو نظر انداز کرکے کشمیر مسئلے کا کوئی حل تلاش نہیں کیا جاسکتا

کشمیریوں کو نظر انداز کرکے کشمیر مسئلے کا کوئی حل تلاش نہیں کیا جاسکتا

  

سری نگر(کے پی آئی) کل جماعتی حریت کانفرنس گ کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا کہ پاکستان اوربھارت کشمیریوں کو نظر انداز کرکے کشمیر مسلے کا کوئی حل تلاش نہیں کر سکتے ۔ دونوں ممالک کو کشمیریوں کو مسلے کا بنیادی فریق تسلیم کرکے آگئے بڑھنا ہوگا انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت دو طرفہ کے درمیان مذاکرات کشمیر کی زمینی صورتحال بدلنے اورانسانی حقوق کی پامالیوں پر روک لگانے میں ناکام ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا پاکستان اوربھارت نے گذشتہ68سال سے کشمیر پر بات چیت کی ہے لیکن صرف یہ طے پایا گیا کہ اگلی بات چیت کب ہوگی۔دونوں ممالک ہمیشہ ان مذاکرات کے دوران کشمیر کی زمینی صورتحال بدلنے میں ناکام ہوگئے۔ علی گیلانی حیدرپورہ میں پارٹی صدر دفتر پرجموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں اوراقوام متحدہ کے عنوان پر سمینار سے خطاب کررہے تھے۔ گیلانی نے کہا ایک طرف مذاکراتی عمل جاری تھاتو دوسری طرف مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں کشمیری عوام کے عزم کو دبانے کیلئے بھارتی فورسز اور پولیس کی طرف سے بلا روک ٹوک انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گیلانی نے کہا کہ 1947سے بھارت اور پاکستان کے مابین150مرتبہ مذاکرات ہوچکے ہیں اور پھر بھی کشمیری مسلسل سزا بھگت رہے ہیں۔انہوں نے کہایہ مذاکراتی عمل تب تک ایک فضول مشق ہے جب تک ہندوپاک اقوام متحدہ کی قراردادیں عملانے پر متفق نہیں ہوجائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری مسئلہ کشمیر کے بنیادی فریق ہیں ۔گیلانی نے کہا1947سے 6لاکھ کشمیریوں کو شہید کیا جاچکا ہے،10000 افراد کو جبری طور لاپتہ کیا گیا ہے، 6000 خواتین کی عزت لوٹ لی گئی،25000 نوجوانوں کو پبلک سیفٹ ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا،38000 مکانات خاکستر کئے گئے، 38افراد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ،محمد مقبول بٹ اور افضل گورو کو پھانسی دی گئی۔حریت چیئرمین نے کہا ہمارے نوجوانوں اور آزادی پسند لیڈران کو سیاسی انتقام گیری کا نشانہ بنایا جارہا ہے، تحریک حریت کے غلام محمد بٹ پچھلے 5سال سے تہاڑ جیل میں مقید ہیں،قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے ان کے خلاف 125جھوٹے گواہ کھڑے کئے ہیں اورپانچ سال کے عرصے میں صرف25گواہوں کے بیانات ریکارڈ کئے گئے ہیں۔اس طرح بٹ کوسالہاسال تک مقید رہنا پڑے گا۔ کئی کشمیریوں کو ایک دہائی کے بعد رہا کیا گیا۔یہ کشمیرکے خلاف سیاسی انتقام گیری کی حد ہے ۔انہوں نے کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے سلسلے میں اقوام متحدہ پرمجرمانہ خاموشی اختیار کرنے کا الزام عائد کیا۔انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کا عالمی منشورمنظور کر کے اس کا اعلان عام کیا اوراسے اقوامِ متحدہ کی ابتدائی بڑی کامیابیوں میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے،تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اقوام متحدہ عالمی سطح پر مسلمانوں کے حقوق اور کشمیر یوں کے انسانی حقوق کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کشمیریوں پر ہورہے ظلم وستم پرخاموشی اختیار کئے ہوئے ہے جس سے اس ادارے کی مسلم دشمنی ثابت کرتی ہے۔حریت چیئرمین نے کہا اقوام متحدہ ان 18قراردادوں پر بھی خاموش ہے جنہیں اس ادارے نے پاس کیا ہے۔گیلانی کے مطابق بھارت اقوام متحدہ کی اس خاموشی سے فائدہ اٹھارکر کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو دبارہا ہے۔ انہوں نے کشمیری عوام پر زور دیا کہ وہ تحریک کو آگے بڑھانے میں عزم دکھائیں اور خصوصا نوجوان پس ہمت نہ ہوں کیونکہ آزادی کی تحریکوں میں اتار چڑھا آتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا بھارتی ایجنسیوں سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ایجنسیاں تحریک سے توجہ ہتانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ سید علی گیلانی نے کہامجھے یہ سن کر بہت دکھ ہوا کہ 30کشمیری لڑکیاں فوج کے سدبھاونا پروگرام کے تحت کل ہند سیر پر گئی ہیں۔تقریبا40000کشمیری نوجوانوں کو منشیات اور شراب کی لت پڑی ہے۔یہ سب پولیس اور انتظامیہ کی سرپرستی میں ہورہا ہے کیونکہ وہ زرخیز ذہنوں کو آلودہ کرنا چاہتے ہیں۔ہمیں جاگ جانے کی اشد ضرورت ہے اور اپنے نوجوانوں کو تباہی سے بچانا ہے کیونکہ انہیں اس آزادی کی تحریک کو آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے لوگوں سے تلقین کی کہ ہند نواز سیاسی جماعتوں سے خبرادار رہیں ۔گیلانی کے مطابق سبھی ہند نواز جماعتیں ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں اور وہ اقتدار کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتی ہیں۔اس موقع پر نیشنل فرنٹ چیئرمین نعیم احمد خان نے کہا اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کرنے کے باوجود بھارت کشمیر میں کشمیریوں کے جذبات دبانے کیلئے سبھی طریقے اختیار کررہا ہے۔ خان نے کہا کشمیریوں کو گرفتار کیا جاتا ہے،معذور اور بے دردی کے ساتھ مارا جاتا ہے اوراس وقت جب ہم انسانی حقوق کا عالمی دن منارہے ہیں ،سینئر مزاحمتی قائد سید علی گیلانی مسلسل خانہ نظربند ہیں۔یہ بھارت کی نام نہاد جمہوریت پرایک دھبہ ہے۔نعیم خان کے مطابق بھارت مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں ہٹ دھرمی اختیار کرکے جنوبی ایشیامیں امن کی راہ میں روڈے اٹکا رہا ہے۔ سمینار میں مولانا حریت کانفرنس گ کے غلام نبی سمجھی، ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے مولانا محمد عبداللہ طاری ،تحریک خواتین کشمیر کی زمردہ حبیب اور کالم نویس زڈ جی محمد نے بھی تقاریر کئے جبکہ نظامت کے فرائض غلام احمد گلزار نے انجام دئے۔جب کہ ڈاکٹر جمعان بن رقوش کونائف سائنس یونیورسٹی کا صدر مقرر کیا گیا۔

مزید :

عالمی منظر -