معمولی رنجشوں پر قتل اور سنگین جرائم اندرون شہرلاہور کے باسیوں کا مقدر بن گئے

معمولی رنجشوں پر قتل اور سنگین جرائم اندرون شہرلاہور کے باسیوں کا مقدر بن ...

  

لاہور(وقائع نگار) قمار بازی ،منشیات فروشی ،قحبہ خانے اوردیرینہ عداوتوں پر قتل اندرون شہر لاہور کا خاصہ بن گئے۔جرائم پیشہ افراد نے علاقہ کو جرائم کی آماجگاہ بنا دیا جس کی وجہ سے کئی پشتوں سے یہاں رہائش پذیر شریف شہری دوسرے علاقوں میں نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق اندرون شہر دہلی گیٹ ،بھاٹی گیٹ ،لوہاری گیٹ ،مستی گیٹ ،شیرانوالہ گیٹ ، موچی گیٹ ،سیمی شیرانوالہ گیٹ ،یکی گیٹ اور ان سے ملحقہ علاقوں پر مشتمل ہے ۔پاکستان سروے سے گفتگو کرتے ہوئے مقامی افراد نے بتایا کہ ملک کی زیادہ تر بیوروکریسی اوربا اثر افراداسی شہر میں رہتے ہیں حکومت کی طرف سے شہر کو خوبصورت بنانے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں لیکن اصل لاہور یعنی اندرون شہر کو جرائم پیشہ افراد کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ اندرون شہر میں روزانہ کی بنیاد پر قتل، ڈکیتی، سٹریٹ کرائمز، چوری کی وارداتیں ہو رہی ہے جبکہ منشیات فروشوں ،قمار بازوں اور قحبہ خانوں کی بھرمار ہو چکی ہے ۔ پولیس ان وارداتوں کو روکنے میں ناکام ہو چکی ہے۔لوہاری گیٹ میں مرداورخواتین سرعام منشیات بیچتے ہیں۔ یہاں گلیوں میں خواتین اور مرد کنڈے اور منشیات ہاتھ میں لے کر کھڑے ہوتے ہیں۔ دہلی گیٹ میں منشیات کے بڑے ڈیلر موجود ہیں منشیات کا زیادہ تر سامان پشاور سے آتا۔ ایک موریہ کے علاقے میں منشیات فروشوں کے ٹھکانے ہیں اور ڈیرے ہیں۔ یہاں گلیاں انتہائی تنگ اور باریک ہیں۔یہاں سرحدی برادری بڑی تعداد میں رہتی ہے جو علاقے میں خوف و ہراس قائم کئے رکھتے ہیں۔ یہ لوگ اکثر رات کو فائرنگ کرتے رہتے ہیں یہاں بدنام زمانہ منشیات فروشوں کے بسیرے ہیں ان لوگوں نے گھر اس طرح بنائے ہوئے ہیں کہ پولیس اندر داخل نہ ہوسکے۔ اگر پولیس وہاں کارروائی بھی کرے تو یہ لوگ بھاری ہتھیاروں سے مقابلہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان علاقوں میں قحبہ خانوں کے مرکز بھی بڑی تعداد میں چل رہے ہیں۔ اندرونی شہرکے دوسرے علاقوں میں بدمعاشی بہت زیادہ ہے۔یہاں سے اکثر لوگ حکومت کا حصہ ہوتے ہیں یا تعلق داریاں ہوتی ہیں۔ یہی رشتہ داریاں یا تعلق داریاں ظاہرکرکے یہ لوگ رعب جماتے ہیں اور پولیس کو بھی مرعوب کرتے ہیں۔ ان علاقوں میں قتلوں کے اشتہاری بڑی تعداد میں پناہ لئے ہوئے ہیں اورچھوٹی چھوٹی بات پر قتل کر دیتے ہیں ۔ ان علاقوں میں جوئے خانے بھی بہت زیادہ ہیں۔ گوالمنڈی ا ور ملحقہ علاقوں میں پولیس کی مبینہ سرپرستی کی وجہ سے غیر قانونی اسلحہ کی بھرمار ہے۔یہاں لوگ سرعام اسلحہ لے کر چلتے ہیں۔ ریلوے اسٹیشن اور داتا دربار کے علاقوں میں غیر اخلاقی حرکات زیادہ ہوتی ہیں۔ یہاں اکثر ہوٹل، گیسٹ ہاؤسز جسم فروشی کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔ یہ ہوٹل زیادہ ترپولیس افسران، ٹی ایم اوز اور سیاستدانوں کے ہیں جہاں پر پولیس کارروائی نہیں کرسکتی اور ہوٹل مالکان تحفظ کی ضمانت بھی دیتے ہیں۔ لاری اڈا، ریلوے اسٹیشن کے علاقوں میں نشئی اور دوسرے جرائم پیشہ عناصر پھرتے رہتے ہیں۔ دوسری جانب پولیس حکام کی جانب سے بھی ان علاقوں میں متعدد تھانے بنائے گئے ہیں تاکہ ان جرائم پیشہ افراد کو کنٹرول کیا جائے لیکن ان تھانوں قیام کا مقصد تب بے معنی ہو جاتا ہے جب پولیس اہلکار خود ان سماج دشمنوں کے ساتھ ملی بھگت کر لیتے ہیں ۔

مزید :

علاقائی -