پاکستان تمام ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات کا خواہاں ہے ،خطے میں امن کیلئے مسائل کو مذاکرات سے حل کرنا ہو گا،نواز شریف

پاکستان تمام ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات کا خواہاں ہے ،خطے میں امن کیلئے ...

  

اشک آباد(اے این این)وزیراعظم نوازشریف نے خطے کی اجتماعی خوشحالی کوہی حقیقی خوشحالی قراردیتے ہوئے کہاہے کہ توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے، پاکستان تمام ممالک کے ساتھ پر امن اور مضبوط تعلقات کاخواہاں اورعلاقائی تنازعات کابات چیت سے حل چاہتا ہے، تاپی گیس پائپ لائن منصوبے سے علاقائی تعاون کا نیا باب کھلے گا ۔ ترکمانستان کی مستقل غیرجانبداری کوبیس سال مکمل ہونے پر منعقدہونے والی عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف نے خطے کے تمام ممالک کے ساتھ پاکستان کے مضبوط تعلقات کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان خطے میں امن،ترقی اور خوشحالی کا خواہش مند ہے تمام علاقائی تنازعات کا پر امن بات چیت کے ذریعے حل چاہتا ہے ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اجتماعی خوشحالی ہی اصل خوشحالی ہے۔ترکمانستان کے ساتھ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جنھوں نے سب سے پہلے ترکمانستان کو ایک آزاد اور خود مختار ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان ترکمانستان ، افغانستان ، پاکستان ، بھارت گیس پائپ لائن منصوبے کو بہت اہمیت دیتا ہے ,اس منصوبے سے نہ صرف خطے میں تیز تر ترقی کا عمل یقینی ہو گا بلکہ علاقائی تعاون کا نیا باب کھلے گا ۔ علاقائی رابطے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ وہ حکومت سنبھالنے کے بعد سے تمام ممالک سے امن و تعاون کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں ہم نے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی بنیاد رکھ دی ہے جو پورے خطے کے لئے سود مند ہوگا اور علاقائی ممالک کو جوڑنے اور سہولیات کی فراہمی کا باعث بنے گا۔انھوں نے کہا کہ پاکستان تاپی گیس منصوبے،کاسا 1000 کے ساتھ ساتھ توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے دیگر علاقائی منصوبوں کی بھی ضرورت ہے جو خطے کے ممالک کو افغانستان سے منسلک کرنے کاباعث بنیں ۔ انہوں نے کہا کہ ترکمانستان کے وزیراعظم غیرجانبداری کیاقدامات پرمبارک بادکے مستحق ہیں ۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ پرامن و مستحکم افغانستان خطے کے مفاد میں ہے ۔ ازبک صدر اسلام کریموف نے اپنے خطاب میں دہشت گردی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مشترکہ جدوجہد پر زرو دیا۔ دریں اثناء وزیراعظم نوازشریف کی دوروزہ دورے پراشک آباد آمد پر ان کا ایئرپورٹ پر ترکمانستان کے نائب وزیراعظم نے استقبال کیا ۔بعدازاں کانفرنس کے مقام پر پہنچنے پر ترکمانستان کے صدر قربان علی بردی محمدوو نے وزیراعظم نواز شریف کا استقبال کیا۔ اپنے قیام کے دوران وہ ترک صدر سے بھی ملاقات کریں گے ۔کانفرنس میں خلیجی اور علاقائی ملکوں کے متعدد سربراہان حکومت اور مملکت نے بھی کانفرنس میں شرکت کی۔ وزیر اعظم نواز شریف ترکمانستان کے صدر کی دعوت پر معاون خصوصی طارق فاطمی اوروزیرمملکت پٹرولیم جام کمال کے ہمراہ 2 روزہ دورے پر ترکمانستان میں موجود ہیں جہاں وہ ترکمانستان، افغانستان پاکستان اور بھارت گیس پائپ لائن منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔دریں اثناء وزیراعظم محمد نواز شریف اور ترک صدر کے درمیان اشک آباد میں ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی گئی جبکہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں خطے میں پائیدار امن کے قیام کیلئے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق۔ دونوں رہنماؤں نے شام کی صورتحال‘ افغانستان میں قیام امن سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف نے پاکستان پولیس کی استعداد کار بڑھانے پر ترک صدر کا شکریہ اداکیا اور کہا کہ ترکی پاکستان کا دیرینہ دوست ہے۔ دونوں برادر ملکوں کے تعلقات تاریخی نوعیت کے ہیں انہوں نے ترک صدر کو آگاہ کیا کہ آپریشن ضرب عضب کے باعث ملک میں دہشت گردی کا خاتمہ ہوچکا ہے اور آپریشن ضرب عضب منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب میں حکومت اور اداروں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار اداکیا ترک صدر کا کہنا تھاکہ ترک عوام پاکستانی بھائیوں کیلئے محبت کا جذبہ رکھتا ہے۔ باہمی تعاون سے ترقی کا نیا باب کھلے گا۔

مزید :

صفحہ اول -