رینجرز پر الزامات برداشت نہیں ،چودھری نثار،دھمکیاں نہ دی جائیں ،پیپلز پارٹی

رینجرز پر الزامات برداشت نہیں ،چودھری نثار،دھمکیاں نہ دی جائیں ،پیپلز پارٹی

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ گزشتہ 2ہفتوں سے کراچی آپریشن کا رخ موڑنے اور سیاسی بیانات سے رینجرز کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، کراچی کی عوام ہی نہیں پورا ملک ہی آپریشن کے حق میں ہے ،صوبائی حکومت کو رینجرز اختیارات پر تحفظات ہیں تو آگاہ کرنا چاہیے تھا ، کراچی آپریشن کو متنازعہ بنانے سے دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی ہو گی ، رینجرز پر الزامات ناقابل برداشت ہیں ، کراچی آپریشن میں ہم بہت آگے نکل گئے ہیں اب واپسی ممکن نہیں ،رینجرز جانیں دے رہے ہیں آپ ٹانگیں کھینچ رہے ہیں، سندھ حکومت نے روش نہ بدلی تو وفاقی حکومت کے پاس کئی آپشنز ہیں ، صوبائی حکومت کی یہی روش رہی تو وزیراعظم کو چار سے پانچ آپشنز دوں گا ، وزیراعظم کے بیرون ملک دورہ کی واپسی کا انتظار کرینگے ، حتمی فیصلہ وزیراعظم کرینگے ، وفاقی حکومت کراچی کے عوام کو دہشت گردوں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑے گی ، رینجرز کی ڈھائی سال کی محنت ضائع نہیں ہونے دینگے ،میرا پیغا م ہے کہ ہوش کے ناخن لیں و رنہ میں ڈاکٹر عاصم کی ویڈیو اور نیب و ایف آئی اے کے پاس ان کے خلاف موجود ثبوت اور تمام تر ریکارڈ قوم کے سامنے لاؤں گا، ہم سے بات ہوتی ہے ،کور ہیڈکوارٹرز سے یا ایجنسی سے صرف ایک ہی ڈیمانڈ کی جاتی ہے ، ایک شخص کے پیچھے اتنے بڑے آپریشن کو متنازعہ بنانا شروع کردیاگیا ، وضاحت ہونی چاہئے ،وہ شخص وہ ہے جس کے خلاف کیسز ہیں ، نہیں جانتا وہ اہم ہے،ایک شخص کو بچانے کے لئے کراچی آپریشن متنازع نہ بنایا جائے ، جے آئی ٹی سندھ حکومت نے تشکیل دی تھی ، اسی کے ثبوت صوبائی حکومت قوم کے سامنے لے آئے ۔ وہ ہفتہ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے اڑھائی سال قبل کراچی میں آپریشن کا فیصلہ کیا کراچی میں ہونے والا رد عمل پورے پاکستان پر ہوتا ہے ماضی میں ایم کیو ایم نے کراچی کو فوج کے حوالے کرنے کامطالبہ کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ پاک فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہے کراچی آپریشن کے کپتان وزیر اعلیٰ سندھ ہی ہیں، کراچی میں رینجر ز کی صوبائی حکومت کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا تمام کمزوریوں کی نشاندہی بھی کرتے رہے وزیر داخلہ نے کہا کہ کراچی میں جون 2013اور آج کے حالات میں واضح فرق ہے کراچی میں امن کی بحالی کے لیے رینجرز نے موثر کردار ادا کیا ۔ انہوں نے کہا کے پچھلے 2ہفتوں سے کراچی آپریشن کا رخ موڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے سیاسی بیانات سے رینجرز کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، کراچی کی عوام ہی نہیں پورا ملک ہی آپریشن کے حق میں ہے ۔صوبائی حکومت کو رینجرز اختیارات پر تحفظات ہے تو آگاہ کرنا چاہیے تھا ،اب کراچی آپریشن کو متنازعہ بنانے سے دہشتگردوں کی حوصلہ افزائی ہو گی ،وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ نیب وفاقی حکومت کے تابع نہیں موجودہ چیئرمین کا تقرر حکومت اور اپوزیشن نے کیا ماضی میں نیب کو ذاتی پسند و نا پسند کی بنیاد پر چلایا گیا ،اب ایسا نہیں موجودہ نیب میں کوئی فرد بھی مسلم لیگ ن کا نامزد کردہ نہیں، کراچی میں ایف ائی اے قانون اور آپریشن کے مطابق کام کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت سے درخواست کرتے ہیں کے کراچی آپریشن کو متنازعہ نہ بنایا جایا رینجرز کو متنازعہ نہ بنایا جائے اور نہ ہی اس کی تضحیک کی جائے۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ کراچی آپریشن کے دوررس نتائج ہوں گے،ان کو ایک شخص کے مفادات کی نظر نہ کیا جائے،سیاسی طورپربھر تی شخص کراچی آپریشن اور رینجرز کو متنازعہ بنارہاہے،رینجرز کراچی میں انسداد دہشتگر دی ایکٹ کے تحت تعینات ہے ،کراچی آپریشن کے سب سے بڑے فریق کراچی کے عوام ہیں،ایم کیو ایم تحفطات کے باوجود کراچی آپریشن جاری رکھنے کا کہہ رہی ہے،لیکن سندھ حکومت خود کراچی آپریشن کے خلاف جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی بیانات دے کر رینجرز کے افسروں اور جوانوں کا مذاق اڑایا جارہاہے، رینجرز کو منفی یلغار کے سامنے بے یارو مددگار نہیں چھوڑیں گے،اگر الزامات لگانے کا سلسلہ جاری رہا تو نیب،ایف آئی اے، رینجرز اورجے آئی ٹی کی ڈاکٹر عاصم بارے رپورٹس سامنے لاؤں گا،کراچی میں امن کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے والے رینجرز پر تمام الزامات ناقابل قبول ہیں،قوم کے سامنے ڈاکٹر عاصم کا ویڈیو بیان رکھوں گا تاکہ پتا چل جائے کہ کراچی آپریشن کے حق میں کون ہے اور کون آپریشن کی مخالفت کررہا ہے۔وزیرداخلہ نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کا بھی یہی موقف رہاہے کہ کراچی آپریشن کو جاری رہنا چاہیے،انہوں نے ایک میٹنگ کے آخر میں میں کہا تھا کہ آپریشن جاری رہنا چاہیے،اب الجھاؤ کی بجائے کراچی آپریشن اور رینجرز کے معاملے کو افہام وتفہیم سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔کراچی میں امن کے لئے رینجرز کے جوانوں نے جان کے نذرانے دےئے،کراچی میں آپریشن میں بہت آگے بڑھ رہے ہیں،اب واپسی کسی صورت نہیں ہوگی،کراچی آپریشن ہر حال میں جاری رہے گا۔وزیراعظم کی وطن واپسی پر ان کے سامنے تجاویز رکھوں گا،آخری فیصلہ وزیراعظم ہی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں10سال مسلم لیگ ن ہی نیب کا نشانہ بنی رہی ،ہماری حکومت میں نیب آزاد ہے،کرپشن رینجرز کے دائرہ کار میں میں نہیں آتا،جے آئی ٹی صوبائی حکومت کی طرف سے تشکیل دی گئی عدالتوں کے فصیلے کریں گے،میں اب بھی پرامید ہوں کہ رینجرز کو اختیارات دینے کا معاملہ حل ہوجائیگا،کراچی آپریشن پر تحفظات دورکرنے کے لئے تیار ہیں۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ سندھ حکومت غلط فہمی دور کرے کہ وفاق کے پاس کوئی آئینی آپشن نہیں، کراچی میں خوف کی فضا دوبارہ نہیں آنے دیں گے،سندھ حکومت نے روش نہ بدلی تو بہت سے آپشن ہیں،رینجرز بولنے پر آئی تو پوری قوم ساتھ آئے گی، صوبائی حکومت کی یہی روش رہی تو4سے 5آپشن دوں گا،میرا پیغام ہے کہ ہوش کے ناخن لیں،صوبائی حکومت میڈیا کے ذریعے رینجرز اوروفاق پر پریشر ڈال رہی ہے،رینجرز صرف پرفارم کرتی ہے،بیان بازی نہیں،ایک نان ایشو کو ایشوبنایا گیا،معاملہ وزیراعلٰی سندھ کے دستخط سے حل ہوجاتا۔انہوں نے کہا کہ رینجرز نے پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ مل کر بہترین کام کیا،رینجرزجان ہتھیلی پر رکھ کر کراچی آپریشن کررہی ہے،سندھ حکومت انکی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں،جس طرح ایک نارمل انتظامی معاملے کو بلاجواز اچھالا گیا وہ انتہائی تشویشنا ک ہے،کراچی آپریشن کو مفادات کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے

حیدر آباد،اسلام آباد،کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) قائد حزب اختلاف خورشید شاہ ،سابق گورنر لطیف کھوسہ اور مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے چودھری نثار ہمیں ڈرائیں نہ جو کرنا ہے کر گزریں، ان کے پاس آپشن موجود ہیں تووہ استعمال کیو ں نہیں کررہے ۔انہوں نے کہاکہ رینجرز اختیارات سے متعلق بے چینی پیدا کرنے کی ضرورت نہیں‘ وزیر داخلہ چوہدری نثار کو بیانات دیتے ہوئے احتیاط کرنا چاہئے‘ اختیارات کا معاملہ آئینی ہے اس لئے اسمبلی میں گئے ‘امید ہے کہ پیر تک رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو جائے گا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت بے اعتمادی رکھتی ہے اور نہ ہی آپریشن کی راہ میں رکاٹ ڈالنا چاہتی ہے بلکہ سندھ حکومت کی خواہش ہے کہ کراچی آپریشن جاری رہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی تمام جماعتیں رینجرز کی حامی ہے اور یہ یاد رکھنا چاہئے کہ رینجرز کو سند حکومت نے ہی کراچی میں آپریشن کیلئے بلایا تھا تاہم ان کے اختیارات میں توسیع کا معاملہ آئینی ہے اس لئے اسمبلی میں جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی آپریشن کامیابی کے نتائج تک جاری رہے گا اور رینجرز آئینی طور پر آئی ہے، پولیس کے ساتھ آئینی طورپر کام کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ امید ہے پیر تک رینجرز اختیارات میں توسیع کا معاملہ حل ہو جائے گا اور اب کراچی سے اندرون سندھ بھاگنے والے ملزموں کو بھی پکڑا جائے گا۔پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ چودھری نثار نے چھوٹے صوبے کو دھمکی دی اب انہوں نے اپنا نقطہ نظر واضح کر دیاہے پیپلز پارٹی بھی اپنا نقطہ نظر دے گی۔ انہوں نے کہا کہ رینجرز کو اختیارات صوبائی حکومت نے دیئے، اب ملک میں وفاق کی بادشاہت نہیں،اگر لڑنا ہے تو چودھری نثار میدان میں آجائیں۔کون کہہ رہا ہے کہ اختیارات نہ دو لیکن اس کیلئے طریقہ کار ہوتا ہے پتہ نہیں چودھری نثار کو کیوں اتنی جلدی ہے۔ڈپٹی سپیکر سندھ اسمبلی شہلا رضا نے کہا ہے کہ وزیر داخلہ چودھری نثار ڈاکٹر عاصم کی ویڈیو منظر عام پر لائیں سامنا کریں گے۔ رینجرز کے اختیارات پر اسمبلی میں بحث ہوگی۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد وفاق گورنر راج لگا کر دکھائے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ اسمبلی کے منتخب کردہ ہیں۔ ممبر کو جواب دینا پڑتا ہے۔ رینجرز کے اختیارات کو کم نہیں کرنا چاہتے۔ پیپلزپارٹی دہشت گردی کے خلاف آپریشن کی حامی ہے۔ دوسری طرف قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ اور سابق گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ ہمیں دھمکیاں نہ دی جائیں. پیپلز پارٹی عوام کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتی۔ سکھر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں کہا کہ ہمارے پاس بھی ویڈیوز اور معافی نامے ہیں۔ ہمیں دھمکیاں نہ دی جائیں اس سے ملک میں انتشار پھیلے گا۔ چودھری نثار کی پریس کانفرنس ان کے شایا ن شان نہیں۔انہوں نے کہا کہ میاں صاحب آپ کے لوگ ایک بار پھر سیاست کو 90کی دہائی میں لے جارہے ہیں۔چودھری نثار نے سندھ کو نہیں بلکہ وفاق کو دھمکی دی لیکن وہ سن لیں کہ ہم نے بھی چوڑیاں نہیں پہنی ہوئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سند پاکستان کا پلر ہے اگر خدانخواستہ اس پلر کو ہلانے کی کوشش کی گئی تو ملک کو شدید نقصان پہنے گا۔ چودھری نثار ہوش کے ناخن لیں۔

مزید :

صفحہ اول -