سراج الحق کامقدمہ۔۔۔(1)

سراج الحق کامقدمہ۔۔۔(1)
 سراج الحق کامقدمہ۔۔۔(1)

  

یہ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق سے گھنٹوں طویل ملاقات تھی جس کا اہتمام جماعت نے نہیں، بلکہ ہمارے سیاسی مفکر اور دانشور دوست اکرم چودھری نے کیا تھا، اس دوران دو نمازیں بھی باجماعت ادا کی گئیں، چائے بھی پی گئی اور رات کا کھانا بھی کھایا گیا، جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ، راشد نسیم، محمد اصغرجہاں خاموش شریک محفل تھے وہاں کچھ سابق فوجی عہدے دار جو اب ٹیلی ویژن سکرینوں پر تجزیہ نگار کے طور پر موجود ہوتے ہیں ، کچھ کالم نگار اور کچھ کارکن صحافی بھی موجود تھے۔ اکرم چودھری صاحب نے مدعو کرتے ہوئے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ یہ کوئی پی آر ایکسر سائز نہیں ہے اور مجھے تو ویسے بھی بات کرتے ہوئے جذباتی ہوجانے کی عادت ہے۔ یہ ایک کھلی ڈلی گفتگو تھی اور جس طرح سراج الحق نے قرار دیا کہ یہ اسلامی نظریاتی جماعت قوم کا اثاثہ اور رئیل ڈیموکریٹک پارٹی ہے ورنہ پاک افغان سرحد پر رہنے والا ایک عام دیہاتی نوجوان اس کا سربراہ نہ ہوتا۔ جماعت اسلامی سید ابوالاعلیٰ مودودی، میاں طفیل محمد، قاضی حسین احمد اور سید منور حسن کے بعد انہیں ملی ہے اور انہوں نے اس امانت کو آگے پہنچانا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس ملاقات کی باتیں بھی ایک امانت ہیں جو قوم تک پہنچانی ضروری ہیں۔ بولنا ہم سب نے تھا، مگر پہلے سراج الحق بولے اور شکریہ ادا کیا کہ کوئی ان کے بارے میں سوچتا ہے۔ مجھے خوشی ہوئی کہ وہ جماعت اسلامی کے آمروں کی جیب کی گھڑی اور ہاتھ کی چھڑی ہونے کے تاثر سے جان چھڑوانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ جس انقلاب پر یقین رکھتے ہیں وہ ڈنڈے اور بندوق سے نہیں بلکہ رائے عامہ ہموار کر کے ہی آ سکتا ہے ۔وہ عمل سے ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ جماعت اسلامی حقیقی معنوں میں ایک جمہوری جماعت ہے۔ انہوں نے کہا ’ جب ایک مولوی صاحب سب سے بڑا عالم ہونے کے زعم میں ڈنڈے سے مسجد کی امامت نہیں سنبھال سکتے جو کہ امامت صغریٰ ہے تو پھر ریاست کی سربراہی جو کہ امامتِ کبریٰ ہے، اسے کیسے زبردستی لیا جا سکتا ہے، ایسا کرنا بالکل ناجائز ہے، مسلمانوں کا جو بھی امیر بنے گا وہ ان کے مشورے اور رائے سے ہی بنے گا‘، انہوں نے دعویٰ کیا کہ کئی مواقع ایسے آئے جب انہوں نے مسلم لیگ(ن) اور پی ٹی آئی سے نتھی ہوئے بغیر کردارادا کیا۔ انہوں نے دھرنوں کا ذکر کیا اور کہا کہ آپس کی لڑائیوں کی وجہ سے ہمیشہ مارشل لاء آئے، انہوں نے دھرنے کے دوران آپس کی لڑائی کو ختم کرنے کے لئے بھرپور کوشش کی کہ جب جھگڑا ہو گا تو پھر ٹریفک پولیس بھی آئے گی اور چالان بھی ہوگا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ جماعت اسلامی، پاکستان سے زیادہ پاکستان کے باہر کے مسائل پر توجہ دیتی رہی ہے، انہوں نے افغانستان کا نام بھی لیا اور کہا کہ اب وہ اپنے گلی کوچوں پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں، وہ مفت تعلیم، صحت اور شیلٹر کی بات کررہے ہیں۔ جماعت اسلامی کی نوجوانوں کی تنظیم شباب ملی کا نام بھی مشکل تھا، وہ نوجوانوں کوجماعت اسلامی یوتھ ونگ کے نام سے منظم کررہے ہیں، جماعت اسلامی کے امیر کے ہر شعبے کے ماہرین مشیر مقرر کئے جا رہے ہیں، انہوں نے مینار پاکستان پر تین لاکھ افراد کا جلسہ کیا، ہندووں، سکھوں اور مسیحیوں کو سٹیج پر بٹھایا تاکہ اپنے پاکستان کے تصور کو واضح کر سکیں، وہ 23اسلامی ملکوں کی اسلامی تحریکوں سے بھی رابطے میں ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے بندوق کی بجائے جمہوری رستہ اختیار کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بلدیاتی انتخابات خارجہ پالیسی پر نہیں لڑے جاتے لہٰذا انہوں نے ہر جگہ صوبائی تنظیموں کو اتحاد اور ایڈجسٹمنٹ کا اختیار دیا۔ سندھ اور پنجاب کا نتیجہ اچھا نہیں ہے، مگر خیبرپختونخوا کے چار اضلاع میں مکمل اور سترہ تحصیلوں میں جماعت اسلامی کی مقامی حکومتیں قائم ہوئی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جماعت اسلامی واحد جماعت ہے، جس میں کرپٹ لوگ نہیں ہیں مگر اسی وقت یاددہانی ہو گئی کہ ان کے ایک رکن اسمبلی کو جعلی ڈگری پرنااہل کیا گیا ہے۔

اکرم چودھری صاحب نے گفتگوکے شروع میں ایک خبر بریک کی کہ پی ٹی آئی نے ایک انٹرنل سروے کروایا ہے، جس کے مطابق40فیصد کارکنوں نے کھل کر جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کی مخالفت کی ہے جبکہ باقی چالیس فیصد نے بھی کسی مذہبی جماعت کے ساتھ نہ جانے بارے رائے دی ہے۔انہوں نے بہترین تجزیہ دیا کہ اپوزیشن جماعتوں نے پاکستان کے سیاسی نظام کو یک جماعتی نظام بنا دیا ہے۔ مجھے کہنے میں کوئی عار نہیں کہ سراج الحق کے امیر بننے کے بعد مجھے امید تھی کہ وہ ڈوبتی ہوئی ناؤ کو سہارا دیں گے، مگر ان کے امیر بننے کے بعد بھی جماعت اسلامی دیر اورمنصورہ تک سے الیکشن ہار گئی۔ یہ تو پہاڑ سے لڑھکنے والی بات ہوگئی کہ جب ایک مرتبہ آپ لڑھک گئے تو پھر کہیں نہیں رک پاتے۔ دھرنوں کے دوران سراج الحق کی حکمت عملی کو پی ٹی آئی کی طرف سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ عمران خان نے کہا کہ جماعت وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے کی کوشش کر رہی ہے، جس نے جماعت اسلامی کی اصلاحِ احوال کے لئے مثبت کوششوں کو بھی منفی بنا دیا۔ جماعت اسلامی پی ٹی آئی کے پروپیگنڈے کا موثر جواب نہ دے سکی اور مجھے بھی اپنا وہ کالم یاد ہے، جو مَیں نے سراج الحق اور ملا نصرالدین کے عنوان کے ساتھ لکھا تھا۔ اس وقت یہ بھی کہا گیا کہ سراج الحق مولانا فضل الرحمان بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جیسا کہ مَیں نے ذکر کیا، ریٹائرڈفوجی حضرات بھی اس محفل کا حصہ تھے۔ ایک صاحب ،جن کانام بتانے کامجھے استحقاق نہیں، نے کہا کہ دھرنوں کے موقعے پرجماعت اسلامی کے پاس موقع تھا کہ پرانے پاکستان کو آخری دھکا دینے میں شامل ہوجاتی، پی ٹی آئی کا ساتھ نہ دینا اس کی بڑی غلطی تھی۔ سراج الحق نے وضاحت کی کہ انہیں اعتماد میں ہی نہیں لیا گیا تھا کہ اس سفرکی منزل کیا ہے اور جس طرح شفقت محمود نے ان سے گلہ کیا کہ جماعت اسلامی نے سپیکر کے انتخاب میں سردار ایاز صادق کو ووٹ کیوں دیا کہ وہ تو ان کے اتحادی تھے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی سے شفقت محمود سمیت پوری پی ٹی آئی نے ووٹ مانگنے کے لئے رابطہ ہی نہیں کیا، جبکہ سردار ایاز صادق ہر سطح پر رابطہ کرتے اورووٹ مانگتے رہے،وہ ایک علیحدہ سیاسی جماعت ہیں، کوئی کرائے دار نہیں ہیں۔

میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ سراج الحق کو دھرنوں کے موقعے پرآئین اور جمہوریت کے حق میں زیادہ ’’بلنٹ‘‘ موقف اختیار کرنا چاہئے تھا۔ وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے ایک گفتگو میں مجھے بتایا کہ وہ اس ملاقات میں موجود تھے جب سراج الحق، عمران خان سے ملاقات کے بعد یہ پیکیج لے کر وزیراعظم کے پاس پہنچے کہ دس سیٹوں پر دوبارہ الیکشن کروا دئیے جائیں تو دھرنا ختم ہوجائے گا۔ وزیراعظم نواز شریف نے اس پیش کش کو قبول کر لیا اور کہا کہ آپ حلقوں کی حتمی تفصیل اور دیگر شرائط طے کر لیں اور اس کے بعد سراج الحق غائب ہو گئے۔ جماعت اسلامی کے رہنماوں نے تصدیق کی کہ یہ معاملہ اسی طرح ہوا تھا کہ اصل میں عمران خان ہی غائب ہو گئے تھے۔ میرے خیال میں سراج الحق کو سچ بولنا چاہئے تھا اور بتانا چاہئے تھا کہ نواز شریف اور عمران خان میں سے کون بدعہدی کر رہا ہے، مگر انہوں نے منصفی کے شوق میں اپنے آپ کو ہی مشکوک بنا لیا۔ سراج الحق عمران خان کے ساتھ نہیں کھیلے تو وہ ان کے ساتھ کھیل گئے۔ مجھے اپنے سابق فوجی دانشور بھائی کے مقابلے میں کہنے دیجئے کہ دھرنے کسی طور بھی نئے پاکستان کی جدوجہد نہیں تھے۔ دھرنے اس پرانے پاکستان کو برقرار رکھنے کے لئے تھے، جس میں اسٹیبلشمنٹ کا بڑا کردار تھا۔ آج میں ایک سال پہلے ختم ہونے والے دھرنوں کو دیکھتا ہوں تو اس تجزئیے سے اتفاق نہیں کر سکتا کہ دھرنے ناکام رہے تھے۔سیاسیات کے طالب علم کے طور پر میں قرار دیتا ہوں کہ دھرنے اپنے مقاصد میں پچاس فیصد کامیاب رہے، صرف ایمپائر کی انگلی نہیں اٹھی اورننگا مارشل لاء نہیں لگا۔ اگر اس موقعے پر کوئی نیا پاکستان بنا تو عمران خان اور طاہر القادری کے مقابلے میں ایوان میں موجود سیاسی قوتوں نے بنایا۔پرانے پاکستان کی پارلیمان میں ایسا نہیں ہوتا تھا جیسا ایک برس پہلے ہمارے منتخب ایوانوں میں ہوا۔ اسٹیبلشمنٹ کے پرانے پاکستان کو برقراررکھتے ہوئے اپنے اقتدار کے لئے سڑکوں پر نکلنے والے اسے کرپٹ عناصر کے مُک مکا کا گندا نام دیتے ہیں اور میں اسے جمہوری نظام پرایک مقدس اتفاق رائے قرار دیتا ہوں۔ کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہے؟ اس کا فیصلہ مورخ اس وقت کرے گا جب گرد بیٹھ چکی ہوگی اور جذبات ٹھنڈے ہو چکے ہوں گے۔

( جاری ہے )

مزید :

کالم -