رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا مسئلہ کل تک حل ہونے کا امکان

رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا مسئلہ کل تک حل ہونے کا امکان

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

تمام تر تلخ نوائیوں کے باوجود اس امر کا قوی امکان ہے کہ پیر تک رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرلیا جائیگا۔ یہ اندازہ سندھ کے مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو کی اس بات سے بھی ہو جاتا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ رینجرز اختیارات کے متعلق بے چینی پیدا کرنے کی ضرورت نہیں۔ پیپلز پارٹی رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے خلاف نہیں، اختیارات کا معاملہ آئینی ہے، سندھ کی تمام جماعتیں رینجرز کی حامی ہیں اور یہ یاد رکھنا چاہئے کہ رینجرز کو سندھ حکومت نے ہی کراچی میں آپریشن کے لئے بلایا تھا۔ مولا بخش چانڈیو نے اگرچہ اس بات کی وضاحت کی ہے نہ کسی نے ان سے پوچھا کہ آج تک اس معاملے پر سندھ اسمبلی سے رجوع کیوں نہیں کیا گیا، اور اب اس پر اصرار کی وجہ سندھ حکومت کی آئین پسندی ہے یا سبب کچھ اور ہے؟ ویسے پیر کون سا زیادہ دور ہے ایک دن بعد ہی اگر اس مسئلے نے حل ہو جانا ہے تو وزیر داخلہ چودھری نثار علی خاں کو ہتھ ہولا رکھنا چاہئے تھا، انہوں نے اپنی شعلہ نوائی سے آتش اختلاف کے شعلوں کو ہوا دے کر معاملے کو بہت بڑھا دیا ہے، خصوصاً ایک ایسے وقت میں جب وزیراعظم ترکمانستان گئے ہوئے ہیں، جہاں انہوں نے ’’تاپی‘‘ گیس پائپ لائن کا سنگ بنیاد رکھنا ہے۔ اگر کسی وجہ سے پیر تک یہ مسئلہ حل نہیں بھی ہوتا تو بھی واپسی پر وزیراعظم نواز شریف کو مداخلت کرنا پڑے گی۔ یہ تو واضح ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کو اس مرحلے پر ادھورا نہیں چھوڑا جاسکتا، خود آرمی چیف جنرل راحیل شریف کہہ چکے ہیں کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔ وزیراعظم نواز شریف کا بھی یہی موقف ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر آخری دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہوا تو آپریشن لامحالہ جاری رہنا ہے، اختیارات نہیں بھی ملتے تو بھی یہ سلسلہ کسی دوسرے انداز میں جاری رہے گا۔ سندھ حکومت بھی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے خلاف نہیں، ایم کیو ایم بھی اس کی حامی ہے تو پھر پانی کہاں مرتا ہے؟ ہوا دراصل یوں ہے کہ آپریشن کے اگلے مرحلے میں دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی باری آنے والی ہے جس نے سنسنی کی لہریں بہت دور تک دوڑا دی ہیں۔ جن لوگوں کو یہ خدشہ ہے کہ کہیں ’’سہولت کار‘‘ کی تعریف کی زد میں وہ بھی نہ آجائیں دراصل وہ تشویش میں مبتلا ہیں۔ چودھری نثار علی خاں نے بھی بات اگرچہ وہی کہی ہے کہ ’’کراچی آپریشن میں ہم بہت آگے نکل گئے ہیں اب واپسی ممکن نہیں‘‘ یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن انہوں نے جب یہ کہا کہ سندھ حکومت نے روش نہ بدلی تو وفاقی حکومت کے پاس بہت سے آپشنز موجود ہیں اسے سندھ حکومت دھمکی سے تعبیر کر رہی ہے۔ چودھری نثار علی خاں یہ بات دوسرے طریقے سے بھی کہہ سکتے تھے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ وہ پوزیشن ہے جو دو فریق فائر بندی سے پہلے اپناتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ فائر کر دو، جنگ بندی تو ہو ہی جانی ہے، چودھری نثار علی خاں کو بھی معلوم ہے کہ الفاظ کی یہ جنگ اب اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے اس لئے انہوں نے ذرا تیز الفاظ استعمال کرلئے۔ مولا بخش چانڈیو کہاں چوکنے والے تھے، انہوں نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا لیکن ساتھ امید کا دامن بھی نہیں چھورا اور کہہ دیا کہ پیر تک یہ معاملہ حل ہو جائے گا۔

کراچی میں رینجرز کو بلانے کی ضرورت اس وقت پیش آئی جب 1989ء میں حالات اتنے خراب ہوگئے کہ پولیس کے لئے قابو پانا ممکن نہ رہا، چنانچہ اس وقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے جن کی پارٹی سندھ میں بھی برسراقتدار تھی، رینجرز کو طلب کرکے حالات پر قابو پایا، اب جہاں تک کرپشن کا تعلق ہے اول تو یہ ایک دن میں پیدا نہیں ہوئی، یہ پودا سال ہا سال میں پھیل کر تناور درخت کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ کرپشن روکنے اور اس پر قابو پانے کے لئے صوبائی سطح پر بہت سے ادارے کام کر رہے ہیں جس طرح پولیس بوجوہ اپنے فرائض انجام دینے میں ناکام رہی اسی طرح یہ ادارے بھی اپنے فرائض سے عہدہ برآ نہیں ہوسکے، اگر یہ بھی پولیس کی طرح ناکام نہ ہوئے ہوتے تو رینجرز کو صرف امن و امان تک محدود رکھا جاسکتا تھا، لیکن بات جب دہشت گردوں کے سہولت کاروں تک پہنچی اور یہ معلوم ہوا کہ کرپشن کی رقم کا ایک حصہ کسی نہ کسی انداز میں دہشت گردوں کے تصرف میں چلا جاتا ہے روزانہ وسیع پیمانے پر کرپشن کے ذریعے جو رقم جمع کی جاتی ہے اس میں سے دہشت گرد بھی اپنا حصہ لے اڑتے ہیں اور بعض ہسپتالوں میں زخمی دہشت گردوں کا ’’رعایتی نرخوں‘‘ پر علاج ہوتا ہے تو یہ معاملہ بھی لامحالہ رینجرز کے دائرہ کار میں آگیا، یہ اگر مجرد کرپشن ہوتی اور چند سو یا چند ہزار لوگ اس سے مستفید ہو رہے ہوتے تو شاید رینجرز کو اس میں مداخلت نہ کرنا پڑتی اور نہ صوبائی حکومت کو کوئی شکایت پیدا ہوتی اور نہ اسے رینجرز سے یہ گلہ ہوتا کہ وہ اختیارات سے تجاوز کر رہی ہے۔ یہ شکایت دراصل پیدا ہی اس لئے ہوئی کہ کرپشن یا لوٹ مار کا پیسہ دہشت گردوں کی سرگرمی میں استعمال ہو رہا تھا اور اس کا کھرا ناپتے ناپتے جب رینجرز کچھ لوگوں تک پہنچی تو شور مچ گیا کہ یہ تو اختیار سے تجاوز ہے، حالانکہ جو چیز دہشت گردی پر اکساتی ہے چاہے وہ جائز دولت ہو یا ناجائز، اس کا سراغ لگانا بھی رینجرز کے فرائض میں شامل تھا کیونکہ وہ تو دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانے کے لئے اقدامات کر رہی تھی، جو لوگ رشوت کی کمائی سے دہشت گردوں کو بھتہ دینے میں ملوث ہیں کیا وہ ان کے سہولت کاروں کی ذیل میں نہیں آتے؟

مزید :

تجزیہ -